توحيد ذات
توحیدِ ذات
بسم اللہ الرحمن الرحیم شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا ۔مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔۔۔
اگر تم توحیدِ ذات کو سمجھنا چاہتے ہو، تو اپنے آپ کو اور پوری کائنات کو اپنے رب کی نظر سے دیکھو۔ ایک قول ہے: "عرفتُ ربی بربی" یعنی میں نے اپنے رب کو، اُسی کے ذریعے پہچانا۔
تم اپنے آپ کو اللہ سے الگ سمجھتے ہو، لیکن اللہ تمہیں اپنا غیر (الگ) نہیں سمجھتا۔ بلکہ اس کی نظر میں تو کوئی غیر ہے ہی نہیں، کیونکہ ازل سے آج تک اس کے سوا کوئی تھا ہی نہیں۔
قرآن میں آتا ہے: "وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ" یعنی وہ آنکھوں کا احاطہ کر لیتا ہے۔ جب وہ ہر آنکھ کو گھیر لیتا ہے تو پھر اس کے علاوہ کچھ نظر آ ہی نہیں سکتا۔
جیسے باپ کو "مربی" اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا تم سے ایسا تعلق ہے کہ تم اپنے وجود کے ہوتے ہوئے اس کا انکار نہیں کر سکتے۔ کیونکہ تمہارا وجود اُس سے جڑا ہوا ہے۔
تو جو رب العالمین ہے، اُس سے تمہارے نفس (خودی) اور پوری کائنات کا تعلق پہچانو۔
میرے عزیز! اگر باپ خود کہہ دے کہ جاؤ، اب میرا تم سے کوئی تعلق نہیں، تو بھی یہ بات صرف زبان کی ہوگی، حقیقت میں نہیں۔ وہ شاید تمہاری نافرمانیوں یا ضد کی وجہ سے ناراض ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا جانتی ہے: ہر وجود کسی دوسرے وجود سے جڑا ہوا ہے۔
اسی لیے کوئی تو "علّت العلل" (سب کچھ پیدا کرنے والا سبب) ضرور ہے۔
فرض کرو اگر ماں باپ یہ اعلان بھی کر دیں کہ تم ان کی اولاد نہیں، اور یہ بات اخبار میں آ جائے، حکومت بھی مان لے، لوگ بھی پڑھ لیں، تب بھی لوگ یہی کہیں گے کہ انہوں نے اپنی اولاد کو عاق کر دیا ہے — یعنی تعلق اب بھی مانا جائے گا۔
اس لیے، ماں باپ سے جب اتنا گہرا تعلق ہے، تو سوچو! تمہارے خالق، رب العالمین، اور رب الرحیم سے تمہارا کتنا گہرا اور سچا تعلق ہے۔
Comments
Post a Comment