سحری جگانے کی پہلی روایت – حضرت بلالؓ کی سنت

 جب 2 ہجری میں روزے فرض ہوئے تو مدینہ کے لوگوں کو سحری کے وقت جگانے کا طریقہ سوچا گیا۔

اس زمانے میں سب سے پہلے حضرت بلال بن رباحؓ نے یہ کام انجام دیا۔ وہ سحری کے وقت مدینہ کی گلیوں میں آوازیں لگا کر لوگوں کو جگاتے اور ایک روحانی ماحول بنا دیتے۔

یہ طریقہ مدینہ میں مقبول ہو گیا اور وقت کے ساتھ دوسرے لوگ بھی اس کام میں شامل ہونے لگے۔ بچے بھی شوق سے سحری جگانے والوں کے ساتھ چلتے، جس سے رمضان کی سحری ایک خوبصورت روایت بن گئی۔ عربی میں سحری جگانے والوں کو "میساحراتی" (Misaharati) کہا جاتا ہے۔

مدینہ کے بعد عرب کے دوسرے شہروں میں بھی یہ روایت پھیل گئی، پھر آہستہ آہستہ پوری اسلامی دنیا میں عام ہو گئی۔

یہ لوگ اللہ کی رضا کے لیے یہ خدمت انجام دیتے، لیکن مسلمان بھی انہیں آخری روزے پر انعام یا عیدی دے کر خوش کر دیتے۔

اس کے علاوہ مسجدوں کے امام میناروں پر جا کر بلند آواز میں سحری کا اعلان کرتے اور وہاں لالٹین جلا کر رکھتے۔ جہاں آواز نہیں پہنچتی تھی، لوگ روشنی دیکھ کر سحری کا وقت سمجھ جاتے تھے۔



Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam