The Blind Flag Bearer of the Battle of Qadisiyyahجنگِ قادسیہ کا نابینا علمبردار — ایمان کی روشن مثال
The Blind Flag Bearer of the Battle of Qadisiyyah جنگِ قادسیہ کا نابینا علمبردار — ایمان کی روشن مثال کیا آپ جانتے ہیں کہ تاریخِ اسلام کی عظیم جنگ قادسیہ میں مسلمانوں کا علم ایک نابینا صحابی کے ہاتھ میں تھا؟ یہ واقعہ سن 15 ہجری (636ء) کا ہے، جب خلافتِ راشدہ کا لشکر میدانِ قادسیہ میں فارس کی طاقتور ساسانی سلطنت کے مقابل کھڑا تھا۔ اس تاریخی جنگ میں ایک ایسا منظر سامنے آیا جو ایمان کی طاقت کو ہمیشہ کے لیے امر کر گیا۔ اسلام کا پرچم ایک ایسے صحابی کے ہاتھ میں تھا جو آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے تھے، مگر دل کی بصیرت سے حق کو پہچانتے تھے۔ یہ عظیم صحابی تھے حضرت عبداللہ بن اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہ۔ آپؓ وہ خوش نصیب صحابی ہیں جن کے بارے میں سورۃ عبس کی آیات نازل ہوئیں۔ جب رسولِ اکرم ﷺ قریش کے سرداروں کو دین کی دعوت دے رہے تھے اور حضرت عبداللہؓ حاضر ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو متوجہ فرمایا کہ اصل قدر تقویٰ کی ہے، نہ کہ ظاہری مرتبے کی۔ حضرت عبداللہؓ کو اذان دینا بہت پسند تھا۔ انہوں نے عرض کیا: “یا رسول اللہ ﷺ! مجھے مؤذن بنا دیجئے” اور یوں وہ اسلام کے ابتدائی مؤذنوں میں شامل ہوئے۔ رسول...