پردہ: عزت، حیاء اور نجات کا راستہ
پردہ: عزت، حیاء اور نجات کا راستہ
عورت کا بے پردہ اور برہنہ ہونا اللہ کی ناراضگی کی نشانی ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حضرت حواء سے ناراضگی فرمائی تو ان سے لباس چھین لیا گیا، اور ان کی شرمگاہیں اُن پر ظاہر ہو گئیں۔
دنیا میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی چیزیں حرام کی ہیں، لیکن جنت میں ان میں سے اکثر چیزیں حلال کر دی جائیں گی، جیسے شراب وغیرہ۔
مگر عریانی (بےلباسی) ایسی بری چیز ہے کہ وہ نہ دنیا میں جائز ہے نہ جنت میں۔
جنت کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت یہ بھی ہے کہ وہاں ہمیشہ عزت، حیاء اور مکمل لباس کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔
جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"بیشک تم وہاں نہ بھوکے رہو گے اور نہ ہی بے لباس ہو گے۔" (سورہ طٰہٰ)
اس لیے حیاء اور پردہ اللہ کی رضا اور نعمتوں کا راستہ ہے،
اور بے پردگی اللہ کی ناراضگی اور نقصان کی علامت ہے۔
کاکروچ، چھپکلی، چوہے سے ڈرنے والی عورتیں اللہ تعالیٰ اور اُس کے عذاب سے نہیں ڈرتیں،
یہ کتنی حیرت کی بات ہے!
جس خوبصورتی کو تم بیہودہ لباس پہن کر نامحرم مردوں کے سامنے دکھاتی ہو…
"اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ جب وہ باہر نکلیں تو اپنے اوپر اپنی چادریں ڈال لیا کریں۔"
(سورۃ الاحزاب: آیت 59)
جب پردے کا حکم موجود ہے، پھر بھی تم بازاروں میں بے پردہ، نت نئے فیشن کر کے نامحرم مردوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہو۔
تم عورت کی عزت اور وقار کو خود اپنے عمل سے پامال کرتی ہو۔
جس رب نے "سورۃ النساء" نازل کی، اور عورت کو عزت دی، اسی رب کی نافرمانی کرتی رہتی ہو؟
یاد رکھو! انسان کی آخری منزل قبر ہے۔
جنہیں میرا اللہ "اے ایمان والو" کہہ کر مخاطب کرتا ہے،
آج وہی مرد بازاروں اور چوراہوں میں کھڑے ہو کر عورتوں کو گھورتے رہتے ہیں۔
زندگی بہت مختصر ہے، اسے نیک کاموں میں گزارو۔
زندگی کا ایک لمحہ، ایک منٹ کا بھی پتہ نہیں۔
اللہ سے تعلق جوڑو، اور برائیوں سے دور ہو جاؤ۔
زندگی کو اللہ کے احکام کے مطابق گزارو، اسی میں دین و دنیا کی کامیابی اور نجات ہے۔
جیسے عورت کو پردے کا حکم ہے، ویسے ہی مرد کو بھی نظریں نیچی رکھنے کا حکم ہے۔
اور یہ حکم لڑکوں کو پہلے دیا گیا، لڑکیوں کو بعد میں۔
مگر افسوس! ہمیں لڑکیوں کے پردے کا تو پتہ ہے، مگر اپنے پردے کا نہیں۔
اللہ تعالیٰ سورۃ النور، آیت 30 میں فرماتے ہیں:
"مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں۔"
پھر اگلی آیت 31 میں عورتوں کو پردے کا حکم دیا گیا۔
میرے بھائی! ہمیں آیت 31 کا تو پتہ ہوتا ہے، مگر آیت 30 کو بھول جاتے ہیں۔
اگر کوئی عورت پردہ نہیں کر رہی، تو وہ اپنے آپ پر ظلم کر رہی ہے۔
اس کا نامہ اعمال سیاہ ہو رہا ہے، اور کوئی بد کردار شخص اس کی عزت پر بھی حملہ کر سکتا ہے۔
اس کی بے پردگی آخرت میں تو رسوائی کا سبب بنے گی ہی، دنیا میں بھی ذلت کا باعث بن سکتی ہے۔
یاد رکھو!
قیامت کے دن تم سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ فلاں عورت پردہ کرتی تھی یا نہیں؟
بلکہ تم سے یہ سوال ہوگا کہ تم نے اپنی نگاہیں جھکائی تھیں یا نہیں؟
کیا تم نے اپنا پردہ کیا تھا؟
ہم عورتوں کی بے پردگی پر تو بہت تنقید کرتے ہیں،
لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اللہ کا حکم تو ہمیں بھی ہے کہ عورت کو دیکھ کر نظریں جھکا لیا کرو۔
بے پردہ عورت کو دیکھنے کی اجازت تمہیں کس نے دی؟
اگر عورت نے پردہ نہ کر کے اللہ کا حکم توڑا ہے،
تو تم اُسے دیکھ کر اللہ کا حکم کیوں توڑتے ہو؟:
مرد آنکھیں نیچی نہیں کرنا چاہتے،
عورت پردے کو جہالت سمجھتی ہے،
مگر دونوں عزت اور احترام چاہتے ہیں۔
مردوں کے لیے بھی حکم ہے کہ اگر دنیا کی تمام عورتیں لباس میں ہوں،
تب بھی مردوں کو اپنی نظریں نیچی رکھنی ہیں۔
جتنی فکر مرد عورتوں کے لباس کی کرتے ہیں،
اتنی اپنی آنکھوں کی صفائی کی بھی کیا کریں۔
اے ایمان والو!
بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے،
جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے،
جس پر ایسے سخت فرشتے مقرر ہیں، جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے،
اور جو حکم دیا جاتا ہے اُسے فوراً بجا لاتے ہیں۔
جہنم سے بچنے کا راستہ ہمیں قرآن بتاتا ہے،
مگر نہ ہم قرآن پڑھتے ہیں نہ سمجھتے ہیں،
نہ ہی اپنی اولاد کو سکھاتے ہیں۔
پھر ہمیں وہ راستہ کیسے معلوم ہوگا؟
ہم دنیا کی چھوٹی سی زندگی کے لیے سالوں تعلیم حاصل کرتے ہیں،
مگر جو زندگی کبھی ختم نہیں ہوگی، اُس کے لیے کچھ نہیں کرتے۔
افسوس! ہم خود ہی اپنے اور اپنی اولاد کے دشمن ہیں۔
کیا ہو گیا ہے اے عورتو، اے مردو؟
جب جانا تو قبر میں ہی ہے،
تو آخرت کی تیاری کیوں نہیں کرتے؟
گناہوں سے کیوں نہیں بچتے؟
کوشش تو کرو!
وہ منظر کیسا ہوگا جب قبر کے کیڑے تمہارے جسموں سے اپنی بھوک مٹائیں گے؟
اللہ اکبر!
Comments
Post a Comment