ثناء یوسف،آزاد محبت یا بربادی کا راستہ؟

ثناء یوسف،آزاد محبت یا بربادی کا راستہ؟ ایک چترالی لڑکی کو فیصل آباد کے ایک نوجوان نے بے دردی سے قتل کر دیا۔ نہ یہ کسی قبیلے کا مسئلہ تھا، نہ ہی غیرت کے نام پر قتل۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ لڑکے نے مہمان بن کر لڑکی کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اُس وقت گھر میں صرف پھپھو تھیں۔ ان کے مطابق لڑکی اور لڑکے کے تعلقات کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیرت کا قتل تھا؟ یا پھر وہی "آزاد محبت" کا انجام جس کا نتیجہ ہمیشہ دکھ اور خون میں لپٹا ہوا نکلتا ہے؟ جیسے ہی یہ واقعہ ہوا، ویسے ہی کچھ لوگ شور مچانے لگے کہ یہ غیرت کے نام پر قتل ہے، اسلامی معاشرہ عورتوں کے لیے جہنم ہے، اور سب قصور مولوی کا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ نہ قاتل کوئی مذہبی شخص تھا، نہ مقتولہ کوئی مدرسے کی لڑکی، اور نہ ہی ان کے تعلق کا دین سے کوئی واسطہ تھا۔ درحقیقت یہ اُس آزادی کا نتیجہ ہے جو بغیر کسی حد کے دی گئی۔ یہ وہی سوشل میڈیا کی محبت ہے جو لائکس، فالوورز اور ویڈیوز کے پیچھے پروان چڑھتی ہے۔ یہ وہی سوچ ہے جسے "میرا جسم میری مرضی" جیسے نعرے بڑھاوا دیتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جب کبھی ایسی "محبت" خون میں نہا کر ختم ہوتی ہے، تو کوئی یہ نہیں سوچتا کہ: ایسا رشتہ کیوں بنا؟ لڑکی یا لڑکا اس راستے پر کیوں چل پڑے؟ کیا ہم نے اپنی نوجوان نسل کو وقت پر سمجھایا؟ لیکن ہر بار الزام آتا ہے اسلام پر، علما پر، اور "غیرت" پر۔ کوئی عاشق کے کردار پر سوال نہیں کرتا، نہ مقتولہ کی زندگی کے انداز پر غور کیا جاتا ہے، بس دین کو برا کہہ کر خود کو ترقی پسند سمجھنے کی کوشش۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دین کی ناکامی نہیں، بلکہ لبرل سوچ کی تباہی ہے۔ یہ مولوی کا فتویٰ نہیں، بلکہ فیس بُکی محبت کا خونی انجام ہے۔ یہ غیرت کا جنون نہیں، بلکہ آزادی کی بے لگامی کی قیمت ہے۔ یہ واقعہ ہر ماں باپ کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اپنی بیٹیوں کو سکھائیں کہ آزادی اچھی چیز ہے، لیکن جب یہ حدود سے باہر نکل جائے تو صرف عزت ہی نہیں، زندگی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam