اہلِ بیت کا درزی

اہلِ بیت کا درزی چاند رات کا وقت تھا۔ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما اپنی والدہ حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا کے پاس آئے اور عرض کیا: "امی جان! کل عید ہے۔ مدینے کے بچے نئے کپڑے پہنیں گے۔ کیا ہم نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے بغیر نئے کپڑوں کے رہیں گے؟" بچوں کی معصوم بات سن کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فکر لاحق ہوئی۔ انہوں نے بچوں کو تسلی دی: "میرے بیٹو! اللہ چاہے تو تمہیں بھی نئے کپڑے مل جائیں گے۔" نماز کے بعد حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے دعا کی: "اے اللہ! تیرے نبی کے نواسوں نے مجھ سے نئے کپڑوں کا وعدہ کیا ہے۔ میرے مولا! میری دعا قبول فرما اور میرے بچوں کی خواہش پوری کر دے۔" ابھی دعا ختم ہی ہوئی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: "کون ہے؟" جواب آیا: "اہلِ بیت کا درزی شہزادوں کے لیے نئے کپڑے لے کر آیا ہے۔" حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کپڑے لے لیے اور صبح عید کے دن دونوں شہزادوں کو پہنائے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو فرمایا: "بیٹی! جانتی ہو یہ کپڑے کہاں سے آئے ہیں؟" حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: "ابا جان! آپ ہی بتائیں۔" تو سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "یہ جبریل امین علیہ السلام جنت سے یہ کپڑے لے کر آئے ہیں۔" (ماخذ: روضتہ الشہداء، جلد ۲، صفحہ ۱۳۸) نوٹ: یہ واقعہ اہلِ سنت کی کئی مشہور کتابوں میں بھی موجود ہے، جیسے: تفسیر درِ منثور (امام جلال الدین سیوطی) تفسیر روح البیان (شیخ اسماعیل حقی) تفسیر مظہری (قاضی ثناء اللہ پانی پتی) تفسیر کشاف (امام زمخشری) شوائد النبوت (عبدالرحمن جامی)

Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam