پو شیدہ دریافت
سعودی عرب میں عہدِ رسالت کا قدیم گاؤں دریافت
تحریر: منصور ندیم
سعودی عرب میں سنہ 2015 میں ایک غیر منافع بخش قومی دستاویزی منصوبہ شروع کیا گیا، جس کا نام Earth Aerial Documentary Team رکھا گیا۔
یہ منصوبہ مدینہ منورہ سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی سعودی کاروباری شخصیت عبدالعزیز الدخیل نے شروع کیا۔
اس منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ
سعودی عرب کو فضا سے دیکھا جائے
اور ملک کے مختلف علاقوں کو ایک بالکل نئے انداز میں کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا جائے۔
اسی مقصد کے لیے عبدالعزیز الدخیل نے
دو نشستوں والا ایک طیارہ (Two-seater aircraft) حاصل کیا،
جس کے ذریعے وہ پورے سعودی عرب کے علاقوں کو آسمان سے دیکھ اور ریکارڈ کر سکتے تھے۔
رضاکار ٹیم اور ان کی مہارت
اس منصوبے میں عبدالعزیز الدخیل کے ساتھ
13 رضاکار دوستوں پر مشتمل ایک پیشہ ور ٹیم بھی شامل تھی۔
اس ٹیم میں شامل افراد یہ تھے:
فوٹوگرافرز
پائلٹس
گائیڈز
مورخین
اور وہ افراد جو پاورڈ پیراشوٹ طیاروں کی مدد سے ویڈیو بنانے میں مہارت رکھتے تھے
یہ تمام لوگ مل کر
سعودی عرب کے مختلف علاقوں کی فضائی ویڈیوز بناتے تھے۔
تاریخی مقامات کی تلاش
عبدالعزیز الدخیل اور ان کی ٹیم نے
سعودی عرب کے کئی علاقوں کو
ایک منفرد اور نئے انداز میں آسمان سے محفوظ کیا۔
اسی دوران
انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ
وہ قدیم تاریخی اور مذہبی مقامات کی بھی تلاش کریں گے۔
یہ وہ مقامات تھے:
جن کا تعلق آثارِ قدیمہ سے تھا
یا جو اسلامی اور تاریخی اہمیت رکھتے تھے
اس تحقیق کے کام میں
انہیں سعودی حکومت کی مدد بھی حاصل تھی۔
عہدِ رسالت کے گاؤں "العشیرہ" کی دریافت
اسی منصوبے کے دوران
عبدالعزیز الدخیل کی ٹیم نے
ینبع (Yanbu) شہر کے قریب
اسلام کے ابتدائی دور کا ایک قدیم گاؤں دریافت کیا۔
تاریخی کتابوں اور
سیرتِ نبوی ﷺ میں
عہدِ رسالت کے زمانے کے ایک گاؤں
"العشیرہ" کا ذکر ملتا ہے۔
تاریخ کے مطابق:
العشیرہ وہ جگہ تھی
جہاں اسلام کی پہلی جنگ پیش آئی
اور جہاں نبی کریم ﷺ اور صحابہؓ ایک ماہ سے زیادہ عرصہ قیام پذیر رہے
گاؤں کی تلاش کیسے ہوئی؟
عبدالعزیز الدخیل کی ٹیم نے
گاؤں العشیرہ کی تلاش کا آغاز کیا۔
اس کام میں
ٹیم کے ایک مورخ عبداللہ العیاشی کی تحقیق کو بنیاد بنایا گیا۔
عبداللہ العیاشی نے تجویز دی کہ:
العشیرہ کو ان جگہوں کے علاوہ
کچھ نئے اور مختلف مقامات پر تلاش کیا جائے
جہاں عام طور پر لوگ تلاش کرتے رہے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
ٹیم نے:
تاریخی معلومات جمع کیں
سیٹلائٹ تصاویر حاصل کیں
ان تصاویر کی مدد سے مختلف علاقوں کا جائزہ لیا
بعد ازاں
العشیرہ کی تلاش میں
ٹیم نے اس علاقے کا ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی دورہ بھی کیا۔
آخرکار تاریخی کامیابی
ایک دن
عبدالعزیز الدخیل کی ٹیم
اپنے طیارے میں مسلسل 75 منٹ تک فضا میں گردش کرتی رہی۔
اسی دوران
انہیں ایک تباہ شدہ قدیم گاؤں نظر آیا۔
تحقیق کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ:
یہی وہ گاؤں ہے
جس کا ذکر
نبی کریم ﷺ کی سیرت کی مختلف کتابوں میں
العشیرہ کے نام سے ملتا ہے۔
ٹیم نے اس علاقے کو اوپر سے مکمل طور پر ریکارڈ کیا
اور یوں
ریت میں دبی ہوئی ایک قدیم بستی کو دریافت کر لیا گیا۔
کئی سالوں کی محنت کا نتیجہ
یہ منصوبہ
سنہ 2015 میں شروع ہوا تھا
اور مسلسل محنت کے بعد
بالآخر 2022 میں
یہ عظیم تاریخی دریافت سامنے آئی۔
یہ پہلا کارنامہ نہیں
Earth Aerial Documentary Team کی یہ پہلی کامیابی نہیں تھی۔
اس سے پہلے بھی
یہ ٹیم
مکہ مکرمہ کے ضلع رابغ (Rabigh)
کے مشرقی علاقے
وادی الغیدہ میں
ایک اور قدیم شہر
الجُحفہ (Al-Juhfa)
کو بھی دریافت کر چکی ہے۔
اختتام
یہ تحریر
4 جنوری 2022
کو لکھی گئی تھی۔
یہ دریافت
اسلامی تاریخ کے ایک اہم باب کو
دوبارہ زندہ کرنے کے مترادف ہے
اور یہ ثابت کرتی ہے کہ
جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے
ہم اپنی تاریخ کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔
Comments
Post a Comment