آدم علیہ السلام سے پہلے زمین پر آباد 28 مخلوقات کا حیرت انگیز راز
آدم علیہ السلام سے پہلے زمین پر آباد 28 مخلوقات کا حیرت انگیز راز
کیا آپ جانتے ہیں کہ سیدنا آدم علیہ السلام کی دنیا میں تشریف آوری سے پہلے زمین پر 28 قسم کی مخلوقات موجود تھیں؟
مختلف وقتوں میں کئی ہزار سال تک یہ عجیب و غریب مخلوقات زمین پر رہتی رہیں۔
جنات کے بارے میں تو سب ہی جانتے ہیں کہ آدم علیہ السلام سے پہلے وہ زمین پر آباد تھے۔ پھر جب جنات نے نافرمانی اور شرارت شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بھیجا۔ فرشتوں نے جنات کو قتل کیا اور باقیوں کو زمین سے نکال کر جزیروں میں بھیج دیا۔
لیکن جنات سے پہلے بھی 27 قسم کی مخلوقات زمین پر آباد تھیں!
ان میں سے بِن، پھر خِن، پھر مِن نامی مخلوق زمین پر رہتی رہی۔
علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے "البدایہ والنہایہ" میں لکھا ہے کہ بِن اور خِن زمین پر رہتے تھے، لیکن وہ بھی سرکش ہو گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جنات کو بھیجا جنہوں نے بِن اور خِن کو زمین سے نکال دیا۔
(یہ بات یاد رکھیں کہ ان سب کو مارا نہیں گیا بلکہ صرف زمین کی حدود سے نکال دیا گیا۔ ہو سکتا ہے وہ کسی اور زمین یا سیارے پر آباد ہو چکے ہوں، اور وہی آج کل کی خلائی مخلوق ہو سکتی ہے۔)
پھر جنات نے بھی نافرمانی کی، تو فرشتوں نے انہیں بھی سزا دی۔ اور پھر وہ مخلوق پیدا کی گئی جس کے لیے زمین بنائی گئی تھی، یعنی حضرت انسان۔
علامہ مسعودی نے لکھا ہے کہ انسان سے پہلے زمین پر 28 قسم کی مخلوقات آباد تھیں۔
علامہ شہاب الدین الاشبیہی نے بھی "المستطرف" میں لکھا ہے کہ زمین پر 28 قسم کی مخلوقات آباد تھیں۔
ان میں سے کچھ مخلوقات کی تفصیل کچھ یوں ہے:
1. کچھ ایسی مخلوق تھی جن کے پر تھے، اور ان کی زبان بجنے جیسی آواز نکالتی تھی۔
2. کچھ کے دو جسم اور ایک ہی سر تھا۔ ایک جسم شیر جیسا، دوسرا پرندے جیسا، ان کے بال اور ناخن ہوتے تھے۔
3. کچھ کے دو سر ہوتے تھے، ایک آگے کی طرف اور ایک پیچھے کی طرف۔
4. کچھ آدھے انسان جیسے تھے اور ان کی کئی ٹانگیں ہوتی تھیں۔
5. کچھ کا چہرہ انسان جیسا ہوتا، لیکن پشت کچھوے جیسی ہوتی، اور ان کے سر پر سینگ ہوتے تھے۔
6. کچھ کے سفید بال اور گائے جیسی دم ہوتی تھی۔
7. کچھ کے ناخن خنجر جیسے اور کان بہت لمبے ہوتے تھے۔
علامہ مسعودی نے ایک جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے زمین پر 120 قسم کی مخلوقات آباد تھیں۔
اصل میں 28 مخلوقات ہی تھیں، لیکن جب ان میں آپس میں شادیاں ہوئیں تو وہ نئی نئی شکلوں میں بدل گئیں، اور یوں وہ 120 مخلوقات بن گئیں۔
ان سب کے بعد آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت انسان کو پیدا کیا، جو سب مخلوقات سے زیادہ حسین و جمیل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:"
یعنی: "ہم نے انسان کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا۔"
ایک حدیث مبارکہ میں ہے:"
یعنی: "اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی پسندیدہ صورت پر پیدا کیا۔"
پچھلی مخلوقات میں سے کچھ کے نشانات آج بھی ملتے رہتے ہیں، جنہیں سائنس دان ڈائنوسار وغیرہ کہتے ہیں۔
کچھ مخلوقات سمندروں یا جزیروں میں چھپی ہوئی ہیں۔
الجزائر میں موجود بہت بڑے پہاڑی سلسلے کی غاروں میں ان مخلوقات کی تصاویر ملی ہیں جو اُن کے زمانے کی بنائی ہوئی ہیں۔
بعض علما کے مطابق یاجوج و ماجوج انہی پچھلی مخلوقات میں سے ہیں، جو آج بھی حضرت ذوالقرنین (یعنی سکندر اعظم) کی بنائی ہوئی دیوار کے پیچھے قید ہیں۔
کچھ احادیث میں دو بڑے شہروں کا ذکر آتا ہے، جو اس دنیا سے بھی بڑے ہیں۔ ایک مشرق میں ہے اور دوسرا مغرب میں۔ وہاں بھی مخلوق آباد ہے۔
Comments
Post a Comment