شیخ عبدالقادر جیلانیؒ
جب غوث الاعظمؒ نے فرمایا: "میرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہے"، تو اُس وقت کے سب اولیاء نے اپنے سر جھکا دیے اور کہا: "ہماری گردن پر بھی"۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اپنے وقت کے سب سے بڑے ولی اللہ تھے۔ آپ اُس وقت کی طاقتور حکومت عباسی خلافت کے دارالحکومت بغداد میں رہتے تھے۔ آپ نجیب الطرفین سید تھے، یعنی آپ کے والد بھی سید تھے اور والدہ بھی۔
جس طرح آپ کی زندگی عجیب اور نرالی ہے، اُسی طرح آپ کے والدین کی شادی بھی بڑی عجیب اور سبق آموز ہے۔ آپ کے والد ایک دن دریا کے کنارے جا رہے تھے کہ انہوں نے دریا میں ایک سیب بہتا ہوا دیکھا۔ انہوں نے وہ سیب کھا لیا۔ کھانے کے بعد خیال آیا کہ یہ سیب تو کسی کا ہے، میں نے بغیر اجازت کیوں کھا لیا۔ یہ سوچ کر وہ دریا کے کنارے اُس طرف چل پڑے جہاں سے سیب بہتا ہوا آیا تھا۔ تین دن مسلسل چلتے رہے، تب ایک باغ نظر آیا جس میں سیب کے درخت تھے اور ان کی شاخیں دریا پر جھکی ہوئی تھیں۔ وہ سمجھ گئے کہ سیب یہیں سے آیا ہے۔
انہوں نے باغ کے مالک سے سیب کھانے کی اجازت مانگی اور معافی چاہی۔ باغ کے مالک، جو خود ایک نیک بزرگ تھے، بولے: "میں اسی شرط پر معاف کروں گا کہ تم میری بیٹی سے شادی کرو، جو اندھی، بہری، گونگی، لنگڑی اور ہاتھوں سے معذور ہے۔" آپ نے یہ شرط قبول کر لی۔ شادی کے بعد جب آپ نے اپنی بیوی کو دیکھا تو وہ نہایت خوبصورت خاتون تھیں۔ آپ کو لگا شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہے، اس لیے پوری رات عبادت میں گزار دی۔
صبح جب آپ نے ان بزرگ سے ملاقات کی تو انہوں نے بتایا: "میری بیٹی اندھی اس لیے کہ اس نے کبھی گناہ کو نہیں دیکھا، بہری اس لیے کہ گناہ کی بات نہیں سنی، معذور اس لیے کہ کبھی گناہ کا کام نہیں کیا، لنگڑی اس لیے کہ گناہ کی طرف چلی نہیں، اور گونگی اس لیے کہ گناہ کی بات زبان سے نہیں نکالی۔"
سوچیں، جس کے ماں باپ اتنے نیک ہوں، اُس کی شخصیت کتنی عظیم ہوگی۔
شیخ عبدالقادر جیلانیؒ والد کی طرف سے حسنی اور والدہ کی طرف سے حسینی سید تھے۔ آپ کی پیدائش 470 یا 471 ہجری میں ہوئی اور 561 ہجری میں آپ کا وصال ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر 91 برس تھی۔
آپ نے بڑے بڑے علماء سے تعلیم حاصل کی۔ قرآن پاک کو تجوید اور قرأت کے ساتھ پڑھا۔ بڑے محدثین اور عالموں سے دینی اور اخلاقی علوم حاصل کیے، یہاں تک کہ بغداد میں سب علماء پر آپ کو برتری حاصل ہو گئی۔
آپ کے علم کا یہ حال تھا کہ ایک دن قرآن کی ایک آیت کی تلاوت ہوئی، آپ نے اس کی 11 تفسیریں بیان کیں، پھر اس کی 40 حقیقتیں بیان فرمائیں۔ ہر تفسیر کو دلیل اور سند کے ساتھ بیان کیا۔ اس کے بعد فرمایا: "اب ہم قال (زبان) سے حال (دل) کی طرف آتے ہیں۔" پھر جب آپ نے "لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ" کہا، تو سامعین کے دلوں میں کیفیت طاری ہو گئی اور وہ بے خود ہو کر جنگل کی طرف دوڑنے لگے۔
آپ کا سلوک کا طریقہ بے مثال تھا۔ کوئی بھی بزرگ آپ جیسی محنت اور عبادت میں ہمسری نہیں کر سکا۔ آپ نے فرمایا: "میں 25 سال تک عراق کے جنگلوں میں گھوما، کسی کو نہ جانتا تھا نہ کوئی مجھے پہچانتا تھا۔ رجال الغیب اور جنات میرے پاس آتے اور میں انہیں اللہ کا علم سکھاتا۔"
آپ نے فرمایا: "چالیس سال تک فجر کی نماز عشاء کے وضو سے پڑھتا رہا۔ پندرہ سال تک عشاء کے بعد قرآن ختم کرتا رہا۔ کئی سال ایسے گزرے کہ میں نے نہ کچھ کھایا، نہ پیا، نہ سویا۔"
گیارہ سال آپ بغداد کے ایک برج میں عبادت کرتے رہے، لوگ اُسے "برجِ عجمی" کہتے تھے۔ آپ نے اللہ سے عہد کیا کہ جب تک غیب سے کھانا نہ آئے، کچھ نہ کھاؤں گا۔ خواہ کتنا وقت گزر جائے، آپ نے وعدہ نہ توڑا۔
لوگوں نے پوچھا: "آپ کو کیسے پتا چلا کہ آپ ولی اللہ ہیں؟" آپ نے فرمایا: "جب میں دس سال کا تھا، مدرسے جاتے ہوئے دیکھتا تھا کہ فرشتے ساتھ ہوتے تھے۔ مدرسے میں وہ دوسرے بچوں سے کہتے تھے کہ اس بچے کو جگہ دو، یہ ولی اللہ ہے۔"
ایک دن ایک شخص نے فرشتے سے پوچھا: "یہ لڑکا کون ہے جس کی تم اتنی عزت کرتے ہو؟" فرشتے نے کہا: "یہ اللہ کا ولی ہے، جسے اللہ تعالیٰ بڑے مرتبے سے نوازے گا۔"
شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں: "شروع کے زمانے میں مجھے خواب اور بیداری میں کام کرنے کے اشارے دیے جاتے تھے۔ مخلوق سے الگ رہنے کا حکم ہوتا۔ ایک دن قوتِ گویائی اتنی بڑھی کہ چپ رہنا ممکن نہ رہا۔ پھر لوگ میرے پاس آنا شروع ہوئے، یہاں تک کہ بیٹھنے کی جگہ کم پڑ گئی۔"
بعد میں آپ جامع مسجد میں بیان کرتے، پھر بھی جگہ کم پڑی تو شہر سے باہر بیان کرتے۔ بعض اوقات ستر ہزار لوگ آپ کا وعظ سنتے تھے۔ کئی لوگ قلم اور دوات لے کر آپ کی باتیں لکھتے رہتے تھے۔
آپ سے بے شمار کرامتیں ظاہر ہوئیں، جن کا تسلسل سے بیان ملتا ہے۔ مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں کہ یہ اس لیے ہوا کیونکہ آپ مقامِ روحانی پر ہمیشہ قائم رہے۔ عام اولیاء جب ترقی کرتے ہیں تو وہ عروج کے بعد نیچے آ جاتے ہیں، مگر آپ ہمیشہ بلندی پر رہے۔
قادری سلسلہ آپ ہی نے شروع کیا۔ برصغیر میں یہ بہت مشہور ہوا۔ آج کل چشتی اور قادری سلسلے میں فرق کم رہ گیا ہے، مگر قادری سلسلے کی شان الگ ہے۔
شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت غوث الاعظمؒ کو "نسبتِ اویسی" حاصل ہے، اور ساتھ ہی "نسبتِ سکینہ" کی برکت بھی۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جو چیز بنائی اُسے "شخصِ اکبر" کہا جاتا ہے، انگریزی میں اسے Greater Body یا Universal Man کہتے ہیں۔
جس کو یہ نسبت مل جائے، وہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔ اُس پر اللہ کی تجلیات نازل ہوتی ہیں، جن سے خیر و برکت ظاہر ہوتی ہے، چاہے وہ خود اُس کا ارادہ کرے یا نہ کرے۔
حضرت غوث الاعظمؒ کی زبان سے جو بلند باتیں نکلیں اور آپ کے ذریعے جو حیرت انگیز واقعات ظاہر ہوئے، یہ سب آپ کی نسبت کا نتیجہ تھے۔
شاہ ولی اللہ نے فرمایا کہ غوث الاعظمؒ کا طریقہ ندی کی طرح ہے، جو کبھی زمین پر بہتی ہے اور کبھی زمین کے اندر۔ یعنی کبھی آپ کو قادری سلسلے کے اولیاء کثرت سے ملیں گے اور کبھی نہیں، لیکن یہ سلسلہ ایک ہزار سال سے جاری ہے اور آج بھی اس کا فیض جاری ہے۔
Comments
Post a Comment