حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ۔غلامی سے صحابی تک کا سفر
بسم اللہ الرحمن الرحیم
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔۔
امیہ بن خلف مکہ کے سرداروں میں سے ایک اہم سردار تھا جو کفر اور شرک کا بہت بڑا پیشوا اور اسلام اور مسلمانوں کے حق میں روے زمین ایک بہت بڑا شیطان تھا ایک دن اس کو پتہ چلا کہ اس کے کسی غلام نے بتوں کو پوجنے سے انکار کرکے کسی اور کو معبود بنا رکھا ہے اس نے غلام کو فورا بلا کر یہ پوچھا کہ میں نے سنا ہے کہ تم نے کوئی اور معبود بنا لیا ہے سچ سچ بتاؤ کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو غلام نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کی۔امیہ یہ سن کر لال پیلا ہو گیا اور کہنے لگا کہ محمد کی خدا کی پرستش کرنے کا یہ مطلب ہوا کہ تم ہمارے مقدس بتوں کے دشمن بن گئے ہو سیدھی راہ پر آ جاؤ۔ورنہ ذلت کے ساتھ مارے جاؤ گے میں یہ ہرگز برداشت نہیں کر سکتا ہوں کہ تم بتوں کی پوجا کرنے والے کے غلام رہ کر محمد کے خدا کی پرستش کرو وہ غلام جو توحید کا سچے دل سے شیدائی ہو چکا تھا اس نے بے دھڑک امیہ کو جواب دیا کہ میرے جسم پر تو تمہارا زور چل سکتا ہے لیکن میں اپنا دل اور اپنی جان محمد صلی اللہ علیہ وعلی وسلم اور اس کے خدا کے پاس رکھ چکا ہوں ۔۔
اب اللہ کی عبادت ہی میری زندگی کا مقصد ہے اور تمہاری خود سے بنائے ہوئے بتوں کو پوجنا میرے بس کی بات نہیں ہے یہ جواب سن کر امیہ بن خلف غصے سے دیوانہ ہوگیا۔۔ ایک غلام نے اسے بے دھڑک جواب دے دیا تھا اس نے کڑک کر کہا کہ اچھا تو پھر اپنی بے دینی کا مزہ چکو دیکھوں گا میں کہ محمد اور اسکے خدا تجھے کیسے بچاتے ہیں۔امیہ کے تشدد شروع ہوگئے مکہ کی زمین گرمی کی سبب بڑی مشہور تھی۔امیہ اپنے غلام کو دو پہر کی تپتی دھوپ میں زمین پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتا تھا تاکہ وہ کروٹ نہ لے سکے وہ کہتا تھا کہ محمد کے دین سے باز آ جاؤ لیکن اس ظلم کے باوجود بھی اس غلام کے منہ سے سوائے احد احد کے کچھ نہیں نکلتا تھا۔ امیہ مزید غصے میں آکر اذیتیں مزید بڑھتا جاتا امیہ نے اپنے غلام پر ظلم کی انتہا کردی پورا ایک دن اور پوری ایک رات غلام کو بھوک پیاس رکھا اور تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر اسے تڑپنے کا تماشا دیکھتا رہا اس کی یہ کوشش بھی غلام کو حق سے نہ ہٹا سکی آخر تھک ہار کر مکے کی بدمعاش لڑکوں کو بلایا اور ان سے کہا کہ اس غلام کو اتنی اذیت دو کہ یہ محمد اور اس کے خدا کا نام لینا بھول جائے یہ لڑکے امیہ کی خوشی حاصل کرنے کے لئے اس بے بس غلام کو بری طرح مارتے پیٹتے تھے جسم کے کپڑے اتروا کر لوہے کی چادر پہنا کر تپتی دھوپ میں کھڑا کر دیتے تھے لیکن غلام کی زبان سے احد کے سوا کچھ نہیں نکلتا اسلام کی راہ میں یہ بے پناہ اذیت سہنے والے صحابی کوئی اور نہیں بلکہ حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ تھے انہی ظلم و ستم کے دوران ایک دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا ادھر سے گزر ہوا انہوں نے فرمایا اے امیہ اس بے کسوں اور مظلوم پر اتنے ظلم نہ کر اس نے تمہارا کیا بگاڑا ہے۔وہ خدائے واحد کی عبادت کرتا ہے اگر تو اس پر احسان کرے تو یہ احسان آخرت میں تیرے کام آئے گا۔اس نے نہایت حقارت سے کہا کہ میں تمہاری اس خیالی آخرت کے دن کو نہیں مانتا جو میرے دل میں آئے گا میں تو وہی کروں گا آپ اس جواب پر کافی افسردہ ہوئے لیکن پھر بھی آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے سمجھایا کہ اس مظلوم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنا تیری شایان شان نہیں ہے اس پر امیہ نے جواب دیا اگر تم اس کے اتنے ہمدرد ہو تو اس کو مجھ سے خرید کیوں نہیں لیتے۔
اس پر حضرت ابوبکر صدیق جھٹ تیار ہو گئے اور فرمایا کہ بولو کیا دام لو گے۔اس پر امیہ نے کہا تمہارے پاس فلاں غلام ہے وہ مجھے دے دو اور اس کو لے جا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ فورا ہی راضی ہوگئے جبکہ امیہ کا خیال تھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہا غلام دینے سے انکار کر دیں گے مگر آپ فوراً راضی ہو گئے۔اس پر امیہ کو سخت مایوسی ہوئی اور اس نے ساتھ ہی 40 اوقیہ چاندی کی فرمائش کی۔ اسے بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے بخوشی ادا کردیا ۔۔حضرت بلال کو ساتھ لے کر دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور سارا ماجرا کہہ سنایا الصلاۃ والسلام نہایت خوش ہوئے اور فرمایا کہ ابو بکر اس کار خیر میں مجھے بھی شریک کر لو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ یا رسول اللہ میں اسے خدا کی راہ میں آزاد کر چکا ہوں یہ سن کر زبانیں رسالت سے صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے لئے کلمہ رحمت جاری ہو گیا حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے غلامی میں 28 سال گزار دیئے لیکن آپ چونکہ نہایت نیک اور پاکیزہ طبیعت کے تھے لہذا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت توحید دیں تو آپ نے فورا
قبول کر لیا اور یوں آپ سابقون الاولون کے مقدس جماعت میں شامل ہو گئے رہائی پانے کے بعد حضرت بلال ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتے تھے اور دل و جان سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت بجا لاتے آپ صلاۃ و سلام حضرت بلال کو کسی بھی چیز کا حکم دیتے تو آپ اپنی جان بھی لگا دیتے ہیں آپ غزوہ بدر سے لے کر غزوہ تبوک تک تمام غزوات میں شامل رہے لیکن حضرت بلال کی اسلام کے لیے سب سے بڑی خدمت اور ان کے لیے سب سے بڑی سعادت اسلام کا سب سے پہلا موذن ہونا ہے۔ہجرت کے بعد جب مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیر ہوئی تو آپ صلوۃ السلام نے آپ کو آذان دینے کا ذمہ سونپا۔ آپ کی آواز نہایت ہی دل نشیں تھی اور اس میں ایک ایسی تاثیر تھی کہ اذان کی آواز سن کر لوگ سب کام چھوڑ کر مسجد کی طرف دوڑتے۔8 ھ میں جب مکہ فتح ھوا تو کعبے کو بتوں سے پاک کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال سے فرمایا اے بلال کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دو اور یہ مبارک سلسلہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ تک اسی محبت اور عقیدت کے ساتھ جاری رہا لیکن 11 ہجری میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر آخرت اختیار کر لیا تو اس عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور مدینہ میں رہنا اب آپ کے لیے دشوار ہوگیا آپ کو ہر وقت پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد ستاتی رہتی تھی آپ صلاۃ وسلام سے آپ نے سنا ہوا تھا کہ مومن کے لیے سب سے افضل عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے لہذا آپ رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جہاد پر جانے کی اجازت طلب کی لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کو خدا کا واسطہ دے کر کہا کہ مجھے اس بڑھاپے میں تنہا چھوڑ کر مت جاؤ تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اس شرط پر ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی بات مان لیں کہ اب وہ رسول اللہ کے بعد کسی کے لیے اذان نہیں دے گے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کی یہ بات مان لیں لیکن آپ کے دور خلافت کے بعد خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں بھی جب بیت المقدس کی تسخیر کے لئے یروشلم جانا پڑا تو وہاں عیسائیوں سے صلح نامہ طے پانے کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک خطبہ دیا اور حضرت بلال سے درخواست کی کہ آج جب کہ قبلہ اول پر توحید کا پرچم لہرا دیا ہے تو اس باعظمت موقع پر اذان دے تو ہم آپ کے مشکور رہیں گے۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ نےاذان دینی شروع کیں تو صحابہ کرام کو عہد نبوی کی مبارک یاد تازہ ہوگئی اور ان پر رقت طاری ہو گئی شام کے معرکے کے بعد حضرت بلال نے شام ہی کے گاؤں میں رہائش اختیار کر لی کیونکہ مدینے میں ہر وقت آپ کو آپ صلوۃ السلام کی یاد ستاتی رہتی تھی لیکن ایک دن آپ نے خواب میں آپ صلوۃ وسلم کی زیارت کی آپ ان سے فرما رہے تھے کہ اے بلال کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ تم ہماری زیارت کے لئے آؤں اس خواب نے آپ کو بہت تڑپا دیا اور اب بے تاب ہو کر فورا مدینہ روانہ ہوئے۔مدینے پہنچ کر حضرت بلال نے روضہ اقدس پر حاضری دی اور اس درد سے روئے کہ حاضرین بھی اشکبار ہو گئے وہی امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ بھی موجود تھے نانا کے پیارے نواسوں کو اپ نے اپنے ساتھ لگایا۔حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ اور حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ سے اذان فجر کی فرمائش کی۔اگلے دن جب فجر کے وقت اذان دینا شروع کی لوگوں کی عہد رسالت کی یاد تازہ ہوگئی اور لوگ اس طرح روتے ہوئے مسجد کی جانب چلنے لگے جیسے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا دور واپس آگیا ہوں ایسا دردناک منظر اس کے علاوہ کبھی دیکھنے میں نہیں آیا حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ نے ساٹھ سال کی عمر میں وفات پائی آپ کا مزار دمشق میں ہے آپ کو دربار رسالت میں خاص مقام حاصل تھا۔ ہم سب اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں بھی حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ کی صفات میں سے کچھ عطا فرما دے آمین
Comments
Post a Comment