ایک نعت، ایک عاشق، اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بےمثال واقعہ
حضرت مولانا جامیؒ بہت بڑے عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ اُن کے دل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اس قدر غالب تھی کہ اُن کی ہر بات، ہر شعر میں عشق رسول کی خوشبو آتی تھی۔
ایک مرتبہ حضرت جامیؒ نے ایک نعت لکھی۔ اُن کا ارادہ تھا کہ جب وہ حج کے لیے جائیں گے، تو حج کے بعد مدینہ منورہ جا کر روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر یہ نعت پڑھیں گے۔
جب وہ حج کے لیے تشریف لے گئے اور حج ادا کرنے کے بعد مدینہ جانے کا ارادہ کیا، تو اُس وقت کے امیرِ مکہ کو خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"جامیؒ کو مدینہ آنے سے روک دو۔"
امیرِ مکہ نے جب یہ خواب دیکھا تو فوراً اعلان کروایا کہ حضرت جامیؒ کے مدینہ میں داخلے پر پابندی ہے۔
حضرت جامیؒ چونکہ عاشقِ رسول تھے، اُن پر یہ پابندی بہت گراں گزری۔ اُن کا دل تڑپ اٹھا۔ وہ کسی نہ کسی طرح مدینہ منورہ جانے کی کوشش کرنے لگے۔ کچھ سیرت نگار لکھتے ہیں کہ وہ ایک قافلے کے صندوق میں بند ہو کر مدینہ جانے لگے، لیکن پھر بھی اُنہیں روک لیا گیا۔
کچھ روایتوں میں آتا ہے کہ وہ بھیڑوں کی کھال اوڑھ کر قافلے میں شامل ہو گئے تاکہ مدینہ پہنچ سکیں، لیکن پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں آنے کی اجازت نہ دی۔
پھر امیرِ مکہ کو دوبارہ خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"جامی کو میرے روضہ پر ہرگز آنے نہ دینا۔"
امیرِ مکہ نے اپنے آدمی روانہ کیے اور حضرت جامیؒ کو راستے سے گرفتار کرکے قید میں ڈال دیا۔
تیسری مرتبہ پھر امیرِ مکہ کو خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"جامی کوئی مجرم نہیں ہے۔ ہم اسے اس لیے روک رہے ہیں کہ اگر وہ میرے روضے پر آ کر وہ نعت پڑھ لے گا جو اُس نے لکھی ہے، تو مجھے اپنی قبرِ انور سے نکل کر اُس سے مصافحہ کرنا پڑے گا۔ اس لیے اُسے ہر حال میں روکو۔"
یہ سن کر امیرِ مکہ حضرت جامیؒ کو عزت و احترام کے ساتھ قید خانے سے نکالتے ہیں اور اُن سے عرض کرتے ہیں:
"حضرت! وہ نعت کون سی ہے جو آپ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کھڑے ہو کر پڑھنا چاہتے تھے؟"
مولانا جامی رحمة الله علیہ نے روتے ہوئے یہ چند اشعار پڑھے؛
تنم فرسودہ جاں پارہ ، ز ہجراں ، یا رسول اللہ
دِلم پژمردہ آوارہ ، زِ عصیاں ۔۔۔۔۔۔ یا رسول اللہ
(یارسول اللہ آپ کی جدائی میں میرا جسم بے کار اور جاں پارہ پارہ ہو گئی ہے،
گناہوں کی وجہ سے دل نیم مردہ اور آوارہ ہو گیا ہے)
چوں سوئے من گذر آری ، منِ مسکیں زِ ناداری
فدائےنقشِ نعلینت ، کنم جاں ۔۔۔ یا رسول اللہ
(یا رسول اللہ اگر کبھی آپ میری جانب قدم رنجہ فرمائیں تو میں غریب و ناتواں ،آپ کی جوتیوں کے نشان پر جان قربان کر دوں)
زِکردہ خویش حیرانم ، سیہ شُد روزِ عصیانم
پشیمانم، پشیمانم ، پشیماں ۔۔۔۔۔۔ یا رسول اللہ
(میں اپنے کئے پر حیران ہوں اور گناہوں سے سیاہ ہو چکا ہوں ، پشیمانی اور شرمند گی سے پانی پانی ہو رہا ہوں ، یا رسول اللہ)
چوں بازوئے شفاعت را ، کُشائی بر گنہ گاراں
م کُن محروم جامی را ، درا آں ، یا رسول اللہ
( روز محشر جب آپ شفاعت کا بازو گناہ گاروں کے لئے کھولیں گے ،یا رسول اللہ اُس وقت جامی کو محروم نہ رکھئے گا)
Comments
Post a Comment