Posts

Showing posts from December, 2024

خاص اوقات:جب آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔۔

 بسم اللہ الرحمن الرحیم شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ دوستو! آج ہم آپ کو پانچ خاص اوقات کے بارے میں بتائیں گے جن میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ یہ وہ اوقات ہیں جن میں ہمیں اللہ سے دعا مانگنی چاہیے۔ 1. ظہر سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سورج ڈھلنے تک آسمان کے دروازے کھلے رہتے ہیں اور ظہر کی نماز کے بعد بند ہو جاتے ہیں۔ اس وقت میں کی گئی دعا قبول ہوتی ہے۔ 2. اذان کے وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اذان ہوتی ہے تو آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اس وقت دعا قبول ہوتی ہے۔ 3. دو نمازوں کے درمیان انتظار رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کیا جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور فرشتے خوش ہو کر دیکھتے ہیں۔ 4. نصف رات کا وقت  آدھی رات کے وقت ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے:ہے کوئی دعا کرنے والا؟ہے کوئی سوال کرنے والا؟ہے کوئی پریشانی میں مبتلا جس کی مشکل حل کی جائے؟اس وقت اللہ ہر دعا قبول فرماتے ہیں ۔5. دعائے استفتاح کے کلمات۔۔ نماز میں یہ کلمات پڑھنے سے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہ...

قوم نوح کے بت

 قوم نوح کے بت دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ شیطان نے ہمیشہ انسان کو اللہ کی عبادت سے ہٹانے کی کوشش کی ہے۔ قوم نوح علیہ السلام سے لے کر عرب کے مشرکین تک، انسان شیطان کے فریب میں آ کر نیک لوگوں کی محبت میں ان کی پوجا کرنے لگا۔ یہ داستان نہ صرف ایمان کو جھنجوڑنے والی ہے بلکہ ہمارے لیے ایک عظیم سبق بھی رکھتی ہے کہ کس طرح توحید سے دوری انسان کو شرک کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔ قوم نوح کے  پانچ نیک اور بزرگ انسان تھے، جن کے انتقال کے بعد لوگوں نے ان کے نام پر بت بنا لیے۔ ان کے نام یہ ہیں:1. ود2. سواع3. یغوث4. یعوق 5. نسریہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے کے نیک اور صالح انسان تھے، جن کی پرستش کی جانے لگی۔ (صحیح بخاری: 2/732)لات: ایک بزرگ تھے جو حاجیوں کو ستو پلایا کرتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے نام پر بت بنایا گیا۔ (صحیح بخاری: ج 2/ ص 721)منات اور عزا عرب کے مشہور بت تھے، جنہیں مشرکین پوجتے تھے۔جب 8 ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو اس وقت کعبہ میں 360 بت نصب تھے۔ ان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تصویریں بھی تھیں، جن کے ہاتھوں میں لاٹری کے نیزے دکھ...

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، صحابی رسول ﷺ

 بسم اللہ الرحمن الرحیم شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں ایسے لوگ گزرے ہیں جنہیں "محدث" کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوتے تھے۔ اگر اس امت میں کوئی محدث ہوگا تو وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوں گے۔ اس سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان بھی واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نے فرمایا، اگر ہم نے کسی معاملے میں رائے دی تو اللہ تعالیٰ کی وحی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق نازل ہوئی۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں نے خواب میں دیکھا کہ قضا و قدر کے فرشتے ایک کنویں میں ڈول ڈال رہے ہیں۔ پہلے میں نے اس ڈول سے اتنا پانی نکالا جتنا اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ڈول پکڑا اور پانی نکالنا شروع کیا۔ وہ آہستہ آہستہ پانی نکال رہے تھے، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت کرے۔ اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پانی نکالنا شروع کیا۔ میں نے ان سے زیادہ طاقتور کسی کو نہیں دیکھا۔ انہوں ...

امام ابو حنیفہ کا ایک عجیب خواب

 امام ابو حنیفہ نے ایک عجیب خواب دیکھا جس میں انہوں نے دیکھا کہ ایک سور ایک درخت کو گرانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اسی درخت سے ایک شاخ نکل کر سور کو مارتی ہے۔ پھر وہ سور ایک نیک انسان میں بدل جاتا ہے اور اللہ کی عبادت کرنے لگتا ہے۔جب امام ابو حنیفہ جاگے، تو وہ خواب کی تعبیر جاننے کے لیے اپنے استاد شیخ حماد بن سلمان کے پاس گئے۔ اس وقت ان کی عمر صرف بارہ سال تھی۔ لیکن جب وہ پہنچے تو دیکھا کہ شیخ بہت پریشان ہیں۔ امام ابو حنیفہ نے وجہ پوچھی تو شیخ نے بتایا کہ خلیفہ نے انہیں ایسے لوگوں سے مناظرے کے لیے بلایا ہے جو اللہ کے وجود کو نہیں مانتے۔ شیخ فکر مند تھے کہ وہ اللہ کی ذات پر بحث کیسے کریں۔امام ابو حنیفہ نے کہا کہ وہ شیخ کی جگہ جانے کو تیار ہیں۔ اگر وہ کامیاب ہوئے تو یہ ان کے استاد کے لیے باعثِ عزت ہوگا، اور اگر ناکام ہوئے تو وہ تو صرف ایک طالبعلم ہیں۔ شیخ نے اجازت دے دی اور امام ابو حنیفہ خلیفہ کے دربار پہنچ گئے۔مناظرہ شروع ہوا، اور مخالفین نے سوال کیا:1. کیا تم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟امام نے کہا: "میرا رب آنکھوں سے نظر نہیں آتا، لیکن وہ سب کو دیکھتا ہے۔"2. تمہارا رب کہاں ہے؟اما...

حضرت عیسی علیہ السلام، آسمانی دسترخوان

 بسم اللہ الرحمن الرحیم ایک دفعہ حضرت عیسی علیہ السلام سے ان کے حواریوں نے یہ عرض کیا کہ اے عیسیٰ ابن مریم کیا آپ کا رب یہ کر سکتا ہے کہ وہ آسمان سے ہمارے پاس ایک دستر خوان اتار دے؟ تو حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا کہ اس طرح کی نشانی طلب کرنے سے اگر تم مومن ہو تو خدا سے ڈرو۔۔ یہ سن کر حواریوں نے کہا کہ ہم نشانیاں طلب کرنے کے لیے یہ سوال نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم پیٹ بھر کر خوب کھائیں ہم کو اچھی طرح آپ کی صداقت کا علم ہو جائے تاکہ ہمارے دلوں کو قرار اور سکون مل جائے۔۔ حواریوں کی اس درخواست پر حضرت عیسی علیہ السلام نے بارگاہ خداوندی میں اس طرح دعا کی۔۔ ترجمہ " اے رب ! ہم پر آسمان سے خواں اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے"۔۔۔۔ (المائدہ 114)حضرت عیسی علیہ السلام کی دعا پر اللہ تعالی نے فرمایا کہ دسترخوان تو اتار دوں گا لیکن اس کے بعد نبی اسرائیل میں سے جو کفر کرے گا اس ایسا عذاب دوں گا کہ تمام جہان والوں میں سےکسی کو ایسا عذاب نہیں دوں گا چنانچہ اللہ تعالی کے حکم سے چند فر...

حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ۔غلامی سے صحابی تک کا سفر

 بسم اللہ الرحمن الرحیم  شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔۔ امیہ بن خلف مکہ کے سرداروں میں سے ایک اہم سردار تھا جو کفر اور شرک کا بہت بڑا پیشوا اور اسلام اور مسلمانوں کے حق میں روے زمین ایک بہت بڑا شیطان تھا ایک دن اس کو پتہ چلا کہ اس کے کسی غلام نے بتوں کو پوجنے سے انکار کرکے کسی اور کو معبود بنا رکھا ہے اس نے غلام کو فورا بلا کر یہ پوچھا کہ میں نے سنا ہے کہ تم نے کوئی اور معبود بنا لیا ہے سچ سچ بتاؤ کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو غلام نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کی۔امیہ یہ سن کر لال پیلا ہو گیا اور کہنے لگا کہ محمد کی خدا کی پرستش کرنے کا یہ مطلب ہوا کہ تم ہمارے مقدس بتوں کے دشمن بن گئے ہو سیدھی راہ پر آ جاؤ۔ورنہ ذلت کے ساتھ مارے جاؤ گے میں یہ ہرگز برداشت نہیں کر سکتا ہوں کہ تم بتوں کی پوجا کرنے والے کے غلام رہ کر محمد کے خدا کی پرستش کرو وہ غلام جو توحید کا سچے دل سے شیدائی ہو چکا تھا اس نے بے دھڑک امیہ کو جواب دیا کہ میرے جسم پر تو تمہارا زور چل سکتا ہے لیکن میں اپنا دل اور اپنی جان محمد صلی اللہ علیہ وعلی وسلم اور اس کے خدا کے ...

حضور اکرمﷺ چند مفید باتیں

  حضور اکرمﷺ چند مفید باتیں 1۔۔نبی کریمﷺ نے ایک شخص کو دھوپ میں بیٹھے دیکھا تو فرمایا: ” سائے میں بیٹھو کہ یہ برکت ہے۔“حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " سائے کے کنارے پر یعنی آدھے دھوپ میں اور آدھے چھاؤں میں مت بیٹھو کہ وہ جگہ شیطان کی مجلس کی ہوتی ہے۔“ 2۔۔ارشاد نبویﷺ ہے: "تحریر لکھ کر اس پر مٹی ڈال دو کہ اس طرح وہ جلد سوکھ جاتی ہےاور مٹی میں برکت ہے۔“ 3۔۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”نبی کریمﷺ کو جب کوئی کام ہوتا تھا تو ایک دھاگے میں گرہ لگا کر اسے ہاتھ میں تھام لیتے تھے۔ اس دھاگے کو ریتیمہ کہتے تھے۔تا کہ بات یادر ہے۔ 4۔۔ایک دفعہ آپ ﷺکسی کو یاد کرنے کی کوشش کر رہے تھے پر وہ یاد نہ آرہا تھا۔ تو پاس بیٹھے ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! میں اس کی شکل پہچانتا ہوں۔ فرمایا: یہ معرفت نہیں ۔ یعنی جب تک کسی کا نام نہ آتا ہو اس کی معرفت نہیں ہوگی 5۔۔ارشاد نبویﷺ ہے(رات کو سوتے وقت ) دروازہ بند کر دو، مشکیزہ کا منہ باندھ دوچراغ بجھا دو کہ چوہیا ( چراغ کی جلتی بتی لے کر ) گھر والوں کے گھر کو ان پر جلادیتی ہے۔" 6۔۔نبی کریم ﷺ عیدگاہ پیدل جایا کرتے تھے اور ایک رس...

قیصر روم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ

  قیصر روم کے سوالات اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جوابات سبط ابن جوزی نے اپنی کتاب تذکرۃ الخواص میں لکھا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ بات کب کہی کہ "میں اسی مشکل سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں جس کے حل کرنے کے لیے ابوالحسن رضی اللہ عنہ میرے پاس نہ ہوں"۔ اس کی وجہ احمد نے اپنی کتاب فضائل میں یہ لکھی ہے کہ قیصر ورم نے چند سوالات لکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجے لیکن آپ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ جواب دے نہ سکے۔ بالآخر وہ سوال حضرت علی رضی اللہ عنہ، کے پاس آئے تو آپ نے بغیر دیر کے مختصر وقت میں تمام سوالات کے جواب ارشاد فرمائے ۔  سوال یہ تھے: سوالات کی تفصیل☆۔۔۔وہ کونسی چیز ہے جسے خدا نے پیدا نہیں کیا ؟ ☆۔۔۔وہ کونسی چیز ہے جسے خدا نہیں جانتا؟☆۔۔۔وہ کونسی چیز ہے جو خدا کے پاس نہیں ہے؟☆۔۔وہ کونسی چیز ہے جو سب کے سب بال ہیں؟☆۔۔وہ کونسی چیز ہے جس کا صرف منہ ہی منہ ہے؟☆۔۔وہ کونسی چیز ہے جس کے صرف پاؤں ہی پاؤں ہیں؟☆۔۔وہ کونسی چیز ہے جس کی صرف آنکھیں ہی آنکھیں ہیں؟ ☆۔۔۔وہ کونسا شخص ہے جس کا خاندان نہیں ☆۔۔۔وہ کونسی چیز ہے جو شکم مادر میں نہیں رہیں ؟ ☆۔۔۔وہ کونسی بے جان چ...

اصحاب رس،صنوبر پرست قوم

 اصحاب رس ایک صنوبر پرست قوم تھی ، صنوبر کو شاہ درخت بھی کہتے ہیں اور اسے یافث بن نوح نے اُگایا تھا اور وہ درخت ان کے زمانے تک ویسے کا ویسا سر سبز و شاداب تھا، یہ درخت ایک روشناب نامی چشمہ کے کنارے واقعہ تھا اور یہ درخت سلیمان بن داؤد کے بعد بھی باقی تھا، اور یہ اصحاب رس آذر بائیجان کے قریب رو دارس“ کے علاقہ میں نمودار ہوئے۔ ارس نامی نہر کے کنارے بارہ شہر آباد کئے گئے تھے اور یہ سب کے سب کوہ البرز، کے دامن میں واقع تھے، اس زمانے میں کوئی نہر بھی نہر ارس سے زیادہ میٹھی اور پر رونق نہ تھی اور ان کے آباد کردہ شہروں میں زیادہ کوئی شہر بھی زیادہ پر رونق اور پر کیف نہ تھا، ان کے آباد کردہ بارہ شہروں کے نام یہ تھے:(۱) آبان (۲) آر (۳) دی (۴) جهمن (۵) اسفند یار (۲) فروردین (۷)اردیبهشت (۸) خردار (۹) مرداد (۱۰) تیر (۱۱) مهر (۱۲) شہر یور۔-۔ ان میں سے اسفند یار اس زمانے کے بادشاہ کا دار الحکومت تھا، اس بادشاہ کا نام ترکوز بن غابور تھا، بعض مورخ اس کا نسب آل ثمود سے اور بعض نمرود کے ساتھ ملاتے ہیں، یہ بادشاہ ایک دوسرے بادشاہ بیژن بن گودرز کا ٹیکس گزار تھا، انہوں نے صنوبر کے درخت ہر شہر میں اگا ر...

مقدس پتھر

 بسم اللہ الرحمن الرحیم  شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔ مقام ابراہیم ایک مقدس پتھر ہے جو کعبہ معظمہ سے چند گز کی دوری پر رکھا ہوا ہے۔ یہ وہی پتھر ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبہ کی تعمیر فرما رہے تھے تو جب دیواریں سر سے اونچی ہوگئیں تو اسی پتھر پر کھڑے ہوکر آپ نے خانہ کعبہ کی دیواروں کو مکمل فرمایا یہ آپ کا معجزہ تھا کہ یہ پتھر موم کی طرح نرم ہو گیا اور آپ کے دونوں مقدس قدموں کا اس پتھر پر بہت گہرا نشان پڑ گیا۔۔ آپ کے قدموں کے مبارک نشان کی بدولت اس مبارک پتھر کی فضیلت و عظمت میں اس طرح چار چاند لگ گئے کہ خدا تعالی نے اپنی کتاب مقدس قرآن مجید میں دو جگہ اس کا ذکر فرمایا ہے۔۔۔۔ ایک جگہ پر آیا ہے کہ کعبہ مکرمہ میں خدا کی بہت سی روشن اور کھلی ہوئی نشانیاں ہیں اور نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی""" مقام ابراہیم"" ہے دوسری جگہ اس پتھر کی عظمت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ۔۔ چار ہزار برس کے طویل زمانے سے اس بابرکت پتھر پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدم مبارک کے نشان م...

علوی فرقہ

 بسم اللہ الرحمن الرحیم  شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ شام کے دارالحکومت دمشق میں باغی گروہ ’ہیئت تحریر الشام‘ اور دیگر باغیوں کے قبضے کے بعد بشار الاسد کے 24 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد شام میں موجود علوی فرقے کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ بشار الاسد اور ان کے والد حافظ الاسد، دونوں کا تعلق علوی فرقے سے تھا۔ یہ فرقہ شام میں ایک اقلیتی گروہ ہے، لیکن پچھلے 50 سالوں تک ایک سنی اکثریتی ملک پر ان کی حکومت رہی۔ علوی فرقے کے عقائد کے بارے میں عام طور پر بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ شام میں علوی فرقے کے افراد کی آبادی کا اندازہ 10 سے 13 فیصد کے درمیان لگایا جاتا ہے۔ 1970 میں حافظ الاسد نے ایک فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار حاصل کیا اور علوی فرقے کے افراد کو اہم حکومتی عہدوں اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعینات کیا۔ علوی فرقے کا آغاز نویں اور دسویں صدی کے دوران شام میں ہوا۔ اس فرقے کو پہلے "نصیریہ" کہا جاتا تھا۔ تاریخ کے مطابق، علویوں نے صلیبی جنگوں اور مختلف مظالم کے بعد شام میں اپنی جگہ بنائی۔ علوی کے معنی ہیں "حضرت...

عشق کے درجات

 عشق، ایک ایسا عظیم جذبہ ہے جو انسان کو اپنی ذات سے نکال کر محبوب کی طرف لے جاتا ہے۔ حضرت خواجہ بندہ نواز رحمتہ اللہ علیہ نے عشق کے پانچ درجات بیان کیے ہیں جو انسان کو اپنے روحانی سفر میں مکمل بنا دیتے ہیں۔ شریعت عشق کا پہلا درجہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ محبوب (اللہ تعالیٰ) کی صفات کو سننا، ان کے حسن و جمال کی باتیں سن کر دل میں محبت اور شوق پیدا کرنا۔ اس درجہ میں انسان کے دل میں طلبِ محبوب کی چنگاری روشن ہوتی ہے۔ طریقت عشق کا دوسرا درجہ ہے، جس میں انسان اپنے محبوب کی تلاش میں نکلتا ہے۔ وہ محبوب کی راہ پر چلتا ہے اور اپنے اعمال کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالتا ہے۔ اس راہ میں مجاہدہ اور قربانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ حقیقت عشق کا تیسرا درجہ ہے، جہاں انسان ہر وقت محبوب کے خیال میں گم رہتا ہے۔ اس کا دل اور دماغ محبوب کے ذکر اور یاد سے کبھی خالی نہیں ہوتا۔ عاشق کی زندگی کا مقصد صرف محبوب کی محبت ہوتا ہے۔ معرفت عشق کا چوتھا درجہ ہے، جہاں عاشق اپنی مراد اور خواہشات کو محبوب کی رضا میں فنا کر دیتا ہے۔ عاشق کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ وہ محبوب کی مراد کے مطابق زندگی گزارے اور اپنی ذات کو بھلا دے۔ وحدت عش...

حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ

 بسم اللہ الرحمن الرحیم  شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔۔ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ امامِ سوم اور ابوالائمہ کہلاتے ہیں۔ آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور لقب شہید و سید ہے۔ آپ کی ولادت شعبان 4 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کی مدتِ حمل صرف چھ مہینے تھی، اور حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے علاوہ کوئی بچہ چھ ماہ کے حمل کے بعد زندہ نہیں رہا۔آپ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت کے صرف پچاس دن بعد حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک میں جلوہ گر ہوئے۔ آپ کی ولادت کی خوشخبری سن کر رسول اللہ ﷺ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے۔ نبی کریم ﷺ نے آپ کے کانوں میں اذان دی، اپنا مبارک لعاب دہن آپ کے منہ میں ڈالا، دعا دی اور آپ کا نام "حسین" رکھا۔حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا حسن و جمال ایسا تھا کہ اندھیرے میں بھی آپ کے چہرے کی روشنی ہر طرف پھیل جاتی۔ آپ کا جسم مبارک رسول اللہ ﷺ سے بہت مشابہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ جو حسین سے محبت کرے گا، میں بھی اس سے محبت کروں گا کیونکہ حسین ...

حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم  شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ حضرت جنید بغدادی  کے ماموں اور استاد تھے۔۔۔ آپ معروف کرخی علیہ الرحمتہ کے شاگرد تھے :آپ کی ولادت تقریباً155ھ میں بغداد میں ہوئی آپ کا نام’ سری‘ اور کنیت ابو الحسن ہے’ سری سقطی‘ کے نام سے مشہور ہوئے آپ کے والد گرامی کا نام حضرت مغلس تھا آپ کا دور بنو عباس کا سنہری دور تھا اور بغداد اس وقت علم و فن کا مرکز تھا۔آپ بغداد کے بازار میں سقط ( کباڑ ) فروشی کرتے تھے کسی وجہ سے جب بغداد کا یہ بازار جل گیا تو لوگوں نے خبر دی آپ کی دکان بھی جل گئی ہے ۔ آپ نے فرمایا میں اس کی فکر سے آزاد ہو گیا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ ان کی دکان محفوظ ہے اور اس کے ارد گرد کی تمام دکانیں جل گئی ہیں تو آپ کو اس کی خبر دی آپ دکان پر تشریف لائے اسے سلامت دیکھ کر اس کا تمام مال و اسباب فقراء میں تقسیم کر دیا اور تصوف کی راہ اختیار کرلی۔ ۔ایک دفعہ حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمتہ کہتے ہیں کہ میرا ایک دن حضرت سری سقطی کے پاس سے گزر ہوا۔شیخ سری سقطی رور ہے تھے۔ میں نے پوچھا: آپ کو کس چیز نے رولا...

حضرت ہرم بن حیان رحمۃ اللہ علیہ

 بسم اللہ الرحمن الرحیم  شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے..اللہ تعالی نے اس دنیا میں بہت سے بزرگان دین کو لوگوں کی خدمت اور سیدھی راہ دکھانے کے لئے بھیجا ہے ان میں سے ایک نام حضرت حرم بن حیان نام کا ہے۔۔۔ حضرت ہرم بن حیان رحمۃ اللہ علیہ کا شمار بزرگان طریقت میں ہوتا ہے آپ صاحب حال تھے۔ آپ کو اکابر صحابہ کرام کی خدمت کرنے کا شرف حاصل ہو ا اور ان کی صحبت میں رہے۔ حضرت ہرم بن حیان رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ حضرت سیدنا اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کی زیارت کے ارادے اسے قرن تشریف لائے مگر حضرت سیدنا اویس قرنیؓ وہاں سے جا چکے تھے۔ واپس مکہ مکرمہ پہنچے تو پتہ چلا کہ حضرت اویس قرنی ؓ کوفہ میں ہیں حضرت ہرم بن حیان کوفہ پہنچے مگرحضرت اویس قرنی ؓ سے ملاقات نہ ہو سکی۔  کافی عرصہ وہاں مقیم رہے۔ جب کوفہ سے بصرے کے لیے روانہ ہوئے تو راستے میں حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کی زیارت نصیب ہوئی۔ دیکھا کہ آپ فرات کے کنارے وضو کر رہے ہیں اور آپ نے گدڑی پہن رکھی ہے ۔جب آپ وضو کرکے اٹھے تو ریش مبارک میں کنگھی کرنے لگے۔ حضرت ہرم نے آگے بڑھ کر سلام کیا...

اویس قرنی ؒ کون تھے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم  شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے..  حضرت سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے۔ سرکار دو عالم ﷺ نےارشاد فرمایا: ”بےشک، اللہ پاک اپنے بندوں میں سے انہیں زیادہ پسند فرماتا ہے جو مخلص، پرہیزگار اور گم نام ہوتے ہیں۔ جن کے چہرے گرد آلود، بھوک کی وجہ سے پیٹ کمر سے ملے ہوئے، اور بال بکھرے ہوئے ہوں۔ اگر وہ امراء کے پاس جانا چاہیں تو انہیں اجازت نہ ملے۔ اگر کسی محفل میں موجود نہ ہوں تو کوئی ان کے متعلق سوال نہ کرے۔ اگر موجود ہوں تو کوئی انہیں اہمیت نہ دے۔ اگر وہ کسی سے ملاقات کریں تو لوگ ان کی ملاقات سے خوش نہ ہوں۔ اگر وہ بیمار ہو جائیں تو کوئی ان کی عیادت نہ کرے، اور جب مر جائیں تو لوگ ان کے جنازہ میں شریک نہ ہوں۔“صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا :”یا رسول اللہ ﷺ! ایسے لوگوں سے ہماری ملاقات کیسے ہو سکتی ہے؟“آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” اویس قرنیؒ انہی لوگوں میں سے ہیں۔“ صحابۂ کرام ؓنے عرض کیا: ”یا رسول اللہ ﷺ! اویس قرنی ؒ کون ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ”اس کا قد درمیانہ، سینہ چوڑا، رنگ شدید گندمی، داڑھی سینے تک پھیلی ہوئی۔ اس کی نگاہیں جھکی جھ...

حضرت بہلول دانا ؒاور خلیفہ ہارون الرشید

  بسم اللہ الرحمن الرحیم  شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.. بہلول ایک فلاسفر، ولی کامل اور تارک الدنیا درویش کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ ان کا کوئی گھر یا ٹھکانہ نہیں تھا، شہر میں ننگے پاؤں پھرتے اور جس جگہ تھک جاتے، وہیں ڈیرہ ڈال لیتے۔ بعض لوگوں نے انہیں مجذوب بھی لکھا ہے کیونکہ وہ عشق الٰہی میں گم اور اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوتے تھے۔۔ ۔کوفہ میں پیدا ہونے والے بہلول کا اصل نام وہب بن عمرو اور تعلق عرب قبیلے بنو امان سے تھا۔۔ خلیفہ ہارون الرشید سے ان کی ملاقات 188 ہجری میں سفر حج کے دوران کوفہ میں ہوئی، جس کا ذکر امام ابن کثیر نے بھی کیا ہے۔ بہلول نے ہارون کو جو نصیحتیں کیں ان سے متاثر ہو کر وہ انہیں اپنے ساتھ بغداد لے آیا اور پھر بہلول کا ٹھکانہ بغداد کی گلیاں ہی رہیں۔ بہلول کا مزار بھی بغداد میں ہی ہے جس کے ایک گوشے کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں سکھ مذہب کے بانی گرو نانک نے چلہ کاٹا تھا۔ آج کی اس ویڈیو میں ہم بہلول دانا کی دانائی کے کچھ واقعات بیان کریں گے۔ویڈیو کی طرف جانے سے پہلے آپ سے گزارش ہے ویڈیو کو لائک اور چینل کو سبسکرائب کرنا ...

حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ

 بسم اللہ الرحمن الرحیم  شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ بارہ ائمہ میں سے دوسرے امام ہیں۔ آپ کی کنیت ابو محمد اور القاب تقی اور سید ہیں۔آپ 15 رمضان المبارک، 3 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ کا نام جنت کے ایک عمدہ کپڑے پر لکھ کر رسول اللہ ﷺ کو پیش کیا۔ آپ کا چہرہ مبارک اور ظاہری شکل و صورت رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی تھی۔ ایک دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کو کندھوں پر اٹھایا اور قسم کھا کر کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے ہم شکل ہیں، لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نہیں۔ یہ سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ مسکرا دیے۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں پچیس مرتبہ پیدل حج کیا۔ایک دن رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کبھی لوگوں کی طرف دیکھتے اور کبھی حضرت امام حسن کی طرف۔ پھر فرمایا: "یہ میرا بیٹا سید ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کروائے گا۔" یہ پیش گوئی حضر...

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی زندگی کے واقعات | The Life of Imam Jafar Sadiq (RA)

 بسم اللہ الرحمن الرحیم  شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.   حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے پوتے اور حضرت امام محمد باقر رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔ آپ کی والدہ حضرت ام فردہ تھیں، جو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت قاسم بن محمد کی بیٹی تھیں۔ حضرت ام فردہ کی والدہ حضرت اسماء، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبد الرحمن کی بیٹی تھیں۔ اسی لیے آپ فرمایا کرتے تھے کہ "ولدنی ابوبکر مرتین" یعنی میں دو مرتبہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے منسلک ہوں: ایک ظاہری طور پر (میرے نسب سے) اور دوسرا باطنی طور پر (علم دین کی وجہ سے)۔ آپ کی ولادت 13 ربیع الاول 80 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کو "صادق" یعنی سچا کہنے کی وجہ آپ کی سچائی اور دیانت تھی۔ آپ کی امامت اور قیادت کو سب نے تسلیم کیا۔ ایک مشہور قول ہے کہ جب کوئی آپ کو دیکھتا تو فوراً سمجھ جاتا کہ آپ خاندان نبوت سے تعلق رکھتے ہیں۔آپ کا شجرہ نسب یوں ہے:حضرت امام جعفر صادق بن حضرت امام محمد باقر بن حضرت امام زین العابدین بن حضرت امام حسین بن...

Hazrat Imam Hussan Busri || امام حسن بصریؒ

 بسم اللہ الرحمن الرحیم  شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے...  ..حضرت حسن بصری کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔۔ آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ صحابہ کرام کی صحبت میں گزرا۔اہل طریقت کے ہاں آپ بہت بڑے مقام و مرتبے کے مالک ہیں . میسان کی جنگ میں مسلمان سپاہیوں کو جو قیدی ہاتھ لگے، اُن میں موسیٰ راعی (بعض مؤرخین نے اُن کا نام یسار لکھا ہے) اور ایک خاتون، خیرہ بھی تھی۔ موسیٰ راعی،معروف صحابیؓ،حضرت زید بن ثابت انصاریؓ اور خیرہ ،اُمّ المومنین، حضرت اُمّ ِ سلمہؓ کے سُپرد ہوئیں۔ بعدازاں، اِن دونوں کو آزاد کردیا گیا اور پھر دونوں نے آپس میں شادی کرلی۔ اُن ہی کے بطن سے 21ھ، 642ء میں مدینہ منوّرہ میں حسن بصریؒ پیدا ہوئے۔ گویا اُن کے والدین آزاد کردہ غلام تھے۔یہ حضرت عُمر فاروقؓ کا دَورِ خلافت تھا۔نومولود کو اُن کی خدمت میں لایا گیا، تو اُنھوں نے اُس کے منہ میں کھجور چبا کر ڈالی اور دُعا فرمائی ’’ اے اللہ! اِسے دین کے علم کا ماہر اور لوگوں میں محبوب بنا۔‘‘اور پھر دنیا نے اِس دُعا کی قبولیت اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔ نیز، حضرت عُمر فاروقؓ نے یہ بھی فرمایا،’’...

حضرت ابراہیم بن ادہم رحمتہ اللہ علیہ

Image
بسم اللہ الرحمن الرحیم  شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔حضرت شیخ ابو اسحاق ابراہیم بن ادہم بن منصور رحمتہ اللہ علیہ ہم عصروں کے پیشوا اور مروان طریقت کے شہنشاہ تھے۔۔۔۔۔آپ حضرت خضر علیہ السلام کے مرید تھے آپ نے کئی مشائخ کی زیارت کی اور ان کی صحبت سے فیض اٹھایا، زیادہ اٹھنا بیٹھنا حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے تھا۔۔انہی سے آپ نے علم حاصل کیا۔۔۔ آپ خراسان میں ایک بادشاہ کے بیٹے تھے اور شکار کے دلدادہ تھے ایک دفعہ شکار کیلئے نکلے اسی دوران ایک لومڑ کے پیچھے لگ گئے آور لشکر سے بچھڑ گئے۔۔۔ایک ندا دینے والے نے پکارا! اے ابراھیم تجھے اس کام کے لیے پیدا نہیں کیا اور نہ تجھے اس کا حکم دیا گیا ہے۔۔یہ بات آپ کی توبہ کا سبب بنی۔۔آپ سواری سے اتر پڑے اور راستے میں اپنے والد کے چرواہے سے ملے ۔چرواہے سے جبہ لیا،اسے زیب تن کیا اور اپنے کپڑے اسے دے دیے پھر آپ عراق آ گئے اور کئی روز وہاں کام کرتے رہے لیکن وہاں انہیں خالص حلال رزق نہ ملا تو آپ نے ایک شیخ سے حلال رزق کے متعلق دریافت کیا۔۔ تو اس نے آپ کو شام کی طرف آپ کی رہنمائی کی وہاں آپ نے کئی روز...

حضرت خواجہ حبیب عجمی رحمتہ اللہ علیہ

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے حضرت خواجہ حبیب عجمی کا اصل نام حبیب اور کنیت ابو محمد تھی۔ آپ ریاضات و کرامات کے لحاظ سے بہت اونچا درجہ رکھتے تھے۔ حضرت خواجہ حسن بصری کے مرید و خلیفہ تھے۔ آپ کی وفات 156 ھ میں ہوئی مگر بعض تذکروں میں آپ کی وفات ۹ رمضان 120ھ کو بنی امیہ کے دسویں خلیفہ ہشام بن عبدالمالک کے زمانہ میں ہوئی۔ بہرحال آپ فارس کے رہنے والے تھے۔ شروع میں بہت دولت مند تھے اور سود کا لین دین کیا کرتے تھے۔ اپنا مال سود پر دیا کرتے تھے اور ہر روز قرضہ داروں کے ہاں تقاضا کرنے جاتے اور جس سے جو لینا ہوتا جب تک مل نہ جاتا اسے نہ چھوڑتے تھے۔ اپنی آمد و رفت کا خرچ بھی قرضہ دار ہی سے وصول کرتے تھے۔    ایک واقعہ ایسا ہوا جس نے آپ کی زندگی بدل کر رکھ دی۔۔ایک روز مال کے تقاضے کو گئے وہ قرض دار گھر پر نہیں تھا اس کی بیوی نے کہا میرا شوہر غیر حاضر ہے اور میرے پاس کچھ نہیں کہ ادا کروں تب آپ نے اپنے آنے کی مزدوری طلب کی اس نے ایک بھیڑ ذبح کی تھی اس کی گردن باقی تھی وہی اس نے آپ کے حوالہ کردی آپ...

حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ

Image
  حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ طریقت کے اماموں میں سے ایک بزرگ حضرت ابوالفیض ذوالنون ابن ابراہیم مصری رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔۔۔ آپ کا نام ثوبان تھا ۔۔۔آپ کے والدین نوبہ کے رہائشی تھے۔۔آپ دبلے پتلے کمزور آدمی تھے۔۔آپ کا رنگ سرخی مائل تھا اور داڈھی میں سفیدی نہ تھی۔۔۔اہل معرفت اور مشائخ طریقت میں آپ بڑے برگزیدہ تھے ریاضت و مشقت اور طریق ملامت کو پسند کر رکھا تھا مصر کے تمام رہنے والے آپ کے مرتبہ کی عظمت کے پہچاننے میں عاجز رہے ۔۔ یہاں تک کہ مصر میں کسی نے بھی آپ کے حال و جمال کو انتقال کے وقت تک نہ پہچانا۔۔۔ جس رات آپ نے رحلت فرمائی اس رات ستر لوگوں نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کی آپ نے ان سے فرمایا خدا کا ایک محبوب بندہ دنیا سے رخصت ہو کر آرہا ہے میں اس کے استقبال کے لیے آیا ہوں ۔ جب حضرت ذوالنون مصری نے نے وفات پائی تو ان کی پیشانی پر یہ لکھا گیا، ترجمہ۔۔۔یہ اللہ کا محبوب ہے اللہ کی محبت میں فوت ہوا ہے یہ خدا کا شہید ہے۔ لوگوں نے جب آپ کا جنازہ کاندھوں پر اٹھایا تو فضا کے پرندوں نے پرے باندھ کر جنازہ پر سایہ کیا۔۔۔ان واقعات کو دیکھ کر اپنے کئے ہوئے ظلم پر ...