جنّات کے ذریعے ایک صحابی کا اسلام سواد بن قارب الدوسی رضی اللہ عنہ

جنّات کے ذریعے ایک صحابی کا اسلام سواد بن قارب الدوسی رضی اللہ عنہ سواد بن قارب الدوسی رضی اللہ عنہ اپنے زمانے کے مشہور اور معزز آدمی تھے۔ وہ کاہنہ علم (غیب کی باتیں بتانے کا دعویٰ)، شاعری اور اچھے اخلاق میں بہت مشہور تھے۔ عربوں میں ان کا بڑا مقام تھا اور لوگ ان کی عزت کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے عربوں میں کاہن بہت مشہور تھے۔ یہ کاہن خوابوں، ستاروں اور جنّات کی باتیں کرتے تھے۔ سواد بن قارب رضی اللہ عنہ بھی انہی میں شامل تھے۔ یہ واقعہ سند کے ساتھ نقل کیا گیا ہے کہ سواد بن قارب رضی اللہ عنہ کے اسلام کا سبب خود جنّات بنے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور سواد بن قارب رضی اللہ عنہ ایک دن امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران مسجد کے پچھلے حصے سے ایک شخص گزرا۔ کسی نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ اس آدمی کو جانتے ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، یہ کون ہے؟ عرض کیا گیا: یہ سواد بن قارب ہے۔ یمن کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اپنے قبیلے میں بہت عزت والا آدمی ہے۔ یہی وہ شخص ہے جس کے پاس اس کا جنّ آیا تھا اور اس نے نبی کریم ﷺ کے ظہور کی خبر دی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے آؤ۔ حضرت عمرؓ کا سوال جب سواد بن قارب رضی اللہ عنہ آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تم سواد بن قارب ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم ہی وہ شخص ہو جس کے پاس اس کے جنّ نے رسول اللہ ﷺ کے آنے کی خبر دی تھی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تم اب بھی اپنی پرانی کاہنہ حالت پر ہو؟ سواد بن قاربؓ کا ردِ عمل یہ سن کر سواد بن قارب رضی اللہ عنہ کو بہت غصہ آیا۔ انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! اسلام لانے کے بعد آج تک کسی نے مجھ سے اس طرح بات نہیں کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سبحان اللہ! ہم خود جس شرک میں مبتلا تھے وہ تمہاری کاہنہ حالت سے کہیں زیادہ بُرا تھا۔ اب مجھے پورا واقعہ بتاؤ کہ تمہارے جنّ نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کیسے خبر دی؟ جنّ کا آنا اور پیغام سواد بن قارب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! ایک رات میں نیند اور جاگنے کے درمیان تھا کہ میرا جنّ (جسے رَئیّ کہا جاتا تھا) آیا۔ اس نے میرے پاؤں سے ٹھوکر ماری اور کہا: “اے سواد بن قارب! اٹھو، سمجھو اور عقل سے کام لو اگر تم عقل رکھتے ہو۔ لُؤَیّ بن غالب کی اولاد میں ایک نبی پیدا ہو چکا ہے جو اللہ کی طرف بلاتا ہے اور صرف اللہ کی عبادت کا حکم دیتا ہے۔” پھر اس جنّ نے یہ اشعار پڑھے: مجھے جنّات اور ان کی تلاش پر حیرت ہے، کہ وہ اونٹوں کو کجاووں سمیت کس کر ہانکتے ہیں؛ وہ ہدایت کی تلاش میں مکہ کی طرف دوڑ رہے ہیں، کیونکہ پاکیزہ جنّ ناپاک جنّات جیسے نہیں ہوتے؛ پس ہاشم کی اولاد میں سے اس چُنے ہوئے نبی کی طرف روانہ ہو جاؤ، اور اپنی آنکھوں سے اس کی زیارت کرو۔ پہلی اور دوسری رات سواد بن قارب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ جنّ تو مسلمان ہو چکا تھا، لیکن میں نے اس کی بات کو اہمیت نہ دی اور کہا: مجھے سونے دو، آج مجھے بہت نیند آ رہی ہے۔ دوسری رات وہ پھر آیا۔ اس نے پھر ٹھوکر ماری اور وہی بات دہرائی۔ پھر اشعار پڑھے، الفاظ کچھ بدلے ہوئے تھے لیکن مطلب وہی تھا۔ اس بار بھی میں نے اسے نظر انداز کر دیا اور سو گیا۔ تیسری رات اور فیصلہ تیسری رات وہ پھر آیا اور کہا: “اے سواد بن قارب! کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ عقل سے کام لو؟ لُؤَیّ بن غالب کی اولاد میں ایک رسول مبعوث ہو چکا ہے جو اللہ کی عبادت کی دعوت دیتا ہے۔” سواد بن قارب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اب مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ میرے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرما رہا ہے۔ مکہ سے مدینہ تک کا سفر صبح ہوئی تو میں نے اپنی اونٹنی پر کجاوہ رکھا اور مکہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ راستے میں معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ مدینہ ہجرت کر چکے ہیں۔ میں مدینہ پہنچا۔ لوگوں سے پوچھا: نبی ﷺ کہاں ہیں؟ بتایا گیا: مسجد میں۔ میں مسجد پہنچا، اونٹنی باندھی اور اندر داخل ہوا۔ نبی ﷺ سے ملاقات اور اسلام جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو میرا دل کھل گیا۔ آپ ﷺ نے مجھے اسلام کے بارے میں بتایا۔ میں فوراً مسلمان ہو گیا اور اپنی پوری داستان آپ ﷺ کو سنا دی۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے مبارک دانت نظر آنے لگے۔ پھر فرمایا: “اے سواد! تم کامیاب ہو گئے۔” آخری سوال حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اب بھی تمہارے پاس وہ جنّ آتا ہے؟ سواد بن قارب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جب سے میں نے قرآن پڑھنا شروع کیا ہے وہ میرے پاس نہیں آیا۔ اور جنّات کے بدلے اللہ کی کتاب سب سے بہترین نعمت ہے۔ 📚 مآخذ (Sources) تفسیر ابن کثیر (جلد 4، صفحہ 169) الفتح، ابن حجر دلائل النبوۃ، امام بیہقی

Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam