Posts

Showing posts from March, 2025

نبی کریم ﷺ کی محبت اور فقر و تنگدستی

 نبی کریم ﷺ کی محبت اور فقر و تنگدستی – تین ایمان افروز واقعات1. حضرت ابو ذر (رضی اللہ عنہ) کا واقعہ حضرت ابو ذر (رضی اللہ عنہ) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں آپ اور آپ کے اہلِ بیت سے محبت کرتا ہوں۔" نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "کیا واقعی؟ اللہ کی قسم کھا کر کہو؟" حضرت ابو ذر (رضی اللہ عنہ) نے کہا: "اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔" اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "پھر فقر اور تنگدستی کے لیے تیار رہو، کیونکہ جو ہم سے محبت کرتا ہے، اس پر تنگدستی اتنی تیزی سے آتی ہے جیسے پہاڑ سے پانی کا سیلاب!" (حاکم، سلسلہ احادیث صحیحہ) ---2. حضرت کعب بن عجرہ (رضی اللہ عنہ) کا واقعہ حضرت کعب بن عجرہ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: "تین دن سے میرے پیٹ میں کچھ نہیں گیا تھا۔ میں ایک یہودی کے پاس گیا، اس نے مجھے ہر ڈول پانی کھینچنے کے بدلے چند کھجوریں دیں۔ میں نے وہ کھجوریں جمع کیں اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔" نبی کریم ﷺ نے پوچھا: "اے کعب! یہ کہاں سے لائے ہو؟" میں نے حقیقت بیان کر دی۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا: "اے کعب...

بند دروازہ، نئی راہ کا اشارہ

کسی گاؤں میں تین بھائی رہتے تھے۔ ان کے گھر کے آنگن میں ایک درخت تھا، جس کے پھل بیچ کر وہ اپنا گزر بسر کرتے تھے۔ ایک دن ایک اللہ والا ان کے گھر مہمان آیا۔ بڑے بھائی نے اس کے ساتھ کھانا کھایا، جبکہ دو چھوٹے بھائی یہ کہہ کر شریک نہ ہوئے کہ انہیں بھوک نہیں۔ رات کے پچھلے پہر جب سب سو رہے تھے، وہ مہمان چپکے سے اٹھا، آری لی اور اس درخت کو کاٹ دیا، پھر وہاں سے روانہ ہو گیا۔ صبح جب بھائیوں نے درخت کٹا ہوا دیکھا تو کہرام مچ گیا۔ اہلِ محلہ بھی اس مہمان کو برا بھلا کہنے لگے۔ مگر چند سال بعد وہی مہمان دوبارہ اس گاؤں میں آیا تو حیران رہ گیا۔ جہاں پہلے ایک بوسیدہ جھونپڑی تھی، وہاں اب ایک شاندار گھر کھڑا تھا۔ ان تینوں بھائیوں کے دن بدل چکے تھے۔ اصل میں، جب درخت کٹ گیا تو انہوں نے نئی روزی تلاش کرنا شروع کی اور اللہ نے انہیں ایسی برکت دی کہ ان کی زندگی سنور گئی۔ اکثر جب ہمارے لیے کوئی دروازہ بند ہو جاتا ہے، تو ہمیں لگتا ہے کہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ لیکن حقیقت میں، یہ قدرت کا اشارہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں کچھ نیا کریں۔ انسان اپنی سہولت کے دائرے میں قید ہو جاتا ہے، لیکن جب وہ ہمت کر کے اس دائرے سے نک...

خالی کشتی – ایک سادہ سبق

 خالی کشتی – ایک سادہ سبق ایک بھکشو نے فیصلہ کیا کہ وہ تنہائی میں جا کر مراقبہ کرے گا۔ اس نے ایک کشتی بنائی اور جھیل کے بیچ جا کر بیٹھ گیا۔ وہ آنکھیں بند کر کے گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ کچھ وقت بعد، اچانک ایک اور کشتی اس کی کشتی سے ٹکرا گئی۔ اس نے غصہ محسوس کیا اور آنکھیں کھول کر ڈانٹنے کے لیے تیار ہوا، مگر جب دیکھا تو وہ کشتی خالی تھی۔یہ دیکھ کر اسے احساس ہوا کہ غصہ دراصل اس کے اپنے اندر تھا، بس ایک بہانہ چاہیے تھا باہر نکلنے کے لیے۔ اس نے سیکھا کہ دوسروں پر غصہ کرنے کے بجائے اپنے اندر جھانکنا چاہیے۔ اس دن کے بعد، جب بھی کوئی اسے غصہ دلاتا، وہ خود سے کہتا: "یہ تو بس ایک خالی کشتی ہے، غصہ میرے اندر ہے!"

حضرت سالم رضی اللہ عنہ – ایک غلام سے امام تک کا سفر

 حضرت سالم رضی اللہ عنہ – ایک غلام سے امام تک کا سفر مدینہ کے بازار میں ایک تاجر اپنا غلام بیچنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن کوئی بھی اسے خریدنے میں دلچسپی نہیں لے رہا تھا۔ گرمی کی شدت میں کھڑا یہ بچہ پسینے سے شرابور تھا۔ آخر کار، مدینہ کی ایک نیک دل لڑکی، ثبیتہ بنت یعار، نے ترس کھا کر اسے خرید لیا۔بعد میں جب ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ مکہ پہنچے تو انہیں یہ واقعہ معلوم ہوا۔ وہ اس لڑکی کی نیکی سے متاثر ہوئے اور اس سے نکاح کر لیا۔ وہ غلام بھی ان کے ساتھ مکہ آ گیا۔مکہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ذریعے ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اسلام کی دعوت ملی، جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ گھر پہنچ کر جب انہوں نے اپنی بیوی اور غلام کو اسلام کی خوشخبری دی تو انہوں نے بھی فوراً کلمہ پڑھ لیا۔حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے غلام کو آزاد کر دیا، لیکن وہ غلام ان کے ساتھ ہی رہنا چاہتا تھا۔ چنانچہ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنا بیٹا بنا لیا۔ اس غلام نے قرآن سیکھا اور بہت جلد بہترین قاری بن گیا۔مدینہ کی ہجرت کے بعد جب مسلمانوں کے لیے امام مقرر کرنے کی باری آئی، تو اس غلام کی خوبصورت تلاوت اور زیادہ قرآن یاد ...

مصیبت میں بھلائی کا راز – حضرت لقمان حکیمؒ کی نصیحت

 مصیبت میں بھلائی کا راز – حضرت لقمان حکیمؒ کی نصیحت ایک بار حضرت لقمان حکیمؒ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:"پیارے بیٹے! جب بھی تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو اسے اپنے حق میں بہتر سمجھو اور دل میں یہ بات بٹھا لو کہ اسی میں میرے لیے بھلائی ہے۔"بیٹے نے عرض کی:"ابا جان! میرے لیے یہ بات سمجھنا مشکل ہے کہ ہر مصیبت میں بھلائی کیسے ہو سکتی ہے؟ میرا یقین ابھی اتنا مضبوط نہیں۔" حضرت لقمان حکیمؒ نے فرمایا:"اے میرے بیٹے! اللہ تعالیٰ نے دنیا میں مختلف اوقات میں انبیائے کرام علیہم السلام کو بھیجا ہے، اور ہمارے زمانے میں بھی اللہ نے ایک نبی بھیجا ہے۔ آؤ، ہم ان سے مل کر ان کے علم و حکمت سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ ان کی باتیں سن کر تمہارا یقین مضبوط ہو جائے گا۔"یہ کہہ کر دونوں نے سفر کی تیاری کی، خچروں پر سوار ہوئے اور روانہ ہو گئے۔راستے میں دوپہر ہو گئی، شدید گرمی تھی، لو چل رہی تھی، پانی اور کھانا ختم ہو چکا تھا، اور خچر بھی پیاس اور تھکن سے ہانپنے لگے۔ آخرکار دونوں خچروں سے اتر کر پیدل چلنے لگے۔ کچھ دور ایک سایہ اور دھواں نظر آیا، جسے دیکھ کر حضرت لقمان حکیمؒ نے اندازہ ل...

سحری جگانے کی پہلی روایت – حضرت بلالؓ کی سنت

 جب 2 ہجری میں روزے فرض ہوئے تو مدینہ کے لوگوں کو سحری کے وقت جگانے کا طریقہ سوچا گیا۔ اس زمانے میں سب سے پہلے حضرت بلال بن رباحؓ نے یہ کام انجام دیا۔ وہ سحری کے وقت مدینہ کی گلیوں میں آوازیں لگا کر لوگوں کو جگاتے اور ایک روحانی ماحول بنا دیتے۔ یہ طریقہ مدینہ میں مقبول ہو گیا اور وقت کے ساتھ دوسرے لوگ بھی اس کام میں شامل ہونے لگے۔ بچے بھی شوق سے سحری جگانے والوں کے ساتھ چلتے، جس سے رمضان کی سحری ایک خوبصورت روایت بن گئی۔ عربی میں سحری جگانے والوں کو "میساحراتی" (Misaharati) کہا جاتا ہے۔ مدینہ کے بعد عرب کے دوسرے شہروں میں بھی یہ روایت پھیل گئی، پھر آہستہ آہستہ پوری اسلامی دنیا میں عام ہو گئی۔ یہ لوگ اللہ کی رضا کے لیے یہ خدمت انجام دیتے، لیکن مسلمان بھی انہیں آخری روزے پر انعام یا عیدی دے کر خوش کر دیتے۔ اس کے علاوہ مسجدوں کے امام میناروں پر جا کر بلند آواز میں سحری کا اعلان کرتے اور وہاں لالٹین جلا کر رکھتے۔ جہاں آواز نہیں پہنچتی تھی، لوگ روشنی دیکھ کر سحری کا وقت سمجھ جاتے تھے۔