حضرت خواجہ حبیب عجمی رحمتہ اللہ علیہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے
حضرت خواجہ حبیب عجمی کا اصل نام حبیب اور کنیت ابو محمد تھی۔ آپ ریاضات و کرامات کے لحاظ سے بہت اونچا درجہ رکھتے تھے۔ حضرت خواجہ حسن بصری کے مرید و خلیفہ تھے۔ آپ کی وفات 156 ھ میں ہوئی مگر بعض تذکروں میں آپ کی وفات ۹ رمضان 120ھ کو بنی امیہ کے دسویں خلیفہ ہشام بن عبدالمالک کے زمانہ میں ہوئی۔ بہرحال آپ فارس کے رہنے والے تھے۔ شروع میں بہت دولت مند تھے اور سود کا لین دین کیا کرتے تھے۔ اپنا مال سود پر دیا کرتے تھے اور ہر روز قرضہ داروں کے ہاں تقاضا کرنے جاتے اور جس سے جو لینا ہوتا جب تک مل نہ جاتا اسے نہ چھوڑتے تھے۔ اپنی آمد و رفت کا خرچ بھی قرضہ دار ہی سے وصول کرتے تھے۔
ایک واقعہ ایسا ہوا جس نے آپ کی زندگی بدل کر رکھ دی۔۔ایک روز مال کے تقاضے کو گئے وہ قرض دار گھر پر نہیں تھا اس کی بیوی نے کہا میرا شوہر غیر حاضر ہے اور میرے پاس کچھ نہیں کہ ادا کروں تب آپ نے اپنے آنے کی مزدوری طلب کی اس نے ایک بھیڑ ذبح کی تھی اس کی گردن باقی تھی وہی اس نے آپ کے حوالہ کردی آپ اس کو لے کر گھر آئے اور بیوی سے کہاکہ پکادے۔ بیوی نے کہا کہ لکڑیاں روٹیاں تو ہیں نہیں آپ گئے اور لکڑیاں و روٹیاں بھی سود میں لے آئے ۔ جب گردن پک کر تیار ہوئی بیوی نے چاہا کہ پیالہ میں نکالیں اس وقت ایک سائل نے آواز دی کہ بابا کچھ موجود ہو تو اللہ کی راہ میں دو۔ آپ نے کہا آگے چل تجھے کوئی چیز نہیں مل سکتی۔ اس لیے کہ میں جس قدر تجھ کو دوں گا اس سے تو امیر نہ ہو سکے گا۔ البتہ میں فقیر ہو جاؤں گا وہ بے چارہ مایوس ہو کر چلا گیا۔ جب آپ کی بیوی نے ہانڈی میں ڈوئی ڈالی تو دیکھا اس میں خون ہی خون ہے بیوی نے آپ کو بلایا اور کہا دیکھیے آپ کی شومی یہ رنگ لائی ۔ آپ نے جب یہ حالت دیکھی ۔تو دل میں آگ لگ گئی۔ اس وقت اپنی سابقہ زندگی سے توبہ کی۔ اگلے دن جمعہ تھا۔ آپ باہر نکلے تا کہ باری باری سب قرض داروں کے پاس جا کر سود معاف کر دیں۔ راستہ میں بچے کھیل رہے تھے انہوں نے خواجہ صاحب کو دیکھ کر چلانا شروع کیا۔ ہٹ جا ؤ حبیب سود خور آ رہا ہے۔ ہم پر اس کی گرد پڑ گئی تو ہم بھی ایسے ہی ہو جائیں گے۔یہ سن کر آپ کے دل پر زبردست چوٹ لگی اور اپنا ارادہ ترک کر کے سیدھے خواجہ حسن بصری کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
حضرت خواجہ حسن بصری نے انہیں نصیحتیں کیں اور توبہ کرائی۔ جب گھر لوٹے دیکھا کہ ایک قرض دار آپ کو دیکھ کر بھاگ رہا ہے آپ نے اس کو آواز دی اور فرمایا مت بھاگواب مجھے تم لوگوں سے بھاگنا ہے جب اس مقام پر پہنچے جہاں لڑکے کھیل رہے تھے لڑکے آپ کو دیکھ کر کہنے لگے الگ ہٹ جاؤ حبیب تائب آتا ہے ایسا نہ ہو کہ اس پر ہماری گرد پڑ جائے اور ہم اللہ کے نزد یک گناہ گار ٹھہریں آپ نے یہ سن کر دل میں کہا اے باری تعالیٰ یہ سب تیری وجہ سے ہے مجھے بدنام سے نیک نام کر دیا۔ پھر آپ نے منادی کرادی ۔۔جس کے ذمے میرا کچھ نکلتا ہو وہ آئے اور مجھ سے دستاویز لے جائے۔ چنانچہ قرض دار آئے اور آپ سے اپنی اپنی دستاویز لے گئے۔ سب مال و اسباب جو آپ کے پاس جمع تھا راہ خدا میں لٹا دیا ۔۔پھر آپ نے دریائے فرات کے کنارے ایک عبادت خانہ تیار کیا اور عبادت الٰہی میں مشغول ہوئے دن کو حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاکر علم سیکھتے اور رات کو عبادت کرتے۔آپ کو اس طرح عبادت کرتے ایک مدت گزر گئی تو ایک دن بیوی نے شکایت کی کہ خرچ نہیں ہے۔ ضروریات کیسے پوری کی جائیں۔ آپ نے فرمایا میں کام پر جاتا ہوں۔ مزدوری جو ملے گی لے آ ؤں گا۔ چنانچہ آپ دن بھر گھر سے باہر رہ کر عبادت کرتے۔ شام کو گھر واپس آ جاتے۔ جب بیوی انہیں خالی ہاتھ دیکھتی تو کہتی کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ آپ فرماتے میں کام کر رہا ہوں۔ جس کا کام کر رہا ہوں وہ بڑا سخی ہے، کہتا ہے کہ وقت آنے پر خود ہی اجرت دے دیا کروں گا۔ فکر نہ کرو لہٰذا مجھے اس سے مانگتے شرم آتی ہے۔ وہ کہتا ہے ہر دسویں روز میں مزدوری دیا کروں گا چنانچہ بیوی نے دس روز تک صبر کیا۔ دسویں روز بھی شام کو جب خالی ہاتھ واپس آئے تو راستے میں سوچ رہے تھے۔ اب بیوی کو کیا جواب دوں گا۔ بہرحال گھر پہنچے تو دیکھا کہ عمدہ عمدہ کھانے تیار رکھے ہیں۔ بیوی آپ کو دیکھتے ہی بول اٹھیں کہ کس نیک بخت کا کام کر رہے ہو۔ جس نے دس دن کی اجرت اس قسم کی بھیجی اور تین ہزار درہم نقد بھی بھیجے ہیں۔ یہ بھی کہلا بھیجا ہے کہ کام زیادہ محنت سے کرو گے تو اجرت زیادہ دوں گا۔ یہ ماجرا دیکھ کر آپ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ خیال کیا کہ خدائے پاک نے ایک گناہ گار بندے کی دس روز کی عبادت کا یہ صلہ دیا۔ اگر زیادہ حضور قلب سے عبادت کروں تو نہ جانے کیا کچھ دے۔ یہ سوچ کر علائق دنیا سے بالکل الگ ہو گئے اور ایسی ایسی عبادتیں اور ریاضتیں شروع کر دیں کہ اسرار الٰہی بے نقاب ہونے لگے۔ عنایات الٰہی کا نزول شروع ہو گیا اور مستجاب الدعوات کا درجہ مل گیا ۔۔۔
جب لوگ آپ کے سامنے کلام مجید پڑھتے تو آپ نہایت اضطراب کے ساتھ روتے لوگوں نے کہا آپ عجم کے رہنے والے ہیں اور قرآن مجید عربی ہے آپ عربی نہیں جانتے تو پھر رونے کی وجہ کیا ہے فرمایا میری زبان عجمی ہے لیکن میرا دل عربی ہے۔ ایک درویش نے آپ کو مرتبہ عظیم و بزرگ پر دیکھ کر پوچھا کہ آپ تو عجمی ہیں اس درجہ پر کس طرح پہنچے آواز آئی ہاں عجمی ہے لیکن حبیب ہے۔ آپ ایک روز اپنے عبادت خانے میں نماز مغرب پڑھ رہے تھے پیچھے سے حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہ تشریف لائے سنا کہ نماز میں الحمد کو المد تلفظ کر رہے ہیں یعنی الہمد حضرت حسن نے اس خیال سے کہ یہ قرآن مجید غلط پڑھتے ہیں آپ کے پیچھے نماز نہ پڑھی علیحدہ ادا کی۔ اسی شب کو حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حق سبحانہ و تعالی کو خواب میں دیکھا پوچھا اے میرے پروردگار تیری رضا کس چیز میں ہے خطاب ہوا ۔ اے حسن تو نے میری رضا پائی تھی لیکن اس کی قدر نہ جانی۔ عرض کیا یا الہ العالمین وہ کیا بات تھی ارشاد ہوا کہ حبیب کے پیچھے نماز پڑھیے اس لیے کہ وہ نماز تیری ساری نمازوں سے افضل تھی لیکن تو الحمد کی عبارت کی درستی کے خیال میں رہا اور نیت کی درستی کا لحاظ نہ کیا پس بڑا فرق ہے زبان کی درستی اور دل کی درستی میں ۔
آپ کا گھر بصرہ شہر کے عین چوراہے پر تھا۔ آپ کے پاس صرف ایک ہی پوستین تھی جو پہنا کرتے تھے۔ ایک روز پوستین اتار کر چوراہے میں ایک جگہ رکھ دی اور کچھ فاصلے پر وضو کرنے کے لئے چلے گئے۔ حضرت حسن بصری کا گزر وہاں سے ہوا تو پوستین دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ حبیب کی ہے۔ چنانچہ کھڑے ہو کر نگرانی کرنے لگے۔ جب حضرت حبیب واپس آئے تو حضرت حسن بصری نے ان سے پوچھا پوستین یہاں کس کے بھروسے پر چھوڑ گئے تھے۔ جواب دیا جس نے آپ کو اس کی نگرانی کے لئے مقرر کیا اس کے بھروسہ پر چھوڑ گیا تھا۔ ایک مرتبہ خواجہ حسن بصری آپ کے ہاں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ دروازے پر ایک سوالی آ گیا۔ حضرت حبیب نے حسن کے سامنے سے سارا کھانا اٹھا کر سوالی کو دے دیا۔ حضرت حسن بصری نے فرمایا، آپ بھی عجیب آدمی ہیں۔ مہمان کے آداب کا خیال نہیں کرتے۔ دینا ہی تھا تو کھانے سے کچھ اٹھا کر دے دیتے اور کچھ رہنے دیتے۔ آپ خاموش رہے اور کچھ جواب نہ دیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد ایک شخص قسم قسم کے کھانے اور پانچ سو درہم لے کر آ گیا۔ آپ نے درہم اسی وقت محتاجوں میں تقسیم کر دیئے اور کھانا حضرت حسن کے سامنے رکھ دیا اور دونوں نے مل کر کھایا۔ پھر خواجہ حسن سے مخاطب ہو کر فرمایا علم کے ساتھ یقین بھی ضروری ہے، آپ کو یقین بھی ہوتا تو بہتر تھا۔۔۔
ایک بار بصرہ میں قحط پڑ گیا آپ نے بہت سا کھانا قرض لے کر فقیروں کو خیرات کیا اور ایک تھیلی سی کر سرھانے رکھ لی۔۔ جب قرض خواں مانگنے آتے تو آپ تھیلی سرہانے سے نکالتے وہ درہم سے بھری ہوتی اس سے قرض ادا کر دیتے ایک روز تاریک گھر میں آپ کے ہاتھ سے سوئی گر پڑی۔۔۔یکایک گھر روشن ہوگیا اپنے ہاتھوں سے آنکھیں چھپا لی اور کہا نہیں نہیں میں بغیر چراغ کے ڈھونڈ لوں گا ۔۔۔۔آپ کا فرمان ہے۔۔
خدا کے سوا کبھی کسی اور کا تصور بھی اپنے دل میں نہ لا ؤ اور ہمیشہ اس کی اطاعت و فرمانبرداری اور رضا جوئی کی کوشش کرو۔۔۔۔۔واللہ اعلم بالصواب

Comments
Post a Comment