حضرت سالم رضی اللہ عنہ – ایک غلام سے امام تک کا سفر

 حضرت سالم رضی اللہ عنہ – ایک غلام سے امام تک کا سفر

مدینہ کے بازار میں ایک تاجر اپنا غلام بیچنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن کوئی بھی اسے خریدنے میں دلچسپی نہیں لے رہا تھا۔ گرمی کی شدت میں کھڑا یہ بچہ پسینے سے شرابور تھا۔ آخر کار، مدینہ کی ایک نیک دل لڑکی، ثبیتہ بنت یعار، نے ترس کھا کر اسے خرید لیا۔بعد میں جب ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ مکہ پہنچے تو انہیں یہ واقعہ معلوم ہوا۔ وہ اس لڑکی کی نیکی سے متاثر ہوئے اور اس سے نکاح کر لیا۔ وہ غلام بھی ان کے ساتھ مکہ آ گیا۔مکہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ذریعے ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اسلام کی دعوت ملی، جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ گھر پہنچ کر جب انہوں نے اپنی بیوی اور غلام کو اسلام کی خوشخبری دی تو انہوں نے بھی فوراً کلمہ پڑھ لیا۔حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے غلام کو آزاد کر دیا، لیکن وہ غلام ان کے ساتھ ہی رہنا چاہتا تھا۔ چنانچہ حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنا بیٹا بنا لیا۔ اس غلام نے قرآن سیکھا اور بہت جلد بہترین قاری بن گیا۔مدینہ کی ہجرت کے بعد جب مسلمانوں کے لیے امام مقرر کرنے کی باری آئی، تو اس غلام کی خوبصورت تلاوت اور زیادہ قرآن یاد ہونے کی وجہ سے اسے امام بنا دیا گیا۔ یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے عظیم صحابی بھی ان کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔ایک دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے کہا کہ ایک قاری کی تلاوت نے انہیں مسحور کر دیا تھا۔ نبی ﷺ خود باہر تشریف لائے اور جب انہوں نے اس غلام کی تلاوت سنی تو فرمایا: "اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں تمہارے جیسا شخص پیدا کیا۔"یہ خوش نصیب صحابی حضرت سالم رضی اللہ عنہ تھے، جو سالم مولیٰ ابو حذیفہ کے نام سے مشہور ہوئے۔ انہوں نے جنگ موتہ میں بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت پائی۔ اللہ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔



Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam