ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہ کا مقام اور مرتبہ
ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہ کا مقام اور مرتبہ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کی وجہ سے آپ کی بیویاں یعنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہ کا بہت ہی اونچا مقام ہے۔ قرآنِ مجید میں کئی آیتیں نازل ہوئیں جن میں ان کی عظمت اور شان بیان کی گئی ہے۔
جیسے کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
’’اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ سے ڈرتی ہو۔‘‘
(سورۃ احزاب)
دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اور نبی کی بیویاں، مومنوں کی مائیں ہیں۔‘‘
(سورۃ احزاب)
یہ بات پوری امت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں دو باتوں میں مومنوں کی حقیقی ماؤں جیسی ہیں:
1. ان سے نکاح ہمیشہ کے لیے کسی کے لیے جائز نہیں۔
2. ان کا ادب اور احترام ہر مسلمان پر فرض ہے، بلکہ اپنی ماں سے بھی زیادہ۔
مگر نظر اور تنہائی کے معاملے میں وہ حقیقی ماں کی طرح نہیں ہیں، کیونکہ قرآن میں فرمایا گیا:
’’جب نبی کی بیویوں سے کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔‘‘
(سورۃ احزاب)
مسلمان اپنی ماں کو دیکھ سکتا ہے، تنہائی میں بات کر سکتا ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے ہر مسلمان کے لیے پردہ فرض ہے اور تنہائی میں ان کے ساتھ بیٹھنا حرام ہے۔
اسی طرح، ماں کے والدین (نانی نانا) اور بہن بھائی (ماموں خالہ) ہوتے ہیں، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے والدین امت کے نانا نانی نہیں کہلاتے اور نہ ہی ان کے بہن بھائی امت کے ماموں خالہ کہلاتے ہیں۔
یہ حکم ان تمام ازواجِ مطہرات کے لیے ہے جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح فرمایا، چاہے وہ آپ کی زندگی میں فوت ہو گئیں یا بعد میں۔ وہ سب امت کی مائیں ہیں اور ہر مسلمان کے لیے ان کا ادب اپنی ماں سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
(حوالہ: زرقانی، جلد ۳، صفحہ ۲۱۶)
---
ازواج مطہرات کی تعداد اور نکاح کی ترتیب:
ازواج مطہرات کی تعداد اور نکاح کی ترتیب میں مورخین کے درمیان تھوڑا اختلاف پایا جاتا ہے، مگر اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کل 11 ازواج تھیں۔
ان میں سے حضرت خدیجہ اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہما کا انتقال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہو گیا تھا، اور باقی 9 ازواج آپ کی وفات کے وقت زندہ تھیں۔
ان 11 میں سے 6 بیویاں قریش کے معزز خاندانوں سے تھیں، جن کے نام یہ ہیں:
1. حضرت خدیجہ بنت خویلد
2. حضرت عائشہ بنت ابوبکر صدیق
3. حضرت حفصہ بنت عمر فاروق
4. حضرت ام حبیبہ بنت ابوسفیان
5. حضرت ام سلمہ بنت ابوامیہ
6. حضرت سودہ بنت دمعہ
جبکہ 4 ازواج قریش سے نہیں تھیں بلکہ دوسرے عرب قبائل سے تعلق رکھتی تھیں:
1. حضرت زینب بنت جحش
2. حضرت میمونہ بنت حارث
3. حضرت زینب بنت خزیمہ
4. حضرت جویریہ بنت حارث (جنہیں ام المساکین بھی کہا جاتا ہے)
اور ایک زوجہ حضرت صفیہ بنت حیی تھیں، جو عرب نہیں بلکہ بنی اسرائیل کے معزز گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔
اس بات پر بھی سب مؤرخین کا اتفاق ہے کہ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا، اور جب تک وہ زندہ رہیں، آپ نے کسی اور سے نکاح نہیں کیا۔
(حوالہ: زرقانی جلد ۳، صفحہ ۲۱۸ تا ۲۱۹)
Comments
Post a Comment