آج کا ایک خاموش پیغام، مسلمانوں کے نام

ابو جہل جانتا تھا کہ "لا" کا کیا مطلب ہے۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ "الٰہ" کا کیا مطلب ہے۔۔۔ اور وہ "الا اللہ" کا مطلب بھی خوب سمجھتا تھا۔ اگر اسلام صرف زبانی کلمہ پڑھ لینے اور پھر جو دل چاہے کرنے کا نام ہوتا — جیسے کہ ناپ تول میں کمی کرنا، زخیرہ اندوزی کرنا، ناجائز منافع خوری، ملاوٹ، جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، یتیموں اور بیواؤں کا حق کھانا، وراثت نہ دینا، عورتوں پر ظلم کرنا، زنا، بلیک میلنگ، معصوموں کا ریپ اور قتل کرنا، بزرگوں کی قبروں پر چڑھاوے چڑھانا، ان کو اللہ کے برابر سمجھنا — تو ابو جہل اور دوسرے مشرکین کو اسلام قبول کرنے میں کوئی دقت نہ ہوتی۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ "لا الٰہ الا اللہ" پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ: لات، منات، ہبل جیسے بتوں کو چھوڑنا پڑے گا، قبروں اور بزرگوں کے سامنے جھکنا چھوڑنا پڑے گا، صرف اور صرف اللہ کو مدد کے لیے پکارنا پڑے گا، جھوٹ، دھوکہ، ملاوٹ، ظلم اور ہر طرح کی برائی کو چھوڑنا پڑے گا۔ اسی لیے ابو جہل کلمہ نہیں پڑھتا تھا۔ آج کا نام نہاد مسلمان کلمہ تو پڑھتا ہے، مگر: یا علی مدد، یا غوث المدد کہتا ہے، قبروں پر سجدے کرتا ہے، بزرگوں کو بگڑی سنوارنے والا سمجھتا ہے، اور ساتھ ساتھ جھوٹ، دھوکہ، ملاوٹ، ظلم اور قتل بھی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کا ظاہری مسلمان اُس دور کے مشرکین سے بھی زیادہ خطرناک ہو گیا ہے۔ کیونکہ اُس نے کلمہ پڑھ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ وفاداری کا وعدہ کیا، لیکن عمل میں اُس وعدے کو توڑ دیا۔

Comments