حجاب میں لپٹی غیرت۔۔۔ غزہ کی بیٹی کا ایمان افروز سوال
لڑائی کے دوران ایک عراقی بچی نے ویڈیو بنانے والے شخص سے کہا:
"انکل! میری ویڈیو مت بنائیے گا، میں بے حجاب ہوں۔" 🥹
یہ جملہ گولیوں کی آواز میں ایسی چیخ تھی جو دلوں کو چیر گئی۔
ارضِ مقدس سے ایک بہن نے علمائے کرام سے فتویٰ مانگا:
"جب ہم رات کو سونے لگتی ہیں تو اپنے آپ کو اچھی طرح حجاب میں لپیٹ لیتی ہیں، تاکہ اگر رات کو حملہ ہو جائے تو ہم بے حجاب نہ ہوں۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ اگر حملے کے بعد ہمارا حجاب اُتر جائے تو کیا ہم گناہ گار ہوں گی؟"
فقیہ کا جواب:
اے میری فرشتہ صفت بہن! تمہارے حجاب پر، تمہارے پردے پر ہم سب کی جانیں قربان!
ایسی سخت اور جان لیوا حالت میں بھی شرم و حیاء سے بھری ہوئی سوچ رکھنے والی بہن!
شریعت ہنگامی حالات میں بہت سی چھوٹ دیتی ہے۔
جیسے کہ اگر کوئی عورت کسی نہر میں گر جائے تو کوئی بھی مرد اُسے بچا سکتا ہے۔
نہ کہ اُسے اس لیے مرنے دیا جائے کہ وہاں کوئی محرم مرد نہیں ہے۔
یا اگر کوئی عورت ایسی بیماری میں مبتلا ہو جس کے لیے عورت ڈاکٹر موجود نہیں، تو مرد ڈاکٹر علاج کر سکتا ہے۔
شریعت اجازت دیتی ہے۔
بہت سے لوگ غیرت کے نام پر عورتوں کی جانیں ضائع کر دیتے ہیں۔
جب شریعت اجازت دیتی ہے تو نہ غیرت، نہ رسم و رواج، نہ ذاتی پسند و ناپسند کی کوئی اہمیت رہتی ہے۔
القرآن:
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّبِیُّ قُل لِّأَزۡوَ ٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاۤءِ ٱلۡمُؤۡمِنِینَ یُدۡنِینَ
اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ جب وہ باہر نکلیں تو اپنے اوپر اپنی چادریں ڈال لیا کریں۔
(سورہ الاحزاب: 59)
ایک ہم ہیں، جن کے لیے نہ پردے کی فکر ہے نہ شرم کی۔
نہ آنکھوں میں شرم باقی رہی اور نہ لباس میں حیاء۔
دشمن کی سازشوں کو سمجھے بغیر، آزادی کے نام پر سب کچھ بھلا دیا ہے۔
اے امت کی ٹھنڈک!
تمہارے بے حجاب ہونے پر تمہیں نہیں، ہمیں گناہ ہے۔
ہم مسلمان ملک، تمہاری عزت کی حفاظت نہ کر سکے۔
ہم بے بس، خاموش تماشائی بنے، کچھ بھی نہ کر سکے۔
باپ شہید، بھائی شہید، شوہر شہید، بیٹا شہید،
گھر کی چھت چھن گئی، خود کو گھر کے ملبے سے نکالا،
مگر حجاب مٹی اور گرد آلود ہو کر بھی پاکدامنی کی گواہی دے رہا ہے۔
اور ایک ہم پاکستانی عورتیں ہیں،
جنہیں پرواہ ہی نہیں کہ مرنے کے بعد کیا کچھ ہونے والا ہے۔
Comments
Post a Comment