نبی کریم ﷺ کی محبت اور فقر و تنگدستی
نبی کریم ﷺ کی محبت اور فقر و تنگدستی – تین ایمان افروز واقعات1. حضرت ابو ذر (رضی اللہ عنہ) کا واقعہ
حضرت ابو ذر (رضی اللہ عنہ) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:
"یا رسول اللہ! میں آپ اور آپ کے اہلِ بیت سے محبت کرتا ہوں۔"
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
"کیا واقعی؟ اللہ کی قسم کھا کر کہو؟"
حضرت ابو ذر (رضی اللہ عنہ) نے کہا:
"اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔"
اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"پھر فقر اور تنگدستی کے لیے تیار رہو، کیونکہ جو ہم سے محبت کرتا ہے، اس پر تنگدستی اتنی تیزی سے آتی ہے جیسے پہاڑ سے پانی کا سیلاب!"
(حاکم، سلسلہ احادیث صحیحہ)
---2. حضرت کعب بن عجرہ (رضی اللہ عنہ) کا واقعہ
حضرت کعب بن عجرہ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں:
"تین دن سے میرے پیٹ میں کچھ نہیں گیا تھا۔ میں ایک یہودی کے پاس گیا، اس نے مجھے ہر ڈول پانی کھینچنے کے بدلے چند کھجوریں دیں۔ میں نے وہ کھجوریں جمع کیں اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔"
نبی کریم ﷺ نے پوچھا:
"اے کعب! یہ کہاں سے لائے ہو؟"
میں نے حقیقت بیان کر دی۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا:
"اے کعب! کیا تم مجھ سے محبت کرتے ہو؟"
میں نے کہا:
"ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں!"
آپ ﷺ نے فرمایا:"پھر فقر اور تنگدستی کے لیے تیار رہو، کیونکہ جو مجھ سے محبت کرتا ہے، اس پر تنگدستی ایسے آتی ہے جیسے پانی اپنی منزل کی طرف بہتا ہے!"
بعد میں جب حضرت کعب (رضی اللہ عنہ) بیمار ہوئے تو نبی کریم ﷺ ان کی عیادت کے لیے گئے اور فرمایا:
"اے کعب! خوش ہو جاؤ!"یہ سن کر ان کی والدہ نے کہا:
"مبارک ہو، اے کعب! تمہیں جنت کی بشارت ہو!"نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"یہ کیسے کہہ رہی ہیں؟ کیا انہیں معلوم ہے؟ شاید کعب نے کوئی ایسا کام کیا ہو جو اس کے حق میں اچھا نہ ہو!"
(صحیح الترغی)--
3. حضرت کعب بن عجرہ (رضی اللہ عنہ) سے ایک اور حدیث
حضرت جابر بن عبد اللہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت کعب بن عجرہ (رضی اللہ عنہ) سے فرمایا:
"اللہ تمہیں بے وقوف حکمرانوں کے دور سے بچائے!"
حضرت کعب (رضی اللہ عنہ) نے پوچھا:
"یہ بے وقوف حکمران کون ہوں گے؟"
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو میرے طریقے اور سنت پر عمل نہیں کریں گے۔ جو ان کے جھوٹ کو سچ مانے اور ان کے ظلم میں مدد دے، وہ میرا نہیں اور میں اس کا نہیں، اور وہ حوضِ کوثر پر نہیں آئے گا۔ لیکن جو ان کے جھوٹ کو نہ مانے اور ان کے ظلم میں مدد نہ کرے، وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں، اور وہ حوضِ کوثر پر میرے ساتھ ہوگا!"
پھر آپ ﷺ نے مزید فرمایا:"اے کعب بن عجرہ! روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے، اور نماز اللہ سے قربت کا ذریعہ ہے۔"
"جو جسم حرام مال سے پروان چڑھتا ہے، وہ جنت میں داخل نہ ہوگا، بلکہ جہنم کی آگ اس کا زیادہ حق رکھتی ہے!"
"ہر شخص یا تو اپنی جان کو نیکی کے ذریعے آزاد کر رہا ہوتا ہے یا برائی کے ذریعے ہلاک کر رہا ہوتا ہے!"
(امام حاکم، علامہ ذہبی)
Comments
Post a Comment