چھوٹے کام، بڑی باتیں: ایک یہودی کی زبانی انبیاء کی صفات

 اٹلی میں ایک سخت مزاج یہودی، مسٹر کلاؤ، کی تیرہ چودہ منزلہ عمارت تھی۔ وہ خود صبح سویرے صفائی کرتا، بارش کا پانی نکالتا اور راستے صاف کرتا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا، اتنے بڑے آدمی ہو کر یہ کام کیوں کرتے ہو؟اس نے جواب دیا، کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ جب میں نے یہ ذمہ داری لی ہے، تو اسے نبھانا میرا فرض ہے۔ اس نے کہا کہ جو انبیاء کی راہ پر چلنا چاہتا ہے، اسے چھوٹے کام ضرور کرنے چاہئیں۔ حضرت موسٰیؑ نے بھی بکریاں چرائیں، اس لیے ہم یہودی بھی چھوٹے کاموں کو عزت دیتے ہیں۔

اس نے میرے نبی ﷺ کی مثال دی، کہ وہ خود جوتے گانٹھتے، کپڑے دھوتے، اور راستے صاف کرتے تھے۔ پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ تم یہ سب کرتے ہو؟ میں نے کہا نہیں، مجھے تو سکھایا ہی نہیں گیا۔

اس نے مجھے سکھایا کہ اگر تم استاد ہو، تو چھوٹے کاموں سے شروعات کرو۔ اور جب لوگوں سے خطاب کرو، تو اپنی بات ان شرمیلے لوگوں کے لیے کہو جو پیچھے بیٹھتے ہیں، کیونکہ جب بات چھوٹوں تک پہنچتی ہے تو بڑوں تک خود ہی پہنچ جاتی ہے۔

یہ وہ باتیں تھیں جو میرے دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئیں۔

Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam