Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam

بسم اللہ الرحمن الرحیم 
 حضرت علی بن حسین فرماتے ہیں کہ جبرائیل کا نام عبد اللہ ہے، میکائیل علیہ السلام کا نام عبید اللہ ہے اور اسرافیل کا نام عبدالرحمن ہے ۔ ہر شے جو ایل،، کے ساتھ منسلک ہو وہ اللہ عز وجل کی عبادت کرنے والا ہے. 
 عبد العزیز بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ملائکہ میں حضرت جبرائیل کا نام خَادِمُ رَبِّ عَزَّوَجَلَّ،، ہے۔ اپنے پروردگار عز وجل کا خدمتگار ، چونکہ یہ امور و احکام خداوندی کے خادم ہیں اس لئے ان کا یہ لقب فرشتوں میں مشہور ہے۔ موسی بن ابی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں مجھے یہ خبر ملی ہے کہ جبرائیل اہل آسمان کے پیشوا ہیں۔ ( حدیث ) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (ترجمہ ) کیا میں آپ کو نہ بتلاؤں کہ سب فرشتوں سے افضل حضرت جبرائیل ہیں۔( حدیث ) حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو سبز لباس میں دیکھا کہ انہوں نے 
آسمان اور زمین کے درمیان ( کے حصہ )کو پر کرنے رکھا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جبرائیل کو نازل ہوتے ہوئے دیکھا ہے اس نے آسمان کے دونوں کناروں کو بھرا ہوا تھا اس پر نہایت نفیس اور باریک کپڑے تھے جس کے ساتھ لؤلؤ اور یاقوت جڑے ہوئے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو فرمایا میں چاہتا ہوں کہ تمہیں تمہاری اصل صورت میں دیکھوں ۔ انہوں نے عرض کیا آپ اس کو پسند فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ، تو انہوں نے عرض کیا فلاں تاریخ فلاں رات کے وقت ( مقام ) بقیع غرقد میں ( مجھ سے ملاقات فرمائیں ) پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو حسب وعدہ ملنے گئے ۔ تو انہوں نے اپنے پروں میں سے ایک پر کو پھیلا یا تو اس نے آسمان کا افق بھر دیا یہاں تک کہ آسمان کی کوئی شے نظر نہ آتی تھی۔ 
 حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل سے ارشاد فرمایا۔ کیا آپ نے اپنے پروردگار کی زیارت کی ہے؟ عرض کیا کہ میرے اور اس کے درمیان آگ اور نور کے ستر پر دے ہیں اگر میں ان ( پردوں میں ) سے اپنے نزدیک والے پر دہ کو بھی دیکھوں تو جل جاؤں ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت جبرائیل نے اللہ تعالی کی زیارت نہیں کی اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان آگ اور نور کے ستر پر دے ہیں ۔ حضرت شریح بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی اکرم ا آسمان کی طرف ( معراج کے موقع پر ) تشریف لے گئے تو حضرت جبرائیل کو اپنی اصل صورت میں دیکھا جس کے پر زبرجد، بڑے موتی اور یاقوت ( کے قیمتی موتیوں ) سے جڑے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے یہ خیال ہوا کہ اس کی آنکھوں کے درمیانی حصہ نے افق آسمان کو پر کر رکھا ہے۔ اور اس سے قبل میں نے اسے مختلف صورتوں میں دیکھا تھا۔ جبکہ میں نے اسے اکثر طور پر دحیہ کلبی ( مشہور صحابی ) کی شکل میں دیکھا ہے اور کبھی کبھی میں نے اسے اس طرح دیکھا ہے جس طرح کوئی آدمی اپنے دوست کو چھلنی کے پیچھے دیکھتا ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے حضرت جبرائیل کو اسکی اصل صورت میں دو دفعہ کے علاوہ کبھی نہیں دیکھا پہلی مرتبہ تو اس وقت دیکھا جب آپ نے اس سے خود کو دکھلانے کی خواہش ظاہر کی تو اس نے اپنے آپ کو دکھلایا کہ افق کو پر کئے ہوئے تھا اور دوسری دفعہ سدرۃالمنتہی کے پاس معراج کی رات میں دیکھا ۔ 
 حضرت حذیفہ ، حضرت ابن جریج اور حضرت قتاده سے مروی ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے دو ( بڑے بڑے) پر ہیں اور اس پر موتیوں سے پروئی ہوئی ایک پٹی ہے اگلے دانت چمکدار ہیں، پیشانی منور ہے سر کے بال گھنگریالے ہیں ، اور سر مرجان کی طرح ہے اور مرجان برف کی طرح سفید موتی ہے اور اس کے دونوں قدم سبزی مائل ہیں ۔۔ ( حدیث ) عمار بن ابی عمارؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حمزہ بن عبد المطلب نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! مجھے جبرائیل کی اصلی صورت میں زیارت کرا دیجئے ۔ آپﷺ نے فرمایا تیرے اندر اس کی طاقت نہیں ہے کہ تو اسے دیکھ سکے ۔ جب حمزہ بن عبدالمطلب نے اصرار کیا تو آپﷺ نے فرمایا اچھا بیٹھ جاؤ پس ( جب ) جبرائیل آئے اور کعبہ میں موجود ایک لکڑی پر بیٹھ گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی نظر اٹھاؤ اور دیکھ لو پس انہوں نے نظر اٹھائی اور اس کے قدموں کو دیکھا جو گہرے سبز زبرجد کی مانند تھے اور اس کو دیکھ کر بے ہوش ہو کر گر گئے ۔ حضرت میمونہ بنت سعد فرماتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا جنبی آدمی ( جس پر غسل فرض ہو ) سو سکتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا میں پسند نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ وضو ( ضرور ) کرلے۔ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اس کی موت آئے اور جبرائیل ( جنابت کی وجہ سے ) اس کے پاس نہ جائیں ہے اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت جبرائیل ہر مؤمن کے پاس اس کی موت کے وقت یا موت کے بعد تشریف لاتے ہیں ۔ (حدیث) حضرت وہب فرماتے ہیں کہ مقرب ترین فرشتوں میں حضرت جبرائیل ہیں پھر میکائیل ہیں ۔ پس جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کا اس کے نیک عمل کی وجہ سے ذکر کرتے ہیں تو فرماتے ہیں فلاں بن فلاں نے میری فرمانبرداری میں ایسا ایسا عمل کیا ہے اس پر میری رحمتیں ہوں ۔ پھر میکائیل جبرائیل سے پوچھتے ہیں کہ ہمارے رب نے کیا فرمایا ؟ تو وہ کہتے ہیں کہ فلاں ولد فلاں اپنے نیک عمل کی وجہ سے یاد کیا گیا ہے۔ پھر اس پر اپنی رحمتیں بھیجی ہیں اللہ کی اس پر رحمتیں ہوں ۔ پھر آسمان والوں میں سے جو میکائیل کو دیکھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے رب نے کیا فرمایا ہے ، تو وہ کہتا ہے کہ فلاں بن فلاں اپنے نیک عمل کی وجہ سے یاد کیا گیا ہے۔ پھر اس پر رحمتیں بھیجی گئی ہیں ۔ اللہ کی اس پر رحمتیں ہوں ۔ پس یہ بات بدستور ایک آسمان سے دوسرے ( نچلے ) آسمان تک اترتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ زمین تک آ پہنچتی ہے اور جب کوئی بندہ اپنے برے عمل کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے فلاں ولد فلاں نے میری نافرمانی میں ایسا عمل کیا ہے اس پر میری لعنت ہو۔ پھر میکائیل جبرائیل سے پوچھتے ہیں کہ ہمارے رب نے کیا ارشاد فرمایا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ فلاں ولد فلاں اپنے برے عمل کی وجہ سے یاد کیا گیا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو ۔ پھر بدستور یہ بات ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک اترتی رہتی ہے یہاں تک کہ زمین پر آجاتی ہے ۔ ل اس حدیث میں نیک عمل کرنے والوں کے لئے اللہ تعالی کی رضا اور رحمتوں کی نوید اور بدکاروں کے لئے لعنت اور نفرت کی وعید بھی ہے ( امداد اللہ) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا ( ترجمہ ) جبرائیل بندوں کی ضروریات کے کفیل ہیں جب کوئی مؤمن دعا کرتا ہے تو اللہ تعالی فرماتے ہیں اے جبرائیل ! میرے بندے کی ضرورت کو روک لے کیونکہ میں اسے بھی پسند کرتا ہوں اور اس کی آواز کو بھی پسند کرتا ہوں ۔ اور جب کوئی کافر پکارتا ہے تو اللہ تعالی فرماتے ہیں اے جبرائیل میرے بندے کی ضرورت پوری کر دے کیونکہ میں اس سے بھی نفرت کرتا ہوں اور اس کی آواز سے بھی نفرت کرتا ہوں۔ جن مؤمنوں کی دعا ئیں بار بار کرنے سے بھی پوری نہیں ہوتیں وہ اس حدیث سے اپنے دل کو مطمئن فرمائیں کیونکہ مؤمن کی دعا کا دیر میں قبول ہونا اس مؤمن بھی قبولیت کی دلیل ہے اور مؤمن کا دربار خداوندی میں قبول ہو جانا ہی بڑی کامیابی ہے، کافر کی ضرورت اللہ تعالیٰ اس لئے بھی جلدی پوری کر دیتے ہیں کہ اسے آخرت میں سب نعمتوں سے محروم کر دیا جائے گا۔ (امداد اللہ ) حضرت واثلہ بن استقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یمن کا ایک گنجا، بھینگا ، کوتاہ گردن، ٹیڑھے پاؤں والا ، چھوٹے کانوں والا ، بائیں ہاتھ سے کام کرنے والا ، دبلا پتلا، قدم کے اگلے حصہ کا قریب والا اور ایڑیوں کی دوری والا آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، مجھے بتلائیں اللہ نے مجھ پر کیا فرض کیا ہے ؟ جب آپ نے بتلایا تو کہا میں اللہ کے ساتھ معاہدہ کرتا ہوں کہ اس کے فریضہ میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا۔ (یعنی صرف فرض ہی ادا کروں گا خدا کے لئے محبت کے کام نفلیں وغیرہ ادا نہیں کروں گا ) آپ نے فرمایا کیوں؟ ( تو نفل عبادت کیوں نہیں کرے گا ؟ ) اس نے عرض کیا اس لئے کہ اس نے مجھے پیدا کیا اور میری شکل کو بگاڑ دیا، یہ بات کہنے کے بعد وہ جانے لگا تو آپ کے پاس حضرت جبرائیل حاضر ہوئے اور عرض کیا اے محمد ! وہ ناراضگی کا اظہار کرنے والا آدمی کہاں ہے؟ جس نے اپنے مہربان پروردگار پر ناراضگی دکھلائی ہے؟ اللہ نے اس کی اس ناز بھری ناراضگی کو قبول کیا ہے پھر آپ سے مخاطب ہو کر جبرائیل نے عرض کیا کہ آپ اس سے فرمائیں کہ وہ اس بات پر راضی نہیں ہے کہ اسے اللہ تعالی روز قیامت جبرائیل کی صورت میں زندہ فرمائے ۔ پس آپ نے اس آدمی سے یہ بات فرمائی تو وہ کہنے لگا ہاں اے رسول اللہ ( میں راضی ہوں ) بس اب تو میں اللہ معاہدہ کرتا ہوں کہ وہ میرے جسم پر اپنی خوشنودی سے جو جو حکم بھی فرمائے گا میں پیروی کروں گا۔ حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل جب بھی کوئی وحی لیکر نازل ہوئے تو ان کے ساتھ چار محافظ فرشتے ہوا کرتے تھے۔ حضرت ام سلمہ سے مروی ہے کہ تھی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ آسمان میں دوفرشتے ہیں جن میں سے ایک سختی کا معاملہ کرتا ہے دوسرا نرمی کا اور دونوں حق پر ہیں (ایک) جبرائیل ہیں (دوسرے ) میکائیل ۔ اور دو نبی ہیں جن میں سے ایک نرمی کا معاملہ فرماتے ہیں دوسرے سختی کا اور دونوں حق پر ہیں پھرآپ نے حضرت ابراہیم اور حضرت نوح (علیہا السلام) کا ذکر فرمایا۔ اور میرے بھی دو دوست ہیں ان میں سے ایک نرمی کا معاملہ کرتا ہے اور دوسراسختی کا اور یہ دونوں بھی حق پر ہیں پھر آپ نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کا نام لیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے سپرد سختی کے امور ہیں اور حضرت میکائیل کے سپرد نرمی کے امور ہیں۔ حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت جبرائیل حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا اے جبرائیل ! مجھے یقین ہے کہ تمہارے نزدیک میری بڑی شان ہے، عرض کیا بے شک مجھے اس ذات کی قسم ہے جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اپنے تئیں آپ سے زیادہ محبوب کسی نبی کی طرف بھی نہیں بھیجا گیا۔ تو آپ نے فرمایا میں چاہتا ہوں اگر تمہارے بس ہے تو تم وہاں (اللہ کے ہاں) کی میری شان بتلاؤ اس نے عرض کیا مجھے اس ذات کی قسم ہے جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنے پروردگار کے ایک دفعہ اتنا قریب ہوا ہوں کہ اس طرح سے کبھی قریب نہیں ہوا میرے (اس) قریب ہونے کا اندازہ پانچ صدیوں کے سفر کے برابر ہے۔ ساری مخلوق میں اللہ کے سب سے زیادہ قریب حضرت اسرافیل ہیں اور ان کے قریب کا اندازہ ستر سال ہے اور ان کے درمیان بھی ستر نور ہیں اور ان میں سب سے قریبی نور آنکھوں کو اندھا کر دیتا ہے۔ تو مجھے اس کے بعد والے حالات کا علم کیسے ہو سکتا ہے بس میرے سامنے تو ایک لوح کر دی جاتی ہے اور ہمیں بلایا اور مبعوث کیا جاتا ہے ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے حضرت جبرائیل کے نزدیک حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کو باقی انبیاء سے زیادہ محبوب ہیں اور حضورﷺ مرتبہ کے اعتبار سے اتنے بڑھے ہوئے ہیں کہ حضرت جبرائیل کے مقرب ترین فرشتہ ہونے کے باوجود حضورﷺ کا مقام معلوم کرنے تک رسائی نہیں ہے۔ اور یہ جو اللہ تعالیٰ اور جبرائیل و اسرافیل کے درمیان پانچ صدیوں یا ستر سالوں کا فاصلہ بیان کیا گیا ہے یہ صرف اندازہ کے طور پر ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے درمیان کا یہ فاصلہ کسی اعتبار سے ہے کیا کسی دنیاوی پیمانہ سے یا فرشتوں کے پیمانہ کے اعتبار سے یا الہی علم کے اعتبار سے ہے۔ ( حدیث ) حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ تلاوت فرمائی تو صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! یہ کون حضرات ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت میں صور کے اثر سے مستثنیٰ فرمایا۔ آپ نے فرمایا جبرائیل، میکائیل، ملک الموت، اسرافیل، اور عرش کو اٹھانے والے (فرشتے) ہیں، جب اللہ تعالی تمام مخلوقات کی روحیں قبض فرمائیں گے تو ملک الموت سے فرمائیں گے کون باقی بچے ہیں تو وہ عرض کریں گے اے میرے پروردگار آپ پاک ہیں بلند ہیں ذوالجلال والاکرام ہیں جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت زندہ ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اسرافیل کی جان قبض کرلے تو وہ اسرافیل کی جان قبض کر لیں گے۔ پھر اللہ تعالی ملک الموت سے فرمائیں گے (اب) کون بچے ہیں؟ تو وہ عرض کریں گے اے میرے پروردگار آپ کی ذات پاک اور بابرکت ہے آپ بلند ہیں ذو الجلال والاکرام ہیں (اب) جبرائیل، میکائیل ، اور ملک الموت باقی ہیں تب اللہ تعالی فرمائیں گے کہ میکائیل کی روح بھی قبض کرلے تو وہ میکائیل کی روح بھی قبض کر لیں گے اور وہ بلند ٹیلہ کی طرح گر پڑیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرمائیں گے (اب) کون باقی ہے تو وہ عرض کریں گے کہ جبرائیل اور موت کا فرشتہ تو اللہ تعالی فرمائیں گے اسے موت کے فرشتے تو بھی مر جا تو وہ بھی مر جائیں گے۔ اب اللہ تعالی فرمائیں گے اے جبرائیل باقی کون بچا ہے تو وہ عرض کریں گے آپ کی ہمیشہ رہنے والی ذات باقی ہے اور جبرائیل فانی اور مرنے والا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اس کی موت بھی ضروری ہے تو جبرائیل بھی سجدہ میں گر جائیں گے جس سے وہ اپنے پروں سمیت بے دم ہو جائیں گے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت جبرائیل کو میکائیل پر اتنی فضیلت ہے جتنی بڑے ٹیلہ کو ہوتی ہے۔ مذکورہ حدیث کی ابتداء میں جو آیت مذکور ہے اس کا ترجمہ یہ ہے اور( روز قیامت) صور میں پھونک ماری جائے گی جس سے تمام آسمان اور زمین والوں کے ہوش اڑ جائیں گے ( پھر زندہ تو مر جائیں گے اور مردوں کی روحیں بے ہوش ہو جائیں گی ) مگر جس کو خدا چاہے ( وہ اس بے ہوشی اور موت سے محفوظ رہے گا ) ۔ حضرت عطاء بن السائب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے حضرت جبرائیل کا حساب کتاب ہوگا کیونکہ وہ خدا کے انبیاء اور رسولوں پر خدا کے امانتدار تھے ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا روز قیامت تر از وئے حساب کے نگران حضرت جبرائیل علیہ السلام ہوں گے۔ ۔ احکیم الترمذی فى نوادر الاصول ( منه ) ابوالشیخ ( منه ) حدیث نمبر ۸۶۵ ابن عساکر ( منه ) کنز العمال حدیث نمبر ۶۴۳۳٬۵۰۶۳

Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick