ایک عجیب گورنر کا واقعہ

 ایک عجیب گورنر کا واقعہ

حمص کے لوگ اپنے گورنروں سے بہت جلد ناراض ہو جاتے تھے۔ وہ ہمیشہ اپنے گورنروں میں کوئی نہ کوئی خامی نکال کر ان کی شکایت خلیفہ کو بھیجتے اور مطالبہ کرتے کہ انہیں ہٹاکر دوسرا گورنر مقرر کیا جائے۔ یہ دیکھ کر حضرت عمر فاروقؓ نے فیصلہ کیا کہ وہاں ایسا شخص گورنر مقرر کریں گے جس کی سیرت اور کردار اتنا بلند ہو کہ کوئی اس پر اعتراض نہ کرسکے۔

انہوں نے اپنے تمام قابلِ اعتماد ساتھیوں پر غور کیا اور آخر میں حضرت عمیر بن سعدؓ کو منتخب کیا۔ حضرت عمیرؓ نے شام کے علاقے میں بہت بہادری سے لڑائی کی تھی اور کئی شہر فتح کیے تھے۔ حضرت عمرؓ نے انہیں شام کے محاذ سے واپس بلایا اور حمص کا گورنر مقرر کیا۔

حضرت عمیر بن سعدؓ نے ایک سال تک حمص میں گورنری کی۔ اس دوران نہ انہوں نے خلیفہ کو کوئی خط لکھا، نہ بیت المال میں کوئی رقم بھیجی۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ کو شک ہوا کیونکہ وہ اپنے گورنروں پر نظر رکھتے تھے اور کبھی لاپروا نہیں رہتے تھے۔

انہوں نے اپنے کاتب سے کہا کہ عمیر کو خط لکھو:

"جیسے ہی میرا خط ملے، حمص چھوڑ کر مدینہ آ جاؤ اور جو رقم تم نے جمع کی ہے، وہ ساتھ لاؤ۔"

حضرت عمیرؓ نے خط پڑھا، ایک تھیلی زاد راہ کی اٹھائی، کندھے پر ایک پیالہ اور پانی کا برتن رکھا، نیزہ ہاتھ میں لیا اور پیدل ہی مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب وہ مدینہ پہنچے تو بھوک اور سفر کی مشقت سے بہت کمزور ہو چکے تھے۔

حضرت عمرؓ نے جب ان کو اس حال میں دیکھا تو حیران ہو کر پوچھا:

"عمیر! تمہیں کیا ہوا ہے؟"

انہوں نے کہا:

"مجھے کچھ نہیں ہوا، الحمدللہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ میں دنیا کی ساری دولت اپنے ساتھ لے آیا ہوں۔"

حضرت عمرؓ نے پوچھا:

"کیا لائے ہو؟"

حضرت عمیرؓ نے کہا:

"میرے پاس ایک تھیلی ہے جس میں سفر کا سامان ہے، ایک پیالہ ہے جس میں کھاتا ہوں، اور ایک مشکیزہ ہے جس میں پانی رکھتا ہوں۔"

پھر کہنے لگے:

"امیر المومنین! میرے لیے ان چیزوں کے علاوہ دنیا کی کوئی چیز ضروری نہیں۔"

حضرت عمرؓ نے پوچھا:

"کیا تم پیدل آئے ہو؟"

انہوں نے جواب دیا:

"جی ہاں، بیت المال نے سواری نہیں دی، اور میں نے مانگی بھی نہیں۔"

حضرت عمرؓ نے پوچھا:

"جو رقم بیت المال کے لیے لائے ہو وہ کہاں ہے؟"

حضرت عمیرؓ نے کہا:

"میں کوئی رقم نہیں لایا۔"

"کیوں؟"

انہوں نے جواب دیا:

"میں نے وہاں کے نیک لوگوں کو خراج کی رقم اکٹھا کرنے کی ذمہ داری دی تھی اور جو بھی رقم آتی، ہم سب مل کر اسے ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیتے۔"

یہ سن کر حضرت عمرؓ بہت متاثر ہوئے اور اپنے کاتب سے کہا کہ عمیر کے لیے دوبارہ گورنری کا حکم نامہ لکھ دو۔

لیکن حضرت عمیرؓ نے انکار کر دیا اور کہا:

"نہ اب یہ ذمہ داری لینا چاہتا ہوں، نہ آپ کے بعد کسی اور کے لیے۔"

پھر وہ مدینہ کے قریب اپنے گاؤں چلے گئے جہاں ان کے گھر والے رہتے تھے۔

کچھ وقت بعد حضرت عمرؓ نے ان کی آزمائش کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے ایک قابلِ اعتماد ساتھی "حارث" کو بلایا اور کہا:

"عمیر کے ہاں مہمان بن کر جاؤ، اگر خوشحالی دیکھو تو مجھے بتانا، اور اگر تنگ دستی دیکھو تو یہ سونے کے دینار ان کے حوالے کر دینا۔"

حارث حضرت عمیرؓ کے گاؤں پہنچے۔ جب ملاقات ہوئی تو حضرت عمیرؓ نے پوچھا:

"کہاں سے آئے ہو؟"

حارث نے کہا:

"مدینہ سے۔"

"مدینہ کے مسلمان کیسے ہیں؟"

"خیر سے ہیں۔"

"امیر المومنین کیسے ہیں؟"

"وہ بھی خیریت سے ہیں۔"

حضرت عمیرؓ نے آسمان کی طرف دیکھ کر دعا کی:

"اے اللہ! عمر کی مدد فرما، وہ تجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔"

حارث تین دن ان کے مہمان بنے۔ ہر رات حضرت عمیرؓ انہیں جو کی ایک روٹی دیتے۔ تیسرے دن ایک شخص نے حارث سے کہا:

"تم نے عمیر اور ان کے گھر والوں کو تکلیف میں ڈال دیا ہے۔ وہ خود بھوکے رہ کر تمہیں کھانا کھلاتے ہیں۔ بہتر ہے کہ تم میرے گھر چلے آؤ۔"

پھر حارث نے دیناروں کی تھیلی حضرت عمیرؓ کو دی۔ انہوں نے پوچھا:

"یہ کیا ہے؟"

حارث نے کہا:

"یہ امیر المومنین نے آپ کے لیے بھیجے ہیں۔"

حضرت عمیرؓ نے کہا:

"یہ واپس لے جاؤ اور ان سے کہو کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔"

ان کی بیوی، جو دروازے کے پیچھے کھڑی سب سن رہی تھیں، بولیں:

"عمیر! آپ یہ تھیلی لے لیجیے، اگر ضرورت ہے تو خرچ کیجیے، ورنہ ضرورت مندوں میں بانٹ دیجیے۔"

حارث دیناروں کی تھیلی چھوڑ کر چلے گئے۔ حضرت عمیرؓ نے رات کو دینار چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں بانٹ دیے اور شہداء کے بچوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیے۔

جب حارث مدینہ واپس پہنچے تو حضرت عمرؓ نے پوچھا:

"کیا دیکھا تم نے؟"

حارث نے جواب دیا:

"عمیر اور ان کے اہلِ خانہ بہت سخت حالات میں ہیں۔"

"کیا تم نے دینار دے دیے تھے؟"

"جی ہاں، لیکن میرا خیال ہے انہوں نے ایک بھی دینار اپنے لیے خرچ نہیں کیا۔"

پھر حضرت عمرؓ نے حضرت عمیرؓ کو خط لکھا:

"جیسے ہی یہ خط ملے، فوراً مدینہ کے لیے روانہ ہو جاؤ۔"

حضرت عمیرؓ مدینہ آئے۔ حضرت عمرؓ نے ان کا بہت گرمجوشی سے استقبال کیا اور پوچھا:

"عمیر! تم نے ان دیناروں کا کیا کیا؟"

حضرت عمیرؓ نے کہا:

"جب آپ نے وہ دینار مجھے دے دیے تو اب ان سے آپ کا کیا تعلق؟"

حضرت عمرؓ نے کہا:

"میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ تم نے وہ کہاں خرچ کیے؟"

حضرت عمیرؓ نے جواب دیا:

"میں نے انہیں جمع کر لیا تاکہ قیامت کے دن کام آئیں، جس دن مال و اولاد کسی کے کام نہیں آئے گی۔"

یہ سن کر حضرت عمرؓ کی آنکھیں بھر آئیں اور وہ روتے ہوئے بولے:

"عمیر! میں گواہی دیتا ہوں کہ تم ان لوگوں میں سے ہو جو تنگ دستی کے باوجود دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں۔"

پھر حضرت عمرؓ نے حکم دیا کہ عمیرؓ کو ایک وسق اناج (تقریباً 60 کلو) اور دو جوڑے کپڑے دیے جائیں۔ حضرت عمیرؓ نے کہا:

"غلے کی مجھے ضرورت نہیں، میں دو صاع جو اپنے گھر چھوڑ آیا ہوں، جب تک وہ ہیں، اللہ ہمارا انتظام کرے گا۔ ہاں، ایک کپڑا اپنی بیوی کے لیے رکھ لیتا ہوں، اس کے کپڑے بہت پرانے ہو چکے ہیں۔"


Comments