موت سے بھاگنے والے اور اللہ کی قدرت حضرت حزقیل علیہ السلام اور ستر ہزار مردوں کا زندہ ہونا

موت سے بھاگنے والے اور اللہ کی قدرت حضرت حزقیل علیہ السلام اور ستر ہزار مردوں کا زندہ ہونا بنی اسرائیل کی ایک جماعت حضرت حزقیل علیہ السلام کے شہر میں رہتی تھی۔ اچانک اس شہر میں طاعون کی خطرناک وبا پھیل گئی۔ اس وبا کی وجہ سے ان لوگوں پر موت کا شدید خوف سوار ہو گیا۔ وہ یہ سمجھنے لگے کہ اگر ہم یہاں رہے تو ضرور مر جائیں گے۔ چنانچہ یہ سب لوگ موت کے ڈر سے شہر چھوڑ کر ایک جنگل کی طرف بھاگ گئے اور وہیں جا کر رہنے لگے۔ اللہ تعالیٰ کی ناراضی اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کا یہ عمل بہت ناپسند آیا، کیونکہ یہ لوگ اللہ پر بھروسہ کرنے کے بجائے موت سے بھاگ رہے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ایک فرشتے کو اس جنگل میں بھیج دیا۔ وہ فرشتہ ایک پہاڑ کی آڑ میں چھپ گیا اور بہت زور دار اور خوفناک چیخ ماری۔ اس نے بلند آواز سے کہا: "موتوا" یعنی: تم سب مر جاؤ۔ ستر ہزار افراد کی اچانک موت اس خوفناک آواز کو سنتے ہی بغیر کسی بیماری کے اور بغیر کسی تکلیف کے اچانک سب کے سب مر گئے۔ ان کی تعداد ستر ہزار تھی۔ اتنے زیادہ مردے تھے کہ لوگ ان کا کفن و دفن بھی نہ کر سکے۔ ان کی لاشیں کھلے میدان میں آٹھ دن تک بے گور و کفن پڑی رہیں۔ ان لاشوں سے اتنی زیادہ بدبو اور تعفن پھیل گیا کہ پورا جنگل اور اس کے آس پاس کا علاقہ بدبو سے بھر گیا۔ کچھ لوگوں نے ان پر رحم کھایا اور درندوں سے بچانے کے لیے چاروں طرف دیوار بنا دی۔ حضرت حزقیل علیہ السلام کی دعا کچھ دنوں بعد حضرت حزقیل علیہ السلام اس جنگل سے گزرے۔ جب آپ نے اپنی قوم کے ستر ہزار افراد کی لاشیں بے گور و کفن پڑی دیکھیں تو آپ کا دل غم سے بھر گیا۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور بڑے درد بھرے دل سے دعا کی۔ آپ نے عرض کیا: اے اللہ! یہ میری قوم کے لوگ تھے۔ یہ نادانی میں مبتلا ہو گئے اور موت کے ڈر سے شہر چھوڑ آئے۔ یہ سب میرے شہر کے رہنے والے تھے۔ مجھے ان سے محبت تھی، یہ میرے دکھ سکھ کے ساتھی تھے۔ افسوس! میری پوری قوم ہلاک ہو گئی اور میں اکیلا رہ گیا۔ اے میرے رب! یہ وہ لوگ تھے جو تیری حمد بیان کرتے تھے، تیری توحید کا اعلان کرتے تھے، اور تیری بڑائی کا ذکر کرتے تھے۔ ہڈیوں کو زندہ ہونے کا حکم حضرت حزقیل علیہ السلام ابھی دعا میں مشغول ہی تھے کہ اچانک آپ پر وحی نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اے حزقیل! ان بکھری ہوئی ہڈیوں سے کہہ دو کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم سب اکٹھا ہو جاؤ۔" جونہی آپ نے یہ فرمایا تو بکھری ہوئی ہڈیوں میں حرکت پیدا ہو گئی۔ ہر انسان کی ہڈیاں اکٹھی ہو کر پورے ڈھانچے بن گئیں۔ گوشت اور جان کا واپس آنا پھر دوبارہ وحی آئی: "اے حزقیل! ان ہڈیوں سے کہہ دو کہ اللہ کا حکم ہے کہ تم پر گوشت اور پوست چڑھ جائے۔" یہ سننا تھا کہ فوراً ہڈیوں پر گوشت اور جلد چڑھ گئی اور وہ پورے انسان بن گئے۔ پھر تیسری بار وحی آئی: "اے حزقیل! اب کہہ دو کہ اے مردو! اللہ کے حکم سے کھڑے ہو جاؤ۔" ستر ہزار افراد کا زندہ ہونا حضرت حزقیل علیہ السلام نے یہ الفاظ کہے ہی تھے کہ ستر ہزار لاشیں ایک ہی لمحے میں زندہ ہو کر کھڑی ہو گئیں۔ وہ سب یہ پڑھتے ہوئے اٹھے: "سبحان اللّٰھم و بحمدک لا الٰہ الا انت" پھر یہ سب لوگ جنگل سے واپس اپنے شہر میں آ گئے اور دوبارہ آباد ہو گئے۔ یہ لوگ اپنی مقررہ عمر پوری کر کے زندہ رہے۔ اس واقعے کا نشان لیکن ان لوگوں پر اس موت کا ایک نشان ہمیشہ باقی رہا۔ ان کے جسموں سے سڑی ہوئی لاش جیسی بدبو آتی رہتی تھی۔ وہ جو کپڑا پہنتے وہ کفن کی طرح ہو جاتا۔ جیسے قبر میں کفن میلا ہو جاتا ہے ویسے ہی ان کے کپڑے بھی میلے ہو جاتے تھے۔ یہ اثر ان کی اولاد میں بھی منتقل ہو گیا۔ آج بھی یہودیوں میں سے جو لوگ ان کی نسل سے ہیں ان میں یہ نشان پائے جاتے ہیں۔ قرآن مجید کی گواہی اللہ تعالیٰ نے اس عجیب واقعے کو قرآن مجید میں سورۂ بقرہ میں بیان فرمایا ہے: الم تر الی الذین خرجوا من دیارھم وھم الوف حذر الموت فقال لھم اللہ موتوا ثم احیاھم ان اللہ لذو فضل علی الناس ولکن اکثر الناس لا یشکرون ترجمہ: "کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جو اپنے گھروں سے نکلے حالانکہ وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے؟ تو اللہ نے ان سے فرمایا: مر جاؤ، پھر انہیں زندہ کر دیا۔ بیشک اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔" 📚 ماخذ: تفسیر روح البیان جلد 1، صفحہ 378 سورۂ بقرہ: آیت 243

Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam