Posts

Showing posts from April, 2025

سچائی کا سفر — تنہائی سے روشنی تک

دنیا میں سچ ایک ایسی حقیقت ہے جو اکثر اوقات اکیلی رہ جاتی ہے۔ سچ بولنے والے لوگ بہت کم ہوتے ہیں، اور جو سچ بولتے ہیں، اُنہیں اکثر مخالفت، تنقید اور مذاق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ سچ وہ آئینہ ہے جو انسان کے اصل چہرے کو دکھاتا ہے، اور بہت سے لوگ یہ نہیں چاہتے کہ اُن کی حقیقت دوسروں پر ظاہر ہو۔ آج کے دور میں اگر کوئی انسان حق بات کرے، تو اُسے پاگل، ناسمجھ یا گستاخ کہا جاتا ہے۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ہمارا معاشرہ سچ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہا۔ ہم جھوٹ سننے کے عادی ہو چکے ہیں، اور جو شخص جھوٹ بول کر لوگوں کو خوش کرتا ہے، اُسے عزت دی جاتی ہے، اُس کی واہ واہ ہوتی ہے اور اُسے اعلیٰ مقام دیا جاتا ہے۔ جبکہ جو سچ بولے، اُسے برا بھلا کہا جاتا ہے، اُس کا مذاق اڑایا جاتا ہے، اور وہ تنہا کر دیا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ لوگ سچ سے ڈرتے کیوں ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ لوگ خود کو سچا دکھانا چاہتے ہیں، مگر اندر سے وہ جانتے ہیں کہ اُن کے دل، نیتیں اور اعمال صاف نہیں۔ جب کوئی سچ بولتا ہے، تو وہ انسانوں کی نیتوں اور اصل چہروں کو ظاہر کر دیتا ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس سے لوگ گھبرا جاتے ہیں۔ اُنہیں سچ س...

پردہ: عزت، حیاء اور نجات کا راستہ

پردہ: عزت، حیاء اور نجات کا راستہ عورت کا بے پردہ اور برہنہ ہونا اللہ کی ناراضگی کی نشانی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حضرت حواء سے ناراضگی فرمائی تو ان سے لباس چھین لیا گیا، اور ان کی شرمگاہیں اُن پر ظاہر ہو گئیں۔ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی چیزیں حرام کی ہیں، لیکن جنت میں ان میں سے اکثر چیزیں حلال کر دی جائیں گی، جیسے شراب وغیرہ۔ مگر عریانی (بےلباسی) ایسی بری چیز ہے کہ وہ نہ دنیا میں جائز ہے نہ جنت میں۔ جنت کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت یہ بھی ہے کہ وہاں ہمیشہ عزت، حیاء اور مکمل لباس کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔ جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "بیشک تم وہاں نہ بھوکے رہو گے اور نہ ہی بے لباس ہو گے۔" (سورہ طٰہٰ) اس لیے حیاء اور پردہ اللہ کی رضا اور نعمتوں کا راستہ ہے، اور بے پردگی اللہ کی ناراضگی اور نقصان کی علامت ہے۔ کاکروچ، چھپکلی، چوہے سے ڈرنے والی عورتیں اللہ تعالیٰ اور اُس کے عذاب سے نہیں ڈرتیں، یہ کتنی حیرت کی بات ہے! جس خوبصورتی کو تم بیہودہ لباس پہن کر نامحرم مردوں کے سامنے دکھاتی ہو… "اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمان...

محمد ﷺ: وہ نام جس سے کائنات جگمگائی

محمدﷺ: اعداد ۹۲۰۰۰، عدد واحد ٢٠٠٠٠٠٠۔ محمد عربی زبان کا لفظ ہے۔۔ لفظ ’محمد‘ کا مادہ "ح۔م۔د" ہے، جس کے معنی "تعریف" کے ہیں۔ یہی مادہ "احمد" میں بھی آتا ہے۔ لیکن دونوں الفاظ کے مفہوم میں فرق یہ ہے: • "محمد صلی اللہ علیہ وسلم" وہ ذات ہیں جن کی تعریف زمین و آسمان والوں نے سب سے زیادہ کی ہے۔ • "احمد" وہ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ تعریف کی ہے۔ حضور ﷺ کی ولادت باسعادت کے ساتویں دن آپ کے دادا جناب عبدالمطلب نے بچے کی خوشی میں حسب دستور اشراف کی ایک تقریب اور دعوت کا اہتمام کیا۔ اس ضیافت میں قریش سرداروں اور مکہ کے معززین کو مدعو کیا گیا تھا۔ قریبی رشتے دار بھی مدعو تھے۔ سب نے اس بچے کو دیکھ کر بے حد خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔ ولادت کے وقت بچے کا نام قطان پکارا گیا تھا۔ اس لفظ قطان کے دو مشہور معنی دروازہ کی بلی کی لکڑی، شکنجہ یا ہو وہ کی لکڑی اور روئی طرح کی نرم و نازک کے بھی ہوتے ہیں۔ لیکن بعد میں دادا عبدالمطلب نے محمد نام رکھا۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام مہمان یہ نام سن کر حیران رہ گئے۔ عربوں میں یہ نام نیا نہیں تھا لیکن نادر ...

نوجوان بیٹے کی زندگی میں باپ کا اہم کردار

نوجوان بیٹے کی زندگی میں باپ کا اہم کردار جب بیٹا جوانی کی طرف بڑھتا ہے، تو اُسے نصیحتیں نہیں، بلکہ ایک ایسا باپ چاہیے جو اُس کا سہارا بنے۔ یہ سہارا باپ سے بہتر کوئی نہیں دے سکتا۔ --- 1. نصیحت سے پہلے دوستی کریں نوجوان دل تب ہی بات سنتا ہے جب اسے لگے کہ آپ صرف باتیں سناتے نہیں، بلکہ اُس کی بات بھی سنتے ہیں۔ اس کی سنیں… چاہے اُس کی باتیں آپ سے مختلف ہوں۔ پہلے اپنائیت، پھر نصیحت۔ --- 2. نگران نہیں، مثال بنیں بیٹا آپ کی ہر بات، ہر عمل دیکھ رہا ہوتا ہے۔ آپ کا لہجہ، صبر، اور لوگوں سے سلوک ہی اس کی تربیت بن جاتے ہیں۔ یاد رکھیں، تربیت صرف باتوں سے نہیں، عمل سے ہوتی ہے۔ --- 3. اُسے فیصلہ کرنے دیں ہر بات میں ٹوکنا درست نہیں۔ غلطی کرنے دیں تاکہ سیکھے۔ رائے دیں، لیکن زبردستی نہ کریں— کیونکہ وہ اپنی الگ شناخت بنا رہا ہے۔ --- 4. اُس کا حوصلہ بڑھائیں ایک جملہ— "مجھے تم پر فخر ہے"— اُسے خود پر یقین دلا سکتا ہے۔ اگر وہ کبھی لڑکھڑائے، تو اُسے سنبھالنے کا موقع دیں، نہ کہ ڈانٹیں۔ --- 5. وقت دیں، لیکن دل سے اس کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینا، گاڑی میں باتیں کرنا، یا کوئی...

علماء کے دلچسپ اور مزاحیہ جوابات

1. ایک شخص نے امام شعبی سے پوچھا: "داڑھی پر مسح کیسے کروں؟" امام شعبی نے کہا: "انگلیوں سے داڑھی کو اچھی طرح کنگھی کر لو۔" وہ بولا: "مجھے ڈر ہے کہ داڑھی پھر بھی نہیں بھیگے گی!" امام شعبی نے کہا: "تو پھر رات کو داڑھی کو بالٹی میں ڈال کر سو جاؤ، صبح تک خود ہی تر ہو جائے گی!" 2. ایک بندے نے امام شعبی سے پوچھا: "احرام کی حالت میں کھجلی کر سکتے ہیں؟" امام شعبی نے کہا: "ہاں، کر سکتے ہیں!" وہ بولا: "لیکن کتنی دیر تک کھجلی کر سکتے ہیں؟" امام شعبی نے کہا: "جب تک ہڈی نہ چمکنے لگے، کھجلاتے رہو!" 3. ایک شخص عمر بن قیس کے پاس آیا اور بولا: "اگر مسجد کی کنکریاں میرے کپڑوں، جوتوں یا پیشانی پر لگ جائیں تو کیا کروں؟" عمر صاحب نے کہا: "پھینک دو!" وہ بولا: "لوگ کہتے ہیں کہ کنکریاں واپس مسجد نہ جائیں تو چیختی رہتی ہیں!" عمر صاحب نے کہا: "تو پھر انہیں چیخنے دو، جب تک ان کا گلا بیٹھ نہ جائے!" وہ بولا: "کنکریوں کا بھی گلا ہوتا ہے؟" عمر صاحب نے کہا: "تو پھر وہ چیخت...

ایک خادمہ... جس کی خوشبو جنت میں مہک رہی ہے.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج کی رات میں نے ایک بہت ہی خوشبو دار جگہ دیکھی۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا: یہ خوشبو کہاں سے آ رہی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ خوشبو فرعون کی بیٹی کی خادمہ اور اس کے بچوں کی ہے۔ یہ خادمہ فرعون کی بیٹی کے بال سنوارتی تھی۔ ایک دن کنگھا اس کے ہاتھ سے گر گیا تو اس نے کہا: "بسم اللہ"۔ فرعون کی بیٹی نے حیرت سے پوچھا: کیا تم میرے ابا کو خدا مانتی ہو؟ خادمہ نے جواب دیا: نہیں، میرا رب، تمہارا رب اور تمہارے باپ کا رب اللہ ہے۔ فرعون کی بیٹی نے یہ بات اپنے باپ کو بتا دی۔ فرعون نے خادمہ کو بلا کر پوچھا: کیا میرے سوا تمہارا کوئی اور رب ہے؟ اس نے کہا: ہاں، میرا رب اللہ ہے۔ فرعون بہت غصے میں آیا اور ایک پیتل کی گائے منگوائی، اس میں پانی بھر کر خوب گرم کیا۔ پھر خادمہ کے بچوں کو ایک ایک کر کے اس میں ڈالنے لگا۔ جب اس کا شیرخوار بچہ باقی رہ گیا، تو ماں کا دل بھر آیا۔ لیکن اللہ کے حکم سے بچے نے بول کر کہا: "اماں! مجھے بھی ڈال دو، دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔" خادمہ نے اللہ پر قربان ...

توبہ کی قبولیت اور اللہ کی رحمت - 99 قتل کرنے والے کا واقعہ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے (99) آدمیوں کو قتل کر دیا تھا۔ پھر اسے خیال آیا کہ (اتنے بڑے گناہ کے بعد) کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے یا نہیں؟ وہ مسئلہ پوچھنے کے لیے ایک راہب (عبادت گزار) کے پاس گیا اور اس سے سوال کیا: "کیا میری توبہ کی کوئی صورت ہے؟" راہب نے جواب دیا: "نہیں، تمہاری توبہ نہیں ہو سکتی۔" یہ سن کر اس شخص نے راہب کو بھی قتل کر دیا اور اس طرح قتلوں کی تعداد سو (100) ہو گئی۔ پھر اس نے کسی اور سے پوچھا۔ اس دوسرے عالم شخص نے اسے کہا: "ہاں! توبہ کی گنجائش ہے۔ تم فلاں بستی چلے جاؤ، جہاں نیک لوگ رہتے ہیں، وہاں جا کر اللہ سے توبہ کرو۔" یہ سن کر وہ شخص اس نیک بستی کی طرف روانہ ہو گیا۔ لیکن ابھی وہ راستے میں تھا اور آدھے راستے پر بھی نہیں پہنچا تھا کہ اس کا انتقال ہو گیا۔ اب رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے آپس میں جھگڑنے لگے کہ اس کی روح کون لے جائے۔ رحمت کے فرشتے کہنے لگے: "یہ تو توبہ کے ارادے سے نکلا تھا۔" اور عذاب کے فرشتے کہنے لگے: "اس ...

اہلِ بیت کا درزی

اہلِ بیت کا درزی چاند رات کا وقت تھا۔ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما اپنی والدہ حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کے پاس آئے اور عرض کیا: "امی جان! کل عید ہے۔ مدینے کے بچے نئے کپڑے پہنیں گے۔ کیا ہم نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے بغیر نئے کپڑوں کے رہیں گے؟" بچوں کی معصوم بات سن کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فکر لاحق ہوئی۔ انہوں نے بچوں کو تسلی دی: "میرے بیٹو! اللہ چاہے تو تمہیں بھی نئے کپڑے مل جائیں گے۔" نماز کے بعد حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے دعا کی: "اے اللہ! تیرے نبی کے نواسوں نے مجھ سے نئے کپڑوں کا وعدہ کیا ہے۔ میرے مولا! میری دعا قبول فرما اور میرے بچوں کی خواہش پوری کر دے۔" ابھی دعا ختم ہی ہوئی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: "کون ہے؟" جواب آیا: "اہلِ بیت کا درزی شہزادوں کے لیے نئے کپڑے لے کر آیا ہے۔" حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کپڑے لے لیے اور صبح عید کے دن دونوں شہزادوں کو پہنائے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا: "بیٹی! جانتی...

غوث الاعظمؒ: ولایت، علم اور معجزات کی روشن زندگی

غوث الاعظمؒ: ولایت، علم اور معجزات کی روشن زندگی شیخ المشائخ اور شریعت کے امام، شیخ عبدالقادر محی الدین، محبوب سبحانی، غوث الاعظمؒ کا اصل نام ہے۔ آپ ایران کے علاقے جیلان کے ایک قصبے میں یکم رمضان 470ھ کو پیدا ہوئے۔ آپ کا نسب سید حسنی اور حسینی دونوں طرف سے ملتا ہے۔ آپ کی پیدائش کے وقت آپ کی والدہ ماجدہ کی عمر ساٹھ سال تھی، اور یہ پہلا کرشمہ تھا جو اللہ نے دنیا کو دکھایا کہ بڑھاپے میں بھی اولاد عطا ہو سکتی ہے۔ آپ کا قد درمیانہ تھا، رنگ گندمی، جسم نازک اور ہلکا، چہرہ روشن اور مسکراتا ہوا، داڑھی گھنی اور آواز میں خاص اثر تھا۔ آپ کے دل میں بہت خشوع، خضوع اور درد تھا۔ آپ پیدائشی ولی تھے۔ تمام کتبِ تذکرہ میں لکھا ہے کہ جب آپ شیرخوار تھے اور رمضان کا مہینہ آیا تو دن میں دودھ پینا چھوڑ دیا۔ آپ کی والدہ، جن کا نام "فاطمہ بنت شیخ عبداللہ صومعی" تھا اور کنیت "ام الخیر" تھی، خود ایک نیک اور اللہ والی خاتون تھیں۔ آپ کے والد، شیخ عبداللہ صومعی، بھی اپنے وقت کے بڑے اللہ والے تھے۔ گھر میں گزارے کے لیے کوئی خاص سامان نہیں تھا۔ والدہ سوت کات کر بیچتیں، اسی سے گزارہ ہوتا۔ کئی بار ا...

کیا زندگی ایک معجزہ ہے یا ایک معمول؟ فیصلہ آپ کا ہے

زندگی گزارنے کے دو طریقے ہیں، اور دونوں طریقے ہمارے سوچنے، محسوس کرنے اور دنیا کو دیکھنے کا انداز بدل دیتے ہیں۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ ہم مان لیں کہ دنیا میں کوئی معجزہ نہیں ہوتا۔ ہر چیز اپنے ایک اصول کے تحت چلتی ہے، سب کچھ ایک وجہ سے ہوتا ہے۔ ایسے لوگ طلوع آفتاب کو صرف ایک عام سا فلکیاتی عمل سمجھتے ہیں، کسی کی مسکراہٹ کو صرف چہرے کی حرکت مانتے ہیں، اور بچے کی پیدائش کو صرف ایک حیاتیاتی (بایولوجی) عمل کہتے ہیں۔ یعنی ان کے لیے دنیا ایک سادہ، خشک حقیقت ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہم ہر چیز کو ایک معجزہ سمجھیں۔ یہ سوچ انسان کے دل کو بڑا کر دیتی ہے، آنکھوں میں خوشی بھر دیتی ہے اور روح کو شکر گزار بنا دیتی ہے۔ ایسے لوگ بارش کو، پرندے کے گانے کو، ماں کی دعا کو، اور کسی اجنبی کی مسکراہٹ کو بھی ایک خاص نعمت سمجھتے ہیں۔ معجزہ صرف بڑا کوئی عجیب واقعہ نہیں ہوتا — بلکہ وہ چھوٹے چھوٹے کام بھی معجزہ ہیں جو روز ہمارے ساتھ ہوتے ہیں: دل کا دھڑکنا، سانس لینا، خواب دیکھنا، محبت کرنا۔ اکثر ہم ان نعمتوں کو معمولی سمجھ کر بھول جاتے ہیں، حالانکہ یہ بھی اللہ کی طرف سے چھوٹے چھوٹے کرشمے ہیں۔ لہٰذا، زند...

آج کا ایک خاموش پیغام، مسلمانوں کے نام

ابو جہل جانتا تھا کہ "لا" کا کیا مطلب ہے۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ "الٰہ" کا کیا مطلب ہے۔۔۔ اور وہ "الا اللہ" کا مطلب بھی خوب سمجھتا تھا۔ اگر اسلام صرف زبانی کلمہ پڑھ لینے اور پھر جو دل چاہے کرنے کا نام ہوتا — جیسے کہ ناپ تول میں کمی کرنا، زخیرہ اندوزی کرنا، ناجائز منافع خوری، ملاوٹ، جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، یتیموں اور بیواؤں کا حق کھانا، وراثت نہ دینا، عورتوں پر ظلم کرنا، زنا، بلیک میلنگ، معصوموں کا ریپ اور قتل کرنا، بزرگوں کی قبروں پر چڑھاوے چڑھانا، ان کو اللہ کے برابر سمجھنا — تو ابو جہل اور دوسرے مشرکین کو اسلام قبول کرنے میں کوئی دقت نہ ہوتی۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ "لا الٰہ الا اللہ" پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ: لات، منات، ہبل جیسے بتوں کو چھوڑنا پڑے گا، قبروں اور بزرگوں کے سامنے جھکنا چھوڑنا پڑے گا، صرف اور صرف اللہ کو مدد کے لیے پکارنا پڑے گا، جھوٹ، دھوکہ، ملاوٹ، ظلم اور ہر طرح کی برائی کو چھوڑنا پڑے گا۔ اسی لیے ابو جہل کلمہ نہیں پڑھتا تھا۔ آج کا نام نہاد مسلمان کلمہ تو پڑھتا ہے، مگر: یا علی مدد، یا غوث المدد کہتا ہے، قبروں پر سجدے کرتا ہے، ...

ہیکل سلیمانی کی تباہی – نافرمانی کی سزا تعارف

ہیکل سلیمانی کی تباہی – نافرمانی کی سزا تعارف: حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ نبی تھے جنہیں حکمت، علم اور حکومت کی نعمتیں عطا کی گئیں۔ آپ نے یروشلم (موجودہ القدس) میں ایک عظیم عبادت گاہ تعمیر کروائی جسے "ہیکل سلیمانی" کہا جاتا ہے۔ یہ ہیکل بنی اسرائیل کے لیے نہایت مقدس مقام تھا۔ یہاں اللہ کی عبادت کی جاتی، احکام الٰہی سکھائے جاتے، اور یہ قوم کی عظمت و اتحاد کی علامت تھا۔ بنی اسرائیل کی نافرمانی: وقت گزرتا گیا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل اللہ کے احکامات سے دور ہونے لگے۔ انہوں نے شرک، ظلم، اور دنیا پرستی اختیار کر لی۔ ان کے علماء اور حکمران بھی اللہ کے دین سے ہٹ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے ذریعے کئی بار ان کو خبردار کیا، مگر وہ باز نہ آئے۔ اللہ کی طرف سے سزا: آخرکار اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایک بڑی آزمائش میں ڈال دیا۔ اللہ نے بابل کے بادشاہ بخت نصر (Nebuchadnezzar) کو ان پر مسلط کر دیا۔ بخت نصر ایک ظالم اور طاقتور بادشاہ تھا۔ اُس نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کیا۔ بخت نصر کا حملہ اور ہیکل کی تباہی: بخت نصر کی فوج نے یروشلم کا محاصرہ ...

خوشی نعمتوں کی قدر میں چھپی ہے

ایک گاؤں میں ایک تاجر رہتا تھا، جس کا نام رحیم تھا۔ اس کے پاس بہت ساری دولت تھی، بڑا سا گھر تھا، شہرت بھی تھی، لیکن پھر بھی وہ خوش نہیں تھا۔ ہر رات سونے سے پہلے وہ یہی سوچتا، "میں خوش کیوں نہیں ہوں؟" ایک دن اسے پتا چلا کہ جنگل میں ایک بزرگ درویش رہتے ہیں، جو ہر سوال کا جواب دے سکتے ہیں۔ رحیم نے سوچا، شاید وہ میری مدد کر سکیں۔ وہ اپنے سوال کے ساتھ ان کے پاس چلا گیا۔ جب وہ درویش کے پاس پہنچا، تو درویش ایک بڑے درخت کے نیچے بیٹھے اللہ کا ذکر کر رہے تھے۔ رحیم نے ادب سے کہا، "حضور! میرے پاس سب کچھ ہے، پھر بھی میں خوش نہیں ہوں، کیوں؟" درویش نے اس سے پوچھا، "تمہارے پاس سب سے قیمتی چیز کیا ہے؟" رحیم نے فخر سے جواب دیا، "میرے پاس ایک نیلا ہیرا ہے، جو میری تین نسلوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔" درویش نے پوچھا، "کہاں ہے وہ ہیرا؟" رحیم نے اپنی ٹوپی اتاری، اس کا اندر پھاڑا اور ہیرا نکال کر دکھایا۔ ہیرا بہت خوبصورت اور چمکدار تھا۔ اچانک درویش نے ہیرا اٹھایا اور جنگل کی طرف دوڑ گئے! رحیم حیران اور پریشان ہو گیا۔ وہ چلاتا ہوا ان کے پیچھے بھاگا، "م...

سور کی چربی کا استعمال – مسلمانوں کے لیے ایک اہم وارننگ

یورپ اور امریکہ کے زیادہ تر ملکوں میں گوشت کے لیے سور کو سب سے اہم جانور سمجھا جاتا ہے۔ وہاں سور پالنے کے ہزاروں فارم ہیں۔ صرف فرانس میں سور پالنے والے فارموں کی تعداد 42,000 سے زیادہ ہے۔ سور کے جسم میں دوسرے جانوروں کی نسبت زیادہ چربی (Fat) ہوتی ہے۔ یورپ اور امریکہ کے لوگ اس نقصان دہ چربی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ یہ صحت کے لیے اچھی نہیں۔ پہلے یہ چربی جلا دی جاتی تھی، کیونکہ اس کو ٹھکانے لگانا ایک بڑا مسئلہ تھا۔ تقریباً 60 سال بعد ان لوگوں نے سوچا کہ اس چربی کو کسی کام میں لایا جائے تاکہ فائدہ بھی ہو۔ انہوں نے اس چربی سے صابن بنانا شروع کیا، اور یہ کامیاب رہا۔ شروع میں جب سور کی چربی سے بنی چیزیں بنائی گئیں تو ان پر صاف صاف لکھا جاتا تھا کہ اس میں Pig Fat (سور کی چربی) ہے۔ لیکن جب مسلمان ممالک نے ان چیزوں پر پابندی لگائی تو ان کمپنیوں کو نقصان ہوا۔ 1857 میں یورپ سے کچھ گولیاں برصغیر (ہندوستان) بھیجی گئیں۔ سمندر کی نمی کی وجہ سے ان گولیوں میں موجود بارود خراب ہو گیا۔ پھر انہوں نے ان گولیوں پر سور کی چربی کی تہہ لگا دی تاکہ نمی سے بچایا جا سکے۔ لیکن جب یہ بات سامنے آئی...

ابلیس اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات:

حضرت موسیٰ علیہ السلام جن کی دعائیں آسمان تک پہنچتی تھیں۔ ایک دن ابلیس، جو اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا تھا، ایک چھوٹی سی امید لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا۔ اس نے عاجزی سے کہا: "اے موسیٰ! اللہ کے سامنے میری توبہ کی سفارش کرو، شاید اللہ مجھے معاف کر دے۔" حضرت موسیٰ علیہ السلام، جو اللہ کے نبی تھے، نے اس کی بات مان لی اور اللہ سے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اے موسیٰ! اگر ابلیس، حضرت آدم علیہ السلام کی قبر کو سجدہ کرے، تو میں اس کی توبہ قبول کر لوں گا۔" حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ بات ابلیس کو بتائی۔ لیکن ابلیس کے دل میں وہی پرانا غرور (تکبر) باقی تھا۔ اس نے غصے میں کہا: "جب میں نے آدم کو اُن کی زندگی میں سجدہ نہیں کیا، تو اب ان کی قبر کو کیسے سجدہ کر سکتا ہوں؟" ابلیس نے توبہ کا آخری موقع بھی ضائع کر دیا۔ پھر ابلیس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: "تم نے میری بات اللہ تک پہنچائی، اس لیے میں تمہیں تین باتیں بتاتا ہوں، جو تمہارے کام آئیں گی۔" 1. جب تم غصے میں ہو، مجھے یاد رکھنا، کیونکہ اس وقت میں تمہارے خون میں دوڑتا ہ...

بیکل سلیمانی - اسلامی تاریخ کی روشنی میں

بیکل سلیمانی - اسلامی تاریخ کی روشنی میں حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی اور عادل بادشاہ تھے جنہیں ربِ کائنات نے بے مثال سلطنت عطا فرمائی۔ ان کی حکومت نہ صرف انسانوں پر تھی بلکہ جنات، حیوانات، پرندوں اور ہواؤں پر بھی ان کا حکم نافذ تھا۔ قرآن و سنت، اور اسلامی تاریخی مصادر میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی بادشاہت اور ان کے تعمیر کردہ عظیم عبادت خانہ کا ذکر جابجا ملتا ہے۔ اسی عبادت گاہ کو اسلامی روایات میں "بیکل سلیمانی" یا "محاریب" کہا جاتا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کا مرکز شہر یروشلم (بیت المقدس) تھا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آپ نے اللہ کے حکم سے ایک عظیم الشان عبادت گاہ تعمیر کروائی۔ یہ عبادت گاہ صرف بنی اسرائیل ہی کے لیے نہیں بلکہ تمام اہل ایمان کے لیے ایک روحانی مرکز تھی۔ اس کی تعمیر میں جنات نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے بھرپور شرکت کی، جیسا کہ قرآن مجید میں واضح ارشاد ہے: سورۃ سبا، آیت 13: "وہ جنات حضرت سلیمان کے لیے وہ کچھ بناتے تھے جو وہ چاہتے: بلند و بالا محاریب، مجسمے، حوضوں جیسے بڑے برتن اور بھاری دیگیں۔" یہ عبا...

یاجوج ماجوج کی حقیقت اور انجام

یاجوج ماجوج کی حقیقت اور انجام ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے گھبرا کر جاگے اور اپنی زوجہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔ آپ نے فرمایا: "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عربوں کے لیے بڑی مصیبت آ رہی ہے، ایک ایسا شر جو قریب ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سا سوراخ ہو چکا ہے۔" یہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی کو ملا کر سوراخ کی مثال دی۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! کیا ہم ہلاک ہو سکتے ہیں، حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہیں؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں، جب بے حیائی اور گناہ عام ہو جائیں گے۔" اب سوال یہ ہے کہ یاجوج ماجوج کون ہیں؟ کب نکلیں گے؟ ان کی دیوار کیا ہے؟ ان کا فساد کیسا ہوگا؟ اور ان کا انجام کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا کہ لوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں، تو آپ کہہ دیں کہ میں تمہیں اس کے بارے میں کچھ سنا دیتا ہوں۔ ذوالقرنین ایک بہت بڑے بادشاہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکومت، طاقت، اور بہت سے وسائل عطا کیے تھے، اتنے کہ وہ پوری دنیا پر ...

ٹوٹے ہوئے مٹکے کا انمول سبق

 ایک بوڑھی عورت کے پاس پانی کے دو مٹکے تھے۔ وہ روزانہ ان مٹکوں کو ایک لکڑی پر باندھ کر اپنے کندھے پر رکھتی اور نہر سے پانی بھر کر گھر لاتی۔ ان میں سے ایک مٹکا بالکل ٹھیک تھا، لیکن دوسرا مٹکا تھوڑا سا ٹوٹا ہوا تھا۔ جب بھی وہ عورت پانی بھر کر واپس آتی، تو ٹوٹے ہوئے مٹکے کا آدھا پانی راستے میں ہی بہہ جاتا، جبکہ دوسرا مٹکا مکمل پانی لے کر آتا۔ ٹھیک مٹکا تو اپنی کارکردگی پر خوش تھا، لیکن ٹوٹا ہوا مٹکا خود کو ناکام اور بےکار سمجھتا تھا۔ وہ کئی دنوں سے دکھی تھا کہ وہ اپنا کام پورا نہیں کر پاتا۔ ایک دن اس نے عورت سے کہا: "مجھے افسوس ہے کہ میرا آدھا پانی راستے میں گر جاتا ہے، تم اتنی محنت سے پانی بھرتی ہو، اور میں تمہیں پورا فائدہ نہیں دے پاتا۔" عورت یہ سن کر مسکرائی اور بولی: "کیا تم نے غور نہیں کیا کہ جس طرف سے میں تمہیں لاتی ہوں، وہاں راستے کے کنارے خوبصورت پھول کھلے ہوتے ہیں؟ یہ پھول تمہارے گرتے ہوئے پانی کی وجہ سے اگے ہیں۔ میں نے وہاں بیج بوئے تھے تاکہ تمہارا گرنے والا پانی ان کو سیراب کرے۔ ان پھولوں سے میں نے گلدستے بنائے اور اپنا گھر سجایا۔ اگر تم نہ ہوتے تو یہ خوبصورتی نہ...

سچ بولنے والوں سے رشتہ نہ توڑیں

سچ بولنے والوں سے رشتہ نہ توڑیں زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں۔ وہ ہماری غلطیاں بتاتے ہیں، ہماری اصلاح کرتے ہیں، اور ہمیں بہتر انسان بننے کی طرف لے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ ہمارے لیے نعمت ہوتے ہیں۔ ان کی باتیں کبھی کبھار کڑوی لگتی ہیں، لیکن وہ دل سے ہماری بھلائی چاہتے ہیں۔ آج کے دور میں زیادہ لوگ چاپلوسی کرتے ہیں۔ سچ کہنے والے بہت کم رہ گئے ہیں۔ اگر کوئی آپ کو سچائی بتا دے تو اس سے ناراض نہ ہوں۔ ایسے لوگوں سے دوری نہ بڑھائیں۔ بلکہ ان کا ساتھ دیں، کیونکہ یہی لوگ ہمیں غلط راستے سے بچاتے ہیں اور اچھائی کی طرف لے جاتے ہیں۔ ایسی محفلیں اور مجلسیں جہاں علم ملتا ہو، اچھی باتیں سننے کو ملتی ہوں، دل کو سکون ملتا ہو — ایسی جگہوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ ایسے گروپ اور صحبت اختیار کریں جہاں دل کا ایمان تازہ ہو، روح کو غذا ملے، اور علم میں اضافہ ہو۔ یاد رکھیں! دنیا کے تعلق عارضی ہوتے ہیں، لیکن جو لوگ اور جگہیں آپ کی اصلاح کریں، آپ کو اللہ کے قریب کریں — وہی اصل خزانہ ہیں۔ رشتہ رکھیں... ان لوگوں سے جو آپ کو بہتر بناتے ہیں۔ بیٹھک رکھیں... وہاں جہاں علم ملے۔ محبت رکھیں... ان مج...

ایک عجیب گورنر کا واقعہ

 ایک عجیب گورنر کا واقعہ حمص کے لوگ اپنے گورنروں سے بہت جلد ناراض ہو جاتے تھے۔ وہ ہمیشہ اپنے گورنروں میں کوئی نہ کوئی خامی نکال کر ان کی شکایت خلیفہ کو بھیجتے اور مطالبہ کرتے کہ انہیں ہٹاکر دوسرا گورنر مقرر کیا جائے۔ یہ دیکھ کر حضرت عمر فاروقؓ نے فیصلہ کیا کہ وہاں ایسا شخص گورنر مقرر کریں گے جس کی سیرت اور کردار اتنا بلند ہو کہ کوئی اس پر اعتراض نہ کرسکے۔ انہوں نے اپنے تمام قابلِ اعتماد ساتھیوں پر غور کیا اور آخر میں حضرت عمیر بن سعدؓ کو منتخب کیا۔ حضرت عمیرؓ نے شام کے علاقے میں بہت بہادری سے لڑائی کی تھی اور کئی شہر فتح کیے تھے۔ حضرت عمرؓ نے انہیں شام کے محاذ سے واپس بلایا اور حمص کا گورنر مقرر کیا۔ حضرت عمیر بن سعدؓ نے ایک سال تک حمص میں گورنری کی۔ اس دوران نہ انہوں نے خلیفہ کو کوئی خط لکھا، نہ بیت المال میں کوئی رقم بھیجی۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ کو شک ہوا کیونکہ وہ اپنے گورنروں پر نظر رکھتے تھے اور کبھی لاپروا نہیں رہتے تھے۔ انہوں نے اپنے کاتب سے کہا کہ عمیر کو خط لکھو: "جیسے ہی میرا خط ملے، حمص چھوڑ کر مدینہ آ جاؤ اور جو رقم تم نے جمع کی ہے، وہ ساتھ لاؤ۔" حضرت عمیرؓ نے خط پ...

حضرت عمرؓ اور حضرت امام حسینؓ کا محبت بھرا واقعہ

 حضرت عمرؓ جمعہ پڑھا رہے تھے کہ اسی دوران حضرت امام حسینؓ مسجد میں آ گئے۔ حضرت عمرؓ بڑے جلال والے اور صاف گو انسان تھے۔ ایک بار حجرِ اسود کے سامنے کھڑے ہو کر کہنے لگے: "میں کوئی لکیر کا فقیر نہیں کہ تیرے چکر لگاتا رہوں، میں نے تو کبھی تجھے پلٹ کر دیکھا بھی نہیں، میں تو تجھے صرف اس لیے چومتا ہوں کہ میرے نبی ﷺ نے تجھے چُوما تھا۔" جب حضرت امام حسینؓ مسجد میں داخل ہوئے تو سیدھے ممبر کی طرف چل پڑے جہاں حضرت عمرؓ خطبہ دے رہے تھے۔ حضرت علیؓ نے امام حسینؓ کو پیچھے سے روک لیا اور کہا: "کہاں جا رہے ہو؟" تو حضرت عمرؓ نے کہا: "علیؓ، اُسے آنے دو، یہ میرے اور حسینؓ کے درمیان معاملہ ہے۔" حضرت امام حسینؓ حضرت عمرؓ کے سامنے آ کر کہنے لگے: "نیچے اترو! یہ میرے نانا کا ممبر ہے۔" حضرت علیؓ نے پھر سے امام حسینؓ کو روکا اور کہا: "یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟" تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: "علیؓ، وہ تم سے بات نہیں کر رہا، مجھ سے کر رہا ہے، اُسے بات کرنے دو۔" یہ سن کر حضرت عمرؓ فوراً ممبر سے نیچے اتر آئے اور نیچے کھڑے ہو گئے۔ حضرت امام حسینؓ نے محبت بھرے لہجے میں ...

چھوٹے کام، بڑی باتیں: ایک یہودی کی زبانی انبیاء کی صفات

 اٹلی میں ایک سخت مزاج یہودی، مسٹر کلاؤ، کی تیرہ چودہ منزلہ عمارت تھی۔ وہ خود صبح سویرے صفائی کرتا، بارش کا پانی نکالتا اور راستے صاف کرتا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا، اتنے بڑے آدمی ہو کر یہ کام کیوں کرتے ہو؟اس نے جواب دیا، کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ جب میں نے یہ ذمہ داری لی ہے، تو اسے نبھانا میرا فرض ہے۔ اس نے کہا کہ جو انبیاء کی راہ پر چلنا چاہتا ہے، اسے چھوٹے کام ضرور کرنے چاہئیں۔ حضرت موسٰیؑ نے بھی بکریاں چرائیں، اس لیے ہم یہودی بھی چھوٹے کاموں کو عزت دیتے ہیں۔ اس نے میرے نبی ﷺ کی مثال دی، کہ وہ خود جوتے گانٹھتے، کپڑے دھوتے، اور راستے صاف کرتے تھے۔ پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم یہ سب کرتے ہو؟ میں نے کہا نہیں، مجھے تو سکھایا ہی نہیں گیا۔ اس نے مجھے سکھایا کہ اگر تم استاد ہو، تو چھوٹے کاموں سے شروعات کرو۔ اور جب لوگوں سے خطاب کرو، تو اپنی بات ان شرمیلے لوگوں کے لیے کہو جو پیچھے بیٹھتے ہیں، کیونکہ جب بات چھوٹوں تک پہنچتی ہے تو بڑوں تک خود ہی پہنچ جاتی ہے۔ یہ وہ باتیں تھیں جو میرے دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئیں۔

جب جھوٹ نے سچ کو دھوکہ دیا

 جب جھوٹ نے سچ کو دھوکہ دیا ایک دن جھوٹ نے سچ سے کہا: "چلو، ایک ساتھ نہاتے ہیں۔ دیکھو، کنویں کا پانی کتنا صاف اور ٹھنڈا ہے۔" سچ نے پہلے شک کیا، پھر پانی کو ہاتھ لگا کر دیکھا۔ واقعی پانی صاف اور ٹھنڈا تھا۔ سچ نے سوچا: "چلو، کبھی کبھی کسی پر بھروسا بھی کرنا چاہیے۔" دونوں نے کپڑے اتارے اور کنویں میں نہانے لگے۔ سچ مزے سے نہا رہا تھا، مگر جھوٹ کی نیت خراب تھی۔ وہ چپکے سے باہر نکلا، سچ کے کپڑے پہنے، اور دنیا کی طرف نکل گیا۔ جب سچ نہا کر باہر آیا، تو اس کے کپڑے غائب تھے۔ وہ حیران، شرمندہ اور ننگا کھڑا رہ گیا۔ سچ نے ہمت کی اور ننگا ہی لوگوں کے سامنے گیا، مگر لوگ غصے سے، نفرت سے اور شرم سے اسے دیکھنے لگے۔ کسی نے سچ کو نہیں پہچانا، سب نے صرف اس کی برہنگی دیکھی۔ سچ کو سمجھ آیا: دنیا جھوٹ کو سچ کے کپڑوں میں آسانی سے مان لیتی ہے، مگر ننگے سچ کو برداشت نہیں کر سکتی۔ مایوس ہو کر، سچ واپس کنویں کی طرف چلا گیا اور چھپ گیا — ہمیشہ کے لیے۔ آج بھی دنیا جھوٹ کو گلے لگا لیتی ہے، اور جب کبھی سچ سامنے آتا ہے، تو اسے چھپا دیا جاتا ہے یا ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن یاد رکھو: سچ چھپ سکت...

مرد اور عورتوں کی تین اقسام – حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حکیمانہ قول

 مرد اور عورتوں کی تین اقسام – حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حکیمانہ قول حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مردوں اور عورتوں کی تین تین اقسام بیان کیں۔ عورتوں کی تین قسمیں: 1. پہلی قسم وہ عورت ہے جو نیک، باحیا، نرم مزاج، محبت کرنے والی، زیادہ بچے پیدا کرنے والی ہو، اور دنیاوی فیشن کو چھوڑ کر اپنے گھر والوں کا ساتھ دیتی ہو۔ ایسی عورت بہت کم ملتی ہے۔ 2. دوسری عورت وہ ہے جو شوہر سے ہر وقت مانگتی رہتی ہے، اور اس کے سوا اس کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ 3. تیسری عورت وہ ہے جو شوہر پر بوجھ بن جائے، بدتمیز ہو، اور اس کا مہر اتنا زیادہ ہو کہ شوہر اسے چھوڑ نہ سکے۔ ایسی عورت کو اللہ جس کے نصیب میں چاہتے ہیں ڈال دیتے ہیں، اور جب چاہتے ہیں نکال لیتے ہیں۔ مردوں کی تین قسمیں: 1. پہلا مرد وہ ہے جو نیک، عاجز، نرم مزاج ہو، اور عقل مند ہو۔ وہ اپنے فیصلے خود سوچ سمجھ کر کرتا ہے۔ 2. دوسرا مرد وہ ہے جو خود تو سمجھ دار نہیں، لیکن عقلمند لوگوں سے مشورہ کرتا ہے اور ان کی بات مانتا ہے۔ 3. تیسرا مرد وہ ہے جو نہ خود سمجھ رکھتا ہے، نہ دوسروں کی سنتا ہے، ایسے لوگ گمراہ ہو جاتے ہیں۔ ...

حضرت ابراہیمؑ اور اللہ کی تعریف کے انعامات

 حضرت ابراہیمؑ اور اللہ کی تعریف کے انعامات ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بکریوں کا ریوڑ چرا رہے تھے۔ اتنے میں ایک آدمی وہاں سے گزرا۔ اس آدمی نے بلند آواز سے اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتے ہوئے کہا: "پاک ہے وہ جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے، عزت والا، عظمت والا، قدرت والا اور بڑائی والا ہے۔" حضرت ابراہیمؑ نے جب یہ خوبصورت الفاظ سنے، تو ان کا دل خوشی سے بھر گیا۔ آپؑ نے اس آدمی سے کہا: "بھائی! یہ الفاظ دوبارہ کہہ دو، میں تمہیں اس کے بدلے آدھی بکریاں دے دوں گا۔" اس نے دوبارہ کہہ دیے، تو آپؑ کو اور مزہ آیا۔پھر آپؑ نے کہا: "ایک بار اور کہہ دو، باقی آدھی بکریاں بھی دے دوں گا۔" اس نے پھر کہہ دیے۔ آپؑ کو اتنی خوشی ہوئی کہ بے اختیار ہو کر کہا: "بھائی! ایک بار اور کہہ دو۔"اس نے کہا: "اب تو آپ کے پاس کچھ نہیں بچا، اب کیا دیں گے؟" حضرت ابراہیمؑ نے کہا: "میں تمہاری بکریاں چرایا کروں گا، بس ایک بار اور میرے رب کی تعریف کر دو۔" تب وہ آدمی مسکرا کر بولا: "حضرت! میں فرشتہ ہوں، اللہ نے مجھے بھیجا ہے تاکہ دیکھوں آپ میرے نام پر کیا دیتے ہیں۔...

مشہور عرب جادوگر حامد آدم کی توبہ – جنات، جادو اور اسلام کی طرف واپسی

عرب دنیا کے ایک مشہور جادوگر حامد آدم نے سعودی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں حیران کن انکشافات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک وقت میں بڑے جادوگر تھے اور ان کے پاس 286 جنات کام کرتے تھے۔ حامد آدم نے کہا کہ انہوں نے زندگی میں کبھی نماز نہیں پڑھی تھی اور روزے بھی چھوڑ دیے تھے۔ وہ فٹ بال ٹیموں پر جادو کرتے اور انہیں جتواتے یا ہرواتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جادو کی طرف لوگ غربت یا جہالت کی وجہ سے آتے ہیں۔ کچھ لوگ حسد کی وجہ سے بھی جادو کرواتے ہیں۔ حامد آدم نے کہا: "اگر کوئی مسلمان اللہ کی پناہ میں نہ ہو، یعنی صبح و شام کی دعائیں نہ پڑھے، تو جادو کا اثر اس پر بہت جلد ہوتا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ جس گھر میں سورہ بقرہ کی تلاوت ہوتی ہے وہاں جادو اثر نہیں کرتا۔ جنات جڑی بوٹیوں اور پودوں سے بھی نفرت کرتے ہیں۔ جب حامد آدم نے جادو سے توبہ کی تو جنات کے سردار نے انہیں دوگنا طاقت کی پیشکش کی۔ لیکن ایک سوڈانی شخص کے ذریعے ان کا رجحان شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ کی باتوں کی طرف ہوا۔ یہ باتیں سن کر ان کا دل اللہ کی طرف مائل ہوا، اور انہوں نے جادو سے ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی۔ انہوں نے بتایا: ...

اللہ پر یقین – ہر مشکل کا حل

اللہ پر یقین – ہر مشکل کا حل اللہ تعالیٰ نے حدیثِ قدسی میں فرمایا ہے "میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں، جیسا وہ میرے بارے میں گمان کرے گا، ویسا ہی پائے گا۔" ہم یہ حدیث پڑھتے تو ہیں، لیکن اس کو دل سے سمجھتے نہیں۔ کیا تم جانتے ہو کہ: جب حضرت موسیٰؑ کے پیچھے فرعون کی فوج تھی، تب اللہ نے سمندر کو دو حصوں میں کیوں بانٹ دیا؟ جب حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں ڈالا گیا، تب آگ ٹھنڈی کیوں ہو گئی؟ جب حضرت یوسفؑ کو کنویں میں پھینکا گیا، اللہ نے ان کا خیال کیوں رکھا؟ حضرت ہاجرہؑ صحرا میں تھیں، اللہ نے زم زم کا چشمہ کیوں دیا؟ حضرت یونسؑ مچھلی کے پیٹ میں تھے، پھر بھی محفوظ کیوں رہے؟ حضرت زکریاؑ کو بڑھاپے میں اولاد کیوں ملی؟ ان سب میں ایک چیز مشترک تھی: یقین انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے یقین رکھا کہ اللہ راستہ نکالے گا۔ اور واقعی، اللہ نے ان کے لیے راستہ بنا دیا۔ اللہ پر یقین رکھنے والوں کو وہ کبھی مایوس نہیں کرتا۔ توکل یہ ہے کہ راستہ نظر نہ آئے، لیکن تم پھر بھی کہو کہ "اللہ راستہ بنانے والا ہے" اور جب تم اللہ سے اچھا گمان رکھو گے، تو وہ تمہیں ہمیشہ اچھا ہی دے گا۔اور پھر تم دیکھو گے...

بابا فریدؒ اور کھوٹے سکے – ایک عبرت انگیز واقعہ

 ایک بار بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ اپنے خاص مریدوں سے بات کر رہے تھے۔ یہ وہ مرید تھے جو روحانی طور پر بہت بلند مقام پر پہنچ چکے تھے۔ دورانِ گفتگو بابا جی نے فرمایا کہ ہرات شہر میں ایک بزرگ رہتے تھے۔ ان کا کام سالن بنانا اور بیچنا تھا۔ ایک دن وہ حسبِ معمول سالن کی دیگ تیار کرکے بیٹھے تھے کہ ایک عورت آئی اور سالن مانگا۔ بزرگ نے سالن دے دیا۔ اس عورت نے بدلے میں ایک کھوٹا سکہ دیا۔ بابا جی نے سکہ لے کر بغیر کچھ کہے غلے میں رکھ دیا، یہ ظاہر نہیں کیا کہ انہیں پتہ ہے کہ سکہ کھوٹا ہے۔ پھر وہ عورت گاؤں میں جا کر کہنے لگی کہ فلاں جگہ پر ایک بزرگ ہیں، انہیں کھوٹے سکے کی پہچان نہیں ہے۔ یہ سن کر اور عورتیں اور لوگ بھی آنے لگے اور کھوٹے سکے دے کر سالن لے جاتے۔ بابا جی سب کو خاموشی سے سالن دے دیتے۔ کچھ دن بعد بابا جی بیمار ہو گئے۔ جب گاؤں کے کچھ لوگ ان کا حال پوچھنے آئے تو بابا جی نے فرمایا کہ مجھے مصلہ بچھا دو۔ جب مصلہ بچھا دیا گیا تو بابا جی اس پر بیٹھے اور اپنے سامنے کھوٹے سکوں کی تھیلیاں رکھ دیں۔ پھر اللہ تعالیٰ سے عرض کرنے لگے: "اے اللہ! تیری مخلوق میرے پاس کھوٹے سکے لاتی رہی، میں بغیر کچھ کہ...