محمد ﷺ: وہ نام جس سے کائنات جگمگائی
محمدﷺ: اعداد ۹۲۰۰۰، عدد واحد ٢٠٠٠٠٠٠۔ محمد عربی زبان کا لفظ ہے۔۔
لفظ ’محمد‘ کا مادہ "ح۔م۔د" ہے، جس کے معنی "تعریف" کے ہیں۔ یہی مادہ "احمد" میں بھی آتا ہے۔ لیکن دونوں الفاظ کے مفہوم میں فرق یہ ہے:
• "محمد صلی اللہ علیہ وسلم" وہ ذات ہیں جن کی تعریف زمین و آسمان والوں نے سب سے زیادہ کی ہے۔
• "احمد" وہ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ تعریف کی ہے۔
حضور ﷺ
کی ولادت باسعادت کے ساتویں دن آپ کے دادا جناب عبدالمطلب نے بچے کی خوشی میں حسب دستور اشراف کی ایک تقریب اور دعوت کا اہتمام کیا۔ اس ضیافت میں قریش سرداروں اور مکہ کے معززین کو مدعو کیا گیا تھا۔ قریبی رشتے دار بھی مدعو تھے۔ سب نے اس بچے کو دیکھ کر بے حد خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔ ولادت کے وقت بچے کا نام قطان پکارا گیا تھا۔ اس لفظ قطان کے دو مشہور معنی دروازہ کی بلی کی لکڑی، شکنجہ یا ہو وہ کی لکڑی اور روئی طرح کی نرم و نازک کے بھی ہوتے ہیں۔ لیکن بعد میں دادا عبدالمطلب نے محمد نام رکھا۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام مہمان یہ نام سن کر حیران رہ گئے۔ عربوں میں یہ نام نیا نہیں تھا لیکن نادر ضرور تھا۔ عربوں کی عام روایت اور ریت کے مطابق خاندانی انداز میں نام نہ رکھنے پر ایک شخص نے اس جانب توجہ بھی مبذول کرائی۔ لیکن جناب عبدالمطلب نے جواباً کہا: "جس عظیم خدا نے اسے پیدا کیا ہے، وہی اسے آسمانوں پر عظمت بخشے گا۔"
جناب عبدالمطلب ایک جہاندیدہ بزرگ تھے۔ انہوں نے شاید اپنی وجدانی بصیرت کے حوالے سے اور حالات و واقعات کے پیش نظر یہ محسوس کر لیا تھا کہ کل کو یہی محمد رسول رحمت بن کر مکرم ہو جائیں گے۔ ان کی مستقبل بینی اور عقل داری کا ذکر ولادت نبوی ہی کے قریب اصحاب فیل کے حوالے سے ملتا ہے۔ یمن کے عیسائی نائب السلطنت ابرہہ نے خانہ کعبہ پر حملہ کر دیا تھا۔ اور اسے منہدم کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ تاریخی طور پر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابرہہ نے عبدالمطلب کے کچھ اونٹ بھی پکڑ لیے تھے۔ جب عبدالمطلب نے ابرہہ سے اپنے اونٹ طلب کیے تو ابرہہ نے تعجب کیا کہ تم خانہ کعبہ کے متعلق کوئی درخواست نہیں کرتے جسے میں تباہ کرنا چاہتا ہوں۔ تو اس پر عبدالمطلب نے جواب دیا: "میں اونٹوں کا مالک ہوں اور خانہ کعبہ کا رب ہے، جو اس کی حفاظت کرے گا۔" جب مکہ کو خالی کیا تو اس وقت کعبہ کے دروازے کی کنڈی کو پکڑ کر کہا تھا کہ "کوئی فکر کی بات نہیں، انسان اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے، سو تُو اپنے گھر کی حفاظت کر۔ ان کی صلیب اور ان کی طاقت تیری طاقت پر غالب نہیں آسکتی۔" چنانچہ قبل اس کے کہ ابرہہ خانہ کعبہ تک پہنچ سکے، اس کے لشکر میں تباہی پھیل گئی۔ وہ خود بھی بیمار ہو گیا اور سخت ناکامی کے بعد یمن واپس جا کر مر گیا۔ اس سارے واقعے کو قرآن مجید نے بھی سورۃ الفیل میں بیان کیا ہے۔ جناب عبدالمطلب نے اپنے پوتے کا جو نام محمد رکھا، وہ اپنی مثال آپ تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ولادت کے بعد چند دن تک بچے کی صحت کمزور رہی، جسے دیکھ کر وہم ہوتا تھا کہ شاید یہ بچہ بڑا ہو کر کوئی فخر و امتیاز حاصل نہ کر سکے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ آپ کی والدہ ماجدہ بی بی آمنہ آپ کے والد عبداللہ کی وفات کے بعد بہت کمزور ہو چکی تھیں، مغموم اور ناخوش رہتی تھیں۔ اس لیے ان کا دودھ بھی سوکھ چکا تھا۔ ماں کی صحت، مغموم حالت، اور شدید موسموں کا اس نوزائیدہ بچے پر بھی اثر ہوا۔ گویا بچے کی وہ ابتدائی حالت دیکھ کر لوگ اس نام محمد کو ایک بے جوڑ اور بے میل نام سمجھنے لگے تھے۔ لیکن جلد ہی عرب کے اشرافیہ کے رواج کے مطابق آپ کی بہتر پرورش اور دودھ پلانے کے لیے محترمہ حلیمہ سعدیہ کا انتظام کر دیا گیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام "محمد" اللہ تعالیٰ کے نام "محمود" سے نکلا ہے۔ حضرت حسان بن ثابتؓ کا شعر ہے:
ترجمہ: "اللہ نے اپنے نام سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بنایا۔ اللہ محمود ہے اور یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔"
الفاظ حروف کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی حرف نکال دیں تو مطلب بدل جاتا ہے۔ لیکن لفظ "محمد" کا ہر حرف اہم اور بامقصد ہے:
• اگر "محمد" سے پہلا حرف "م" نکال دیں، تو "حمد" رہ جاتا ہے، یعنی "تعریف" یا "مدد کرنے والا"۔
• اگر "م" اور "ح" دونوں نکال دیں تو "مد" بچتا ہے، جس کے معنی ہیں "بلند ہونا"، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو ظاہر کرتا ہے۔
• اگر دوسری "م" بھی نکال دیں تو صرف "د" رہ جاتا ہے، جس کا مطلب ہے "دلالت کرنا"، یعنی "محمد" اللہ کی وحدانیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
حضرت امام جعفر صادقؓ نے "محمد" کا مطلب اس طرح بیان کیا:
• "م"۔۔۔ امین و مامون
• "ح"۔۔۔ حبیب و محبوب
• "م"۔۔۔ میمون
• "د"۔۔۔ دین کی علامت
لہٰذا "محمد" کا خاص تعلق "حمد" سے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر اسماء جیسے احمد، حامد، محمود — سب میں "تعریف" کا پہلو نمایاں ہے۔ آپ کی امت کو "حمادون" یا "حمادین" کہا جاتا ہے۔ آپ کے جھنڈے کا نام "لواء الحمد" ہے۔ اللہ نے آپ کو "سورۃ الحمد" دی، اور امت کو ہر موقع پر حمد و ثناء کا حکم دیا۔
اسم "محمد" اور چار انبیائے کرام:
چار اہم انبیاء کے ناموں کے آخری حروف سے "محمد" بنتا ہے:
• حضرت آدمؑ ۔۔۔ "م"
• حضرت نوحؑ ۔۔۔ "ح"
• حضرت ابراہیمؑ ۔۔۔ "م"
• حضرت محمدؐ ۔۔۔ "د"
علماء و فقہاء کے نزدیک "محمد" کا مفہوم:
• حافظ ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ "محمد" وہ ہستی ہے جس میں بے شمار تعریف کی صفات ہوں۔ "محمد" "محمود" سے زیادہ جامع لفظ ہے۔
• امام راغب اصفہانیؒ کہتے ہیں: محمد وہ ہیں جن کی تعریف بار بار اور بہت زیادہ کی جائے۔
• علامہ نوویؒ نے لکھا کہ یہ نام الہامِ الٰہی سے رکھا گیا، اللہ نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو الہام فرمایا۔
• حافظ ابن سیدؒ فرماتے ہیں کہ اللہ نے دلوں پر مہر لگادی تھی تاکہ کوئی بھی یہ نام نہ رکھ سکے، اس لیے قریش نے عبدالمطلب سے پوچھا کہ یہ نام کیسا ہے؟ البتہ چند لوگوں نے بنی اسرائیل سے سُن کر یہ نام رکھا۔
• حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ہر مخلوق میں جاری ہے، جیسے زمین پر انسانوں، آسمان پر فرشتوں، اور ہواؤں میں پرندوں میں۔
شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ کہتے ہیں کہ:
"حقیقت محمدی" ہر عالم میں ظاہر ہوتی ہے۔ جیسے:
• عالم اجسام میں ظہور الگ ہے،
• عالم ارواح میں اس سے زیادہ،
• عالم معنی میں اس سے بھی زیادہ،
• اور عالمِ عرش میں سب سے اعلیٰ، کیونکہ وہاں شکل و کیفیت نہیں۔
• حضرت امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو کائنات کی کوئی چیز نہ بنتی۔ آپ کے نور سے چاند و سورج کو روشنی ملی۔
• قاضی عیاضؒ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں وہ خوبیاں جمع ہیں جن کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا۔ یہ خوبیاں اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہیں:
• نبوت، رسالت، محبت، وحی، شفاعت، معراج، لواء الحمد، وسیلہ، مقام محمود، دیدارِ الٰہی، براق، نیک امت، تمام انبیاء کی امامت، اللہ کا درود، معجزات، آسمانی و زمینی مخلوقات کی تعظیم، اور عقل سے ماورا کمالات۔
قرآن میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم:
• محمد رسول اللہ
(الفتح، 29)
ترجمہ: محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
• وَالَّذِیْنَ آمَنُوا...
(محمد، 2)
ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لائے اور جو کتاب محمد پر نازل ہوئی اس پر ایمان لائے، اللہ نے ان کے گناہ مٹا دیے اور ان کا حال سنوار دیا۔
• وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ
(القلم، 4)
ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے اعلیٰ درجے پر ہیں۔
حدیث مبارکہ:
• آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "زمین میں میرا نام محمد ہے اور آسمان میں احمد"۔
• حضرت ابوذرؓ سے روایت: سب سے پہلے نبی حضرت آدمؑ اور سب سے آخر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔
• حدیث قدسی: "اے محمد! اگر آپ نہ ہوتے تو میں کائنات کو پیدا نہ کرتا"۔
• روایت: حضرت آدمؑ کو "ابو محمد" کہہ کر بلایا گیا۔ آپ نے عرش پر نور محمدی دیکھا۔ پوچھا: "یہ نور کس کا ہے؟" جواب ملا: "یہ محمد کا نور ہے، اگر یہ نہ ہوتے تو تم بھی نہ ہوتے"۔
•
اسم "محمد" اپنی تاثیر میں بھی بے حد برکت والا ہے۔ اس اسم مبارک کا ورد کرنے سے روحانی سکون، گناہوں سے نجات، دنیا و آخرت کی کامیابی، اور قلبی لذت نصیب ہوتی ہے۔ یہ اسم انسان کو حمد و ثنا کا خوگر بناتا ہے، عبادت میں لذت عطا کرتا ہے، اور بندے کو اللہ کی بارگاہ کے قریب لے جاتا ہے۔ روزانہ 96 مرتبہ "محمد" کا ورد کرنے سے انسان کی مشکلات آسان ہو جاتی ہیں اور زندگی میں آسانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسم "محمد" حقیقت میں ایک نسخہ کیمیا ہے، جو بندے کو دنیا و آخرت کی بھلائیوں سے مالا مال کر دیتا ہے۔
Comments
Post a Comment