Posts

Showing posts from May, 2025

حجاب میں لپٹی غیرت۔۔۔ غزہ کی بیٹی کا ایمان افروز سوال

لڑائی کے دوران ایک عراقی بچی نے ویڈیو بنانے والے شخص سے کہا: "انکل! میری ویڈیو مت بنائیے گا، میں بے حجاب ہوں۔" 🥹 یہ جملہ گولیوں کی آواز میں ایسی چیخ تھی جو دلوں کو چیر گئی۔ ارضِ مقدس سے ایک بہن نے علمائے کرام سے فتویٰ مانگا: "جب ہم رات کو سونے لگتی ہیں تو اپنے آپ کو اچھی طرح حجاب میں لپیٹ لیتی ہیں، تاکہ اگر رات کو حملہ ہو جائے تو ہم بے حجاب نہ ہوں۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ اگر حملے کے بعد ہمارا حجاب اُتر جائے تو کیا ہم گناہ گار ہوں گی؟" فقیہ کا جواب: اے میری فرشتہ صفت بہن! تمہارے حجاب پر، تمہارے پردے پر ہم سب کی جانیں قربان! ایسی سخت اور جان لیوا حالت میں بھی شرم و حیاء سے بھری ہوئی سوچ رکھنے والی بہن! شریعت ہنگامی حالات میں بہت سی چھوٹ دیتی ہے۔ جیسے کہ اگر کوئی عورت کسی نہر میں گر جائے تو کوئی بھی مرد اُسے بچا سکتا ہے۔ نہ کہ اُسے اس لیے مرنے دیا جائے کہ وہاں کوئی محرم مرد نہیں ہے۔ یا اگر کوئی عورت ایسی بیماری میں مبتلا ہو جس کے لیے عورت ڈاکٹر موجود نہیں، تو مرد ڈاکٹر علاج کر سکتا ہے۔ شریعت اجازت دیتی ہے۔ بہت سے لوگ غیرت کے نام پر عورتوں کی جانیں ضائع کر...

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سیرت - رسول کریم ﷺ کی پہلی زوجہ

جب حضور پاک ﷺ کی عمر 25 سال تھی، تب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کی سچائی اور بہترین اخلاق کے بارے میں سن کر چاہا کہ آپ ان کا مالِ تجارت لے کر سفر کریں۔ انہوں نے اپنا غلام "میسرہ" بھی آپ کے ساتھ بھیجا۔ جب میسرہ تجارت سے واپس آیا تو اس نے آپ ﷺ کی اعلیٰ اخلاق کی بہت تعریف کی اور کچھ معجزات کا بھی ذکر کیا۔ اس دفعہ تجارت میں بہت زیادہ منافع ہوا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد کا نام خویلد بن اسد تھا اور والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدة تھا۔ حضرت خدیجہ کے پڑدادا "قصی" حضور پاک ﷺ کے بھی جد امجد تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح "ابو ہالہ بن زرارہ تمیمی" سے ہوا تھا جن سے دو بیٹے "ہند" اور "ہالہ" پیدا ہوئے۔ دونوں نے بعد میں اسلام قبول کیا۔ ابو ہالہ کے انتقال کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نکاح "عتیق بن عائد مخزومی" سے ہوا جن سے ایک بیٹی "ہند" پیدا ہوئی، اس بیٹی نے بھی اسلام قبول کیا۔ کچھ عرصے بعد عتیق کا بھی انتقال ہو گیا اور حضرت خدیجہ دوسری مرتبہ بیوہ ہو...

واقعہ افک

صحیح بخاری   واقعہ افک۔   حدیث نمبر: 4141   ترجمہ:   ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے صالح بن کیسان نے ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر ‘ سعید بن مسیب ‘ علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ ؓ نے کہ جب اہل افک (یعنی تہمت لگانے والوں) نے ان کے متعلق وہ سب کچھ کہا جو انہیں کہنا تھا (ابن شہاب نے بیان کیا کہ) تمام حضرات نے (جن چار حضرات کے نام انہوں نے روایت کے سلسلے میں لیے ہیں) مجھ سے عائشہ ؓ کی حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا۔ یہ بھی تھا کہ ان میں سے بعض کو یہ قصہ زیادہ بہتر طریقہ پر یاد تھا اور عمدگی سے یہ قصہ بیان کرتا تھا اور میں نے ان میں سے ہر ایک کی روایت یاد رکھی جو اس نے عائشہ ؓ سے یاد رکھی تھی۔ اگرچہ بعض لوگوں کو دوسرے لوگوں کے مقابلے میں روایت زیادہ بہتر طریقہ پر یاد تھی۔ پھر بھی ان میں باہم ایک کی روایت دوسرے کی روایت کی تصدیق کرتی ہے۔ ان لوگوں نے بیان کیا کہ عائشہ ؓ نے بی...

ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہ کا مقام اور مرتبہ

ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہ کا مقام اور مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کی وجہ سے آپ کی بیویاں یعنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہ کا بہت ہی اونچا مقام ہے۔ قرآنِ مجید میں کئی آیتیں نازل ہوئیں جن میں ان کی عظمت اور شان بیان کی گئی ہے۔ جیسے کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: ’’اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ سے ڈرتی ہو۔‘‘ (سورۃ احزاب) دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور نبی کی بیویاں، مومنوں کی مائیں ہیں۔‘‘ (سورۃ احزاب) یہ بات پوری امت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں دو باتوں میں مومنوں کی حقیقی ماؤں جیسی ہیں: 1. ان سے نکاح ہمیشہ کے لیے کسی کے لیے جائز نہیں۔ 2. ان کا ادب اور احترام ہر مسلمان پر فرض ہے، بلکہ اپنی ماں سے بھی زیادہ۔ مگر نظر اور تنہائی کے معاملے میں وہ حقیقی ماں کی طرح نہیں ہیں، کیونکہ قرآن میں فرمایا گیا: ’’جب نبی کی بیویوں سے کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔‘‘ (سورۃ احزاب) مسلمان اپنی ماں کو دیکھ سکتا ہے، تنہائی میں بات کر سکتا ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے ہر مسلمان کے لی...

خواب: نبوت کا 46 واں حصہ | خوابوں کی حقیقت اور روحانی اہمیت

بسم اللہ الرحمن الرحیم شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے، جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔   خواب۔۔۔ نبوت کا 46 واں حصہ رسالت کی مدت 23 سال اور 12 مہینے ہے۔ اگر 23 کو 12 سے ضرب دیں تو جواب آتا ہے 276 مہینے۔ جب ہم 276 کو 46 پر تقسیم کرتے ہیں تو جواب آتا ہے 6۔ یہ وہ 6 مہینے ہیں، جو رسالت کے آغاز میں گزرے، جب آپ ﷺ کو صرف خوابوں کے ذریعے باتیں بتائی جاتیں۔ آپ ﷺ نے خوابوں کو بہت اہمیت دی ہے۔ پاکیزہ روح والے لوگ اچھے خواب دیکھتے ہیں۔ خواب روحانی بیداری کی نشانی ہیں۔ یہ نبوت کے حصوں میں سے ایک حصہ ہیں۔ آپ ﷺ روزانہ صحابہ کرامؓ سے پوچھا کرتے تھے: "کیا تم میں سے کسی نے خواب دیکھا؟" سب سے اچھا خواب وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ یا نبی کریم ﷺ کی زیارت ہو۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے یقیناً مجھے ہی دیکھا۔" ایسی ہی کیفیت مدینہ منورہ، کعبۃ اللہ کو دیکھنے کی ہوتی ہے۔ یہ سب شعائر اللہ میں شامل ہیں۔ شعائر اللہ میں اولیاء کرام کے مقامات، اور ان کی زیارتیں بھی شامل ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے خواب بیداری کی طرح ہوتے ہیں، اور جن کے خوا...

انا للہ و انا الیہ راجعون کا طاقتور وظیفہ | 66 بار پڑھنے سے کیا ہوتا ہے؟

انا لله وانا اليه راجعون (البقرة 156) ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ یہ ایک بہت ہی حیرت انگیز عمل ہے۔ یہ عمل نہایت آسان ہے، سادہ ہے، لیکن اس کے فائدے بہت عجیب اور حیرت انگیز ہیں۔ اگر کسی کو زندگی میں بہت زیادہ تکلیفیں آئی ہوں، یا اب بھی وہ کسی دکھ یا پریشانی میں ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ ان تکلیفوں کو یاد کرے، جو پہلے گزر چکی ہیں، اور جو اس وقت چل رہی ہیں، اور اس آیت کو روزانہ 66 بار پڑھے۔ یاد رکھیں! پڑھتے وقت ان تکلیفوں کو دل میں لا کر یاد کریں۔ پرانے دکھ بھی، اور موجودہ مسائل بھی۔ انشاء اللہ، اس عمل کی برکت سے فائدہ ضرور ہوگا۔ یہ عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے۔ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ بہتر بدلہ ضرور دیتا ہے۔ حضرت سعد بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: یہ عمل صرف امت محمدیہ کو دیا گیا ہے۔ حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب میرے شوہر کا انتقال ہوا، تو میں نے یہ دعا پڑھی، تو اللہ نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح نصیب فرما دیا۔ یہ ایسی بات تھی جو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔ اللہ اکبر

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر عامر بن طفیل اور اربد کی سازش

بسم اللہ الرحمن الرحیم شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اربد بن قیس بن جعفر بن خالد بن کلاب اور عامر بن طفیل بن مالک مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے سامنے بیٹھ گئے۔ عامر کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اگر میں اسلام لے آؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے حقوق اور فرائض دیگر مسلمانوں ہی کی طرح ہوں گے۔ عامر نے کہا: کیا آپ کے بعد مجھے حکومت مل سکتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نہ تجھے ملے گی نہ تیری قوم کو، البتہ تمہیں لشکر اسلام کی مدد کرنا ہوگی۔ عامر نے کہا: اس وقت تو میں لشکر نجد کی مدد میں ہوں۔ ایسا کریں کہ آپ میرے لیے دیہات کی حکومت مقرر کر دیں اور اپنے لیے شہروں کی حکومت رکھ لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ پھر جب یہ دونوں اٹھنے لگے تو عامر نے آپ سے کہا: میں تمہارے مقابلے میں اس قدر سوار اور پیادہ لشکر لاؤں گا کہ یہ وادی بھر جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہیں اس سے باز رکھے گا۔ باہر ...

تسبیح فاطمہؓ کی فضیلت اور روحانی فوائد

تسبیح فاطمہؓ کی فضیلت اور روحانی فوائد   بسم اللہ الرحمن الرحیم شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.      تسبیح فاطمہؓ وہ خاص عمل ہے جو نبی کریم ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ الزہراؓ کو عطا فرمایا۔ اس میں تین کلمات شامل ہیں: سبحان اللہ 33 بار، الحمد للہ 33 بار، اللہ اکبر 34 بار، اور کلمہ طیبہ 1 بار۔ یہ عمل سونے سے پہلے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ تسبیح روزانہ رات کو پڑھ لی جائے تو نہ صرف جسمانی تھکاوٹ ختم ہو جاتی ہے بلکہ روحانی سکون بھی نصیب ہوتا ہے، اور دنیاوی کاموں میں آسانی آتی ہے۔ یہ عمل حضرت فاطمہؓ جیسے اعلیٰ مقام رکھنے والی ہستی کے لیے تجویز کیا گیا، تو ہم سب کے لیے اس کی اہمیت اور برکت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ بعض بزرگوں نے اس تسبیح کو زیادہ تعداد میں پڑھنے کی بھی تلقین کی ہے، جیسے حضرت شیخ عبد اللہ سہروردیؒ نے اسے 3300 بار پڑھنے کا مشورہ دیا، جس سے روحانی فیض مزید بڑھ جاتا ہے۔ پڑھنے کے دوران اگر انسان اپنے دل و دماغ کو مکمل طور پر اللہ کی طرف متوجہ کرے، تو یہ ذکر اس کے دل ...

ماں کی عظمت اور قومی ترقی میں اس کا کردار – 11 مئی ماں کا دن

بسم اللہ الرحمن الرحیم شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ماں کو عربی میں "ام" کہا جاتا ہے جس کا مطلب "اصل" ہے۔ شاید اس لیے کہ معاشرے اور قوم کی اصل ماں ہے۔ چاہے ہم کتنی بھی ترقی کر لیں، ہم خود کو اور اپنی قوم کو نہیں بچا سکتے جب تک ہم ماں کی قدر اور عزت نہ سمجھیں۔ ایک سیاست دان، ولی اللہ، آرٹسٹ، انجینئر، ڈاکٹر یا سائنسدان سے بڑھ کر ماں کی اہمیت ہے کیونکہ یہ سب ماں کی گود میں پروان چڑھے ہیں۔ ماں قومی زندگی کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ ہمیں خدا کے لیے اپنے ملک میں ایسی قانون سازی کرنی چاہیے جس سے ماؤں کو سہولت ملے تاکہ وہ اپنی اولاد کی پرورش اپنی محبت سے کر سکیں۔ ایسی مائیں جو اپنے بچوں کو پیار سے پالتی ہیں، وہ قوم کے لیے ذہین، محبت کرنے والے لوگ پیدا کرتی ہیں اور ملک ترقی کرتا ہے۔ جو بچے بچپن میں ماں کی محبت سے محروم رہتے ہیں، وہ قوم و ملک کو کیا دے سکتے ہیں؟ In Arabic, the word for mother is "Um", which means "origin". Maybe this is because the foundation of society and the nation is the mother. No matte...

توحيد ذات

توحیدِ ذات  بسم اللہ الرحمن الرحیم شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا ۔مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔۔۔   اگر تم توحیدِ ذات کو سمجھنا چاہتے ہو، تو اپنے آپ کو اور پوری کائنات کو اپنے رب کی نظر سے دیکھو۔ ایک قول ہے: "عرفتُ ربی بربی" یعنی میں نے اپنے رب کو، اُسی کے ذریعے پہچانا۔ تم اپنے آپ کو اللہ سے الگ سمجھتے ہو، لیکن اللہ تمہیں اپنا غیر (الگ) نہیں سمجھتا۔ بلکہ اس کی نظر میں تو کوئی غیر ہے ہی نہیں، کیونکہ ازل سے آج تک اس کے سوا کوئی تھا ہی نہیں۔ قرآن میں آتا ہے: "وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ" یعنی وہ آنکھوں کا احاطہ کر لیتا ہے۔ جب وہ ہر آنکھ کو گھیر لیتا ہے تو پھر اس کے علاوہ کچھ نظر آ ہی نہیں سکتا۔ جیسے باپ کو "مربی" اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا تم سے ایسا تعلق ہے کہ تم اپنے وجود کے ہوتے ہوئے اس کا انکار نہیں کر سکتے۔ کیونکہ تمہارا وجود اُس سے جڑا ہوا ہے۔ تو جو رب العالمین ہے، اُس سے تمہارے نفس (خودی) اور پوری کائنات کا تعلق پہچانو۔ میرے عزیز! اگر باپ خود کہہ دے کہ جاؤ، اب میرا تم سے کوئی تعلق نہیں، تو بھی یہ بات صرف زبان کی ہوگی، حقیقت میں نہیں۔ وہ ...

پانی سے تخلیق Created from Water

بسم اللہ الرحمن الرحیم شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے پانی سے تخلیق وكان عرشه على الماء (سورہ ہود ) اور اسکا عرش پانی پر تھا۔ تمام تخلیقات پانی سے پیدا ہوئیں اور پانی آکسیجن اور ہائیڈ روجن کے ایٹم ہیں یہی اجزائے زندگی ہیں ۔ اللہ کا کوئی رنگ نہیں، پانی کا بھی کوئی رنگ نہیں ۔ اللہ ہر ایک میں ہے، پانی بھی ہر ایک میں ہے ۔ اللہ زندہ کرنے والا ہے، پانی بھی زندگی بخش رہا ہے۔ نہ ہو تو زندگی ہی نہیں ۔ سمندر کی وسعت خوف پیدا کرتی ہے، اللہ کی کبریائی بھی خوف پیدا کرتی ہے۔ پانی مار دیتا ہے۔ اللہ بھی مار دیتا ہے۔ پانی تسکین دیتا ہے ، ان کی بھی اطمینان و سکون دیتا ہے۔ پانی رنگینی کا ئنات ہے۔ اللہ بھی وجہ کائنات ہے۔ پانی انسان کی اصل وجود ہے۔ اللہ انسان کی اصل وجود ہے پانی ایک راز ہے، اللہ ایک راز ہے۔ پانی کے ساتھ حیات، سبزہ زارو بہار۔ پانی کی قدر کرو، اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں ہے..  وكان عرشه على الماء(Surah Hud). Allah’s throne was on water. All creations were made from water. Water is made of oxygen and hydrogen atoms — the elements of life. Allah h...

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی دعوت – جنگ خندق کا ایمان افروز واقعہ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ خندق کے وقت ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خندق کھودنے میں مصروف تھے۔ ہمیں تین دن ہو چکے تھے، نہ کھانا ملا، نہ کھانے کی طاقت باقی تھی۔ اسی دوران خندق میں ایک سخت چٹان آ گئی۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور عرض کیا: "خندق میں ایک چٹان رکاوٹ بن گئی ہے۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، آپ کے پیٹ پر بھوک کی شدت کی وجہ سے پتھر بندھا ہوا تھا۔ آپ نے کھدال اٹھائی، "بسم اللہ" پڑھ کر چٹان پر تین بار ضرب لگائی، تو وہ چٹان ریت کی طرح ٹوٹ گئی۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت دیکھی تو دل برداشتہ ہو گیا۔ میں اجازت لے کر گھر آیا اور بیوی سے کہا: "تجھے تیری ماں روئے! میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بھوک دیکھی، کیا کھانے کو کچھ ہے؟" بیوی نے کہا: "تھوڑے سے جو ہیں اور بکری کا ایک چھوٹا سا بچہ ہے۔" میں نے بکری کا بچہ ذبح کیا، گوشت پکنے کو چڑھایا، آٹا گوندھا، اور دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ وہاں کچھ دیر کام کیا، پھر چپکے سے آپ کے کان میں کہا: "یا رسول اللہ! ہمارے گھر...

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا پر در و دیوار کا آمین کہنا – حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا واقعہ

اسلامی تاریخ کے حسین واقعات میں سے ایک واقعہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے بچوں کے ساتھ پیش آیا، جسے حضرت ابو سعید ساعدی بدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس بن عبد المطلب سے ملے اور فرمایا: "کل آپ اور آپ کے بچے گھر سے نہ نکلیں۔" ایک اور روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: "اے عباس! کل آپ اور آپ کے بچے گھر میں رہیں، مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے۔" حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے تمام بچوں کو ایک کمرے میں جمع کر لیا۔ اگلے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے اور فرمایا: "السلام علیکم! تم نے کیسی صبح کی؟" سب نے جواب دیا: "اچھی صبح کی ہے اور ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں۔ یا رسول اللہ! آپ پر ہمارے ماں باپ قربان ہوں!" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قریب آ جاؤ، قریب آ جاؤ!" سب افراد قریب ہو کر بیٹھ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر اپنی چادر ڈال دی اور دعا کی: "اے اللہ! یہ عباس میرا چچا ہے، اور یہ میرے اہل بیت ہیں۔ انہیں آگ سے ایسے بچا لے جیسے میری چادر نے انہیں چھپا رکھا ہے۔...

وہ ہندو جس کی چتا کو آگ نہ لگی — قرآن سے محبت کا انوکھا صلہ

تقسیمِ ہند سے پہلے لاہور میں دو بڑے اشاعتی ادارے تھے۔ ایک ادارہ درسی کتابیں شائع کرتا تھا، جس کے مالک میسرز عطر چند اینڈ کپور تھے۔ دوسرا ادارہ پنڈت نول کشور کا تھا۔ اگرچہ وہ ہندو تھے، مگر وہ قرآنِ پاک کی طباعت اور اشاعت کا کام نہایت ادب و احترام سے کرتے تھے۔ نول کشور جی نے قرآن پاک کے لیے وہ معیار مقرر کیا جو شاید ہی کسی اور غیر مسلم نے اپنایا ہو۔ وہ پنجاب بھر سے بہترین حفاظِ کرام کو اچھی تنخواہوں پر ملازم رکھتے۔ جہاں قرآن پاک کی جلد بندی ہوتی، وہاں جوتے پہن کر داخلہ منع تھا — یہاں تک کہ خود نول کشور بھی ننگے پاؤں جاتے۔ ادارے میں دو ملازمین صرف اس کام پر مامور تھے کہ وہ دن بھر کمروں میں گھوم کر ایسے کاغذات جمع کرتے جن پر قرآن کی آیات لکھی ہوتیں، پھر ان کاغذات کو عزت کے ساتھ دفن کیا جاتا۔ تقسیمِ ہند کے بعد نول کشور جی دلی چلے گئے اور وہاں بھی قرآن کی اشاعت کا سلسلہ جاری رکھا۔ بڑھاپے میں ادارے کا انتظام بچوں کے سپرد کر دیا، مگر احترامِ قرآن کا معیار وہی رہا۔ جب نول کشور جی کا انتقال ہوا تو ہزاروں لوگ ان کے جنازے میں شریک ہوئے۔ ان کی لاش کو شمشان گھاٹ میں لے جا کر چتا پر رکھا گیا۔ مگر...

ایک نعت، ایک عاشق، اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بےمثال واقعہ

حضرت مولانا جامیؒ بہت بڑے عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ اُن کے دل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اس قدر غالب تھی کہ اُن کی ہر بات، ہر شعر میں عشق رسول کی خوشبو آتی تھی۔ ایک مرتبہ حضرت جامیؒ نے ایک نعت لکھی۔ اُن کا ارادہ تھا کہ جب وہ حج کے لیے جائیں گے، تو حج کے بعد مدینہ منورہ جا کر روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر یہ نعت پڑھیں گے۔ جب وہ حج کے لیے تشریف لے گئے اور حج ادا کرنے کے بعد مدینہ جانے کا ارادہ کیا، تو اُس وقت کے امیرِ مکہ کو خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "جامیؒ کو مدینہ آنے سے روک دو۔" امیرِ مکہ نے جب یہ خواب دیکھا تو فوراً اعلان کروایا کہ حضرت جامیؒ کے مدینہ میں داخلے پر پابندی ہے۔ حضرت جامیؒ چونکہ عاشقِ رسول تھے، اُن پر یہ پابندی بہت گراں گزری۔ اُن کا دل تڑپ اٹھا۔ وہ کسی نہ کسی طرح مدینہ منورہ جانے کی کوشش کرنے لگے۔ کچھ سیرت نگار لکھتے ہیں کہ وہ ایک قافلے کے صندوق میں بند ہو کر مدینہ جانے لگے، لیکن پھر بھی اُنہیں روک لیا گیا۔ کچھ روایتوں می...

آدم علیہ السلام سے پہلے زمین پر آباد 28 مخلوقات کا حیرت انگیز راز

آدم علیہ السلام سے پہلے زمین پر آباد 28 مخلوقات کا حیرت انگیز راز کیا آپ جانتے ہیں کہ سیدنا آدم علیہ السلام کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے زمین پر 28 قسم کی مخلوقات موجود تھیں؟ مختلف وقتوں میں کئی ہزار سال تک یہ عجیب و غریب مخلوقات زمین پر رہتی رہیں۔ جنات کے بارے میں تو سب ہی جانتے ہیں کہ آدم علیہ السلام سے پہلے وہ زمین پر آباد تھے۔ پھر جب جنات نے نافرمانی اور شرارت شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بھیجا۔ فرشتوں نے جنات کو قتل کیا اور باقیوں کو زمین سے نکال کر جزیروں میں بھیج دیا۔ لیکن جنات سے پہلے بھی 27 قسم کی مخلوقات زمین پر آباد تھیں! ان میں سے بِن، پھر خِن، پھر مِن نامی مخلوق زمین پر رہتی رہی۔ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے "البدایہ والنہایہ" میں لکھا ہے کہ بِن اور خِن زمین پر رہتے تھے، لیکن وہ بھی سرکش ہو گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جنات کو بھیجا جنہوں نے بِن اور خِن کو زمین سے نکال دیا۔ (یہ بات یاد رکھیں کہ ان سب کو مارا نہیں گیا بلکہ صرف زمین کی حدود سے نکال دیا گیا۔ ہو سکتا ہے وہ کسی اور زمین یا سیارے پر آباد ہو چکے ہوں، اور وہی آج کل کی خلائی مخلوق ہو سکتی ہے۔) ...

فرعون کی بیوی آسیہ کا ایمان اور صبر – جنت کی طلب میں قربانی کی عظیم مثال

آسیہ، فرعون کی بیوی تھی۔ وہ ایک بہت بڑے محل میں رہتی تھی۔ اُس کے پاس بہت سارے نوکر اور کنیزیں تھیں۔ اُس کی زندگی آرام اور آسائش سے بھری ہوئی تھی۔ اُس کا شوہر فرعون، ایک ظالم اور سخت دل بادشاہ تھا۔ وہ خود کو خدا کہتا تھا اور دعویٰ کرتا تھا: "میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔" فرعون، جو کبھی ایک چھوٹی سی ناپاک بوند (نطفہ) تھا، دولت، فوج اور غلاموں کے غرور میں مبتلا ہو گیا تھا۔ لیکن اُس کی اپنی بیوی، آسیہ بنت مزاحم، نے اُس کے اس جھوٹے دعوے کو ماننے سے انکار کر دیا۔ شروع میں وہ اپنا ایمان چھپاتی رہی۔ لیکن جب اُس نے کھلم کھلا ایمان کا اعلان کیا، تو فرعون نے اُسے سخت سزائیں دینا شروع کر دیں۔ آسیہ اُن چار عورتوں میں سے ایک تھیں جنہیں دنیا کی سب سے عظیم عورتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک دن، ایک ماں اپنی بیٹی کے بال سنوار رہی تھی، اُس نے اللہ کا نام لیا۔ فرعون نے یہ سن کر اُس ماں اور اُس کے بچوں کو اُبلتے ہوئے تیل میں ڈال دیا۔ جب آسیہ کو یہ بات بتائی گئی، تو اُس نے اپنے شوہر فرعون سے کہا: "تم پر افسوس ہے! تم اللہ سے کیسے نہیں ڈرتے!" فرعون نے کہا: "کیا تم پر بھی وہی پاگل ...

مدائن صالح اور عذاب الٰہی کی نشانیاں

مدینہ منورہ سے تقریباً 300 کلومیٹر دور ایک خاموش علاقہ ہے، جسے مدائن صالح کہا جاتا ہے۔ یہاں حضرت صالح علیہ السلام کی قوم آباد تھی۔ اس قوم کو قوم ثمود بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قوم حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کے ہم زمانہ تھے۔ حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کو قوم عاد کہا جاتا ہے، جن کے آثار آج کل بحرین کے صحرا ابار میں موجود ہیں۔ قوم ثمود نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا۔ وہ لوگ لمبے چوڑے، مضبوط اور بہت طاقتور تھے۔ انہوں نے پہاڑوں کے اندر اپنے گھر بنا رکھے تھے، جو ہر موسم کی شدت کو برداشت کر سکتے تھے۔ جب حضرت صالح علیہ السلام نے ان کو اللہ کی طرف بلایا، تو وہ کہتے: "اے صالح! ہمارے گھروں کو دیکھو، کیا ہم بہت طاقتور نہیں؟ اگر ہمارے جیسی کوئی اور قوم ہے تو اسے سامنے لاؤ۔" لیکن جب انہوں نے اللہ کی نشانی، یعنی ایک اونٹنی کو قتل کر دیا، تو اللہ کا عذاب اُن پر آ گیا۔ اونٹنی کے قتل کے بعد حضرت صالح علیہ السلام نے قوم کو عذاب آنے کی خبر دی۔ اونٹنی کو قتل کرنے والا شخص قیدار بن سالف تھا۔ اُس نے آٹھ بدتمیز ساتھیوں کو ساتھ لیا اور رات کو حضرت صالح علیہ السلام اور ان کے گھر والوں کو قتل کرنے کی سازش...

شیخ عبدالقادر جیلانیؒ

جب غوث الاعظمؒ نے فرمایا: "میرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہے"، تو اُس وقت کے سب اولیاء نے اپنے سر جھکا دیے اور کہا: "ہماری گردن پر بھی"۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اپنے وقت کے سب سے بڑے ولی اللہ تھے۔ آپ اُس وقت کی طاقتور حکومت عباسی خلافت کے دارالحکومت بغداد میں رہتے تھے۔ آپ نجیب الطرفین سید تھے، یعنی آپ کے والد بھی سید تھے اور والدہ بھی۔ جس طرح آپ کی زندگی عجیب اور نرالی ہے، اُسی طرح آپ کے والدین کی شادی بھی بڑی عجیب اور سبق آموز ہے۔ آپ کے والد ایک دن دریا کے کنارے جا رہے تھے کہ انہوں نے دریا میں ایک سیب بہتا ہوا دیکھا۔ انہوں نے وہ سیب کھا لیا۔ کھانے کے بعد خیال آیا کہ یہ سیب تو کسی کا ہے، میں نے بغیر اجازت کیوں کھا لیا۔ یہ سوچ کر وہ دریا کے کنارے اُس طرف چل پڑے جہاں سے سیب بہتا ہوا آیا تھا۔ تین دن مسلسل چلتے رہے، تب ایک باغ نظر آیا جس میں سیب کے درخت تھے اور ان کی شاخیں دریا پر جھکی ہوئی تھیں۔ وہ سمجھ گئے کہ سیب یہیں سے آیا ہے۔ انہوں نے باغ کے مالک سے سیب کھانے کی اجازت مانگی اور معافی چاہی۔ باغ کے مالک، جو خود ایک نیک بزرگ تھے، بولے: "میں اسی شرط پر معاف ...