نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر عامر بن طفیل اور اربد کی سازش

بسم اللہ الرحمن الرحیم شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اربد بن قیس بن جعفر بن خالد بن کلاب اور عامر بن طفیل بن مالک مدینہ منورہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے سامنے بیٹھ گئے۔

عامر کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اگر میں اسلام لے آؤں تو مجھے کیا ملے گا؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے حقوق اور فرائض دیگر مسلمانوں ہی کی طرح ہوں گے۔

عامر نے کہا: کیا آپ کے بعد مجھے حکومت مل سکتی ہے؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نہ تجھے ملے گی نہ تیری قوم کو، البتہ تمہیں لشکر اسلام کی مدد کرنا ہوگی۔

عامر نے کہا: اس وقت تو میں لشکر نجد کی مدد میں ہوں۔ ایسا کریں کہ آپ میرے لیے دیہات کی حکومت مقرر کر دیں اور اپنے لیے شہروں کی حکومت رکھ لیں؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔

پھر جب یہ دونوں اٹھنے لگے تو عامر نے آپ سے کہا: میں تمہارے مقابلے میں اس قدر سوار اور پیادہ لشکر لاؤں گا کہ یہ وادی بھر جائے گی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہیں اس سے باز رکھے گا۔

باہر نکل کر عامر نے اربد سے کہا: میں محمد کو باتوں میں لگاؤں گا اور تم اس پر تلوار چلا دینا۔ اگر یہ قتل ہو گیا تو لوگ (صحابہ کرام) زیادہ سے زیادہ یہی کریں گے کہ دیت لے کر راضی ہو جائیں گے، جنگ پر آمادہ نہیں ہوں گے۔ اور ہمارے لیے دیت کی ادائیگی کوئی مشکل نہیں۔

اربد نے کہا: میں یہ کام کر دوں گا۔

تو دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پلٹ آئے۔

عامر نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آؤ، میں تمہارے ساتھ کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر اس سے باتیں کرنے لگے۔ اربد نے تلوار سونتنی چاہی مگر اس کے بازو نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ وہ تلوار نہ نکال سکا اور کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پلٹ کر اربد کی طرف دیکھا کہ وہ کیا کر رہا ہے اور پھر وہاں سے تشریف لے گئے۔

عامر اور اربد آپ کے یہاں سے نکل کر مقام حرہ واقم پہنچے اور وہاں پڑاؤ کیا۔

اتنے میں حضرت سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر وہاں پہنچے اور کہا: اے دشمنانِ خدا! ٹھہر جاؤ، خدا تم پر لعنت کرے!

عامر نے کہا: اے سعد! یہ دوسرا کون ہے؟

سعد نے کہا: یہ اسید بن حضیر ہے، صاحبِ لشکر ہے۔

چنانچہ یہ دونوں وہاں سے بھاگ اٹھے، مگر ابھی ارض واقم (مکہ و مدینہ کے درمیان ایک جگہ) پہنچے تھے کہ اربد پر اللہ نے آسمان سے بجلی گرائی اور اسے جلا کر بھسم کر دیا۔

رہا عامر تو وہ بھاگتا ہوا مقام خریب پہنچا۔ اللہ نے اس کے جسم میں پھوڑا پیدا کر دیا۔ اسے بنی سلول کی ایک عورت کے گھر رات آگئی۔ وہ اپنے پھوڑے کو اپنی زبان سے چوستا تھا اور کہہ رہا تھا: بنی سلول کی عورت کے گھر میں اونٹ کے پھوڑے جیسی مصیبت نے آ لیا، اب اس کی تمنا تھی کہ یہیں مر جائے۔

پھر وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور راستے میں ہی واصل جہنم ہو گیا۔

دلائل النبوّۃ 

Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam