The Justice and Piety of Sultan Suleiman the Magnificent
ایک بار ترکی کے سلطان سلیمان قانونی کو بتایا گیا کہ درختوں کی جڑوں میں چیونٹیاں بہت زیادہ ہو گئی ہیں۔ سلطان نے ماہرین کو بلایا اور پوچھا: "اس کا کیا حل ہے؟" ماہرین نے کہا کہ فلاں تیل اگر درختوں کی جڑوں پر چھڑک دیا جائے تو چیونٹیاں ختم ہو جائیں گی۔ مگر سلطان کی عادت تھی کہ وہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے شرعی حکم ضرور پوچھتے تھے۔ اس لیے وہ خود ریاستی مفتی (جنہیں شیخ الاسلام کہا جاتا تھا) کے گھر گئے۔ جب سلطان وہاں پہنچے تو شیخ گھر پر موجود نہ تھے۔ اس لیے سلطان نے ایک پیغام شعر میں لکھ کر ان کے لیے رکھ دیا: "اذا دَبَّ النملُ علی الشجر، فھل فی قتله ضرر؟" "اگر درختوں میں چیونٹیاں ہو جائیں، تو انہیں مارنے میں کوئی گناہ ہے؟" جب شیخ واپس آئے اور یہ پیغام دیکھا تو جواب میں یہ لکھا: "اذا نُصِبَ میزانُ العدلِ، أخذ النملُ حقہ بلا وجل" "اگر انصاف کا ترازو قائم ہو تو چیونٹیاں صرف اپنا حق لیتی ہیں، ظلم نہیں کرتیں۔" شیخ نے اشارہ دیا کہ سب سے اہم چیز عدل (انصاف) ہے۔ سلطان کا آخری سفر: سلطان سلیمان آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کو فتح کرنے کی نیت ...