سور کی چربی کا استعمال – مسلمانوں کے لیے ایک اہم وارننگ
یورپ اور امریکہ کے زیادہ تر ملکوں میں گوشت کے لیے سور کو سب سے اہم جانور سمجھا جاتا ہے۔ وہاں سور پالنے کے ہزاروں فارم ہیں۔ صرف فرانس میں سور پالنے والے فارموں کی تعداد 42,000 سے زیادہ ہے۔
سور کے جسم میں دوسرے جانوروں کی نسبت زیادہ چربی (Fat) ہوتی ہے۔
یورپ اور امریکہ کے لوگ اس نقصان دہ چربی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ یہ صحت کے لیے اچھی نہیں۔
پہلے یہ چربی جلا دی جاتی تھی، کیونکہ اس کو ٹھکانے لگانا ایک بڑا مسئلہ تھا۔
تقریباً 60 سال بعد ان لوگوں نے سوچا کہ اس چربی کو کسی کام میں لایا جائے تاکہ فائدہ بھی ہو۔
انہوں نے اس چربی سے صابن بنانا شروع کیا، اور یہ کامیاب رہا۔
شروع میں جب سور کی چربی سے بنی چیزیں بنائی گئیں تو ان پر صاف صاف لکھا جاتا تھا کہ اس میں Pig Fat (سور کی چربی) ہے۔
لیکن جب مسلمان ممالک نے ان چیزوں پر پابندی لگائی تو ان کمپنیوں کو نقصان ہوا۔
1857 میں یورپ سے کچھ گولیاں برصغیر (ہندوستان) بھیجی گئیں۔
سمندر کی نمی کی وجہ سے ان گولیوں میں موجود بارود خراب ہو گیا۔
پھر انہوں نے ان گولیوں پر سور کی چربی کی تہہ لگا دی تاکہ نمی سے بچایا جا سکے۔
لیکن جب یہ بات سامنے آئی کہ گولیاں سور کی چربی سے تیار کی گئی ہیں، تو مسلمانوں اور ہندو سپاہیوں نے گولیاں استعمال کرنے سے انکار کر دیا۔
یہی واقعہ 1857 کی جنگِ آزادی کی ایک بڑی وجہ بنا۔
بعد میں ان کمپنیوں نے "Pig Fat" کے بجائے FIM لکھنا شروع کر دیا تاکہ کوئی سمجھ نہ سکے۔
1970 کے بعد جب مسلمان ممالک نے ان کمپنیوں سے پوچھا کہ کیا ان چیزوں میں جانوروں کی چربی شامل ہے؟
تو جواب ملا: "ہاں، مگر یہ چربی گائے یا بھیڑ کی ہے"۔
پھر مسلمانوں نے سوال کیا: "کیا یہ جانور اسلامی طریقے سے ذبح کیے گئے؟"
جب جواب آیا "نہیں"، تو پھر ان پر پھر پابندی لگا دی گئی۔
اب ان کمپنیوں نے چربی کو خفیہ کوڈز میں لکھنا شروع کر دیا، تاکہ عام لوگ نہ سمجھ سکیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج کل پروڈکٹس پر E-Codes لکھے ہوتے ہیں، جنہیں "E-Ingredients" بھی کہا جاتا ہے۔
یہ چیزیں جن میں سور کی چربی استعمال ہو سکتی ہے، ان میں شامل ہیں:
ٹوتھ پیسٹ،ببل گم،چاکلیٹ،بسکٹ،ٹافیاں،صابن،وٹامنز،کچھ دوائیں،سویٹس،
کارن فلیکس،کینڈی،کاسمیٹکس
یہ سب چیزیں مسلمان ملکوں میں بھی استعمال ہو رہی ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ سور کی چربی کے استعمال سے معاشرے میں:
بے شرمی ,بے رحمی ,جنسی بے راہ روی
جیسی برائیاں بڑھ رہی ہیں۔
جب بھی کوئی چیز خریدیں تو اس کے Ingredients ضرور چیک کریں۔
اگر اس پر نیچے دیے گئے E-Codes میں سے کوئی بھی لکھا ہو، تو اس سے پرہیز کریں کیونکہ اس میں سور کی چربی شامل ہو سکتی ہے:
E100, E110, E120, E140, E141, E153, E210, E213, E214, E216,
E234, E252, E270, E280, E325, E326, E327, E334, E335, E336,
E337, E422, E430, E431, E432, E433, E434, E435, E436, E440,
E470, E471, E472, E473, E474, E475, E476, E477, E478, E481,
E482, E483, E491, E492, E493, E494, E542, E549, E572,
E621, E631, E635, E905
اللہ تعالیٰ ہم سب کو حرام چیزوں سے بچائے اور ہمیں حلال اور پاک رزق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
Comments
Post a Comment