بابا فریدؒ اور کھوٹے سکے – ایک عبرت انگیز واقعہ
ایک بار بابا فرید رحمۃ اللہ علیہ اپنے خاص مریدوں سے بات کر رہے تھے۔ یہ وہ مرید تھے جو روحانی طور پر بہت بلند مقام پر پہنچ چکے تھے۔ دورانِ گفتگو بابا جی نے فرمایا کہ ہرات شہر میں ایک بزرگ رہتے تھے۔ ان کا کام سالن بنانا اور بیچنا تھا۔
ایک دن وہ حسبِ معمول سالن کی دیگ تیار کرکے بیٹھے تھے کہ ایک عورت آئی اور سالن مانگا۔ بزرگ نے سالن دے دیا۔ اس عورت نے بدلے میں ایک کھوٹا سکہ دیا۔ بابا جی نے سکہ لے کر بغیر کچھ کہے غلے میں رکھ دیا، یہ ظاہر نہیں کیا کہ انہیں پتہ ہے کہ سکہ کھوٹا ہے۔
پھر وہ عورت گاؤں میں جا کر کہنے لگی کہ فلاں جگہ پر ایک بزرگ ہیں، انہیں کھوٹے سکے کی پہچان نہیں ہے۔ یہ سن کر اور عورتیں اور لوگ بھی آنے لگے اور کھوٹے سکے دے کر سالن لے جاتے۔ بابا جی سب کو خاموشی سے سالن دے دیتے۔
کچھ دن بعد بابا جی بیمار ہو گئے۔ جب گاؤں کے کچھ لوگ ان کا حال پوچھنے آئے تو بابا جی نے فرمایا کہ مجھے مصلہ بچھا دو۔ جب مصلہ بچھا دیا گیا تو بابا جی اس پر بیٹھے اور اپنے سامنے کھوٹے سکوں کی تھیلیاں رکھ دیں۔ پھر اللہ تعالیٰ سے عرض کرنے لگے:
"اے اللہ! تیری مخلوق میرے پاس کھوٹے سکے لاتی رہی، میں بغیر کچھ کہے قبول کرتا رہا۔ اے میرے رب! آج میری زندگی کا آخری دن ہے، میری کھوٹی نمازیں، کھوٹے روزے، اور کھوٹے سجدے بھی قبول فرما۔"
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ مکان کے در و دیوار کانپنے لگے اور آواز آئی:
"تمہاری دعا قبول ہوئی، تمہارا حساب درگزر کیا گیا، اور جنت میں تمہیں نبیوں اور صدیقوں کا پڑوسی بنایا گیا۔
Comments
Post a Comment