جب جھوٹ نے سچ کو دھوکہ دیا

 جب جھوٹ نے سچ کو دھوکہ دیا

ایک دن جھوٹ نے سچ سے کہا:

"چلو، ایک ساتھ نہاتے ہیں۔ دیکھو، کنویں کا پانی کتنا صاف اور ٹھنڈا ہے۔"

سچ نے پہلے شک کیا، پھر پانی کو ہاتھ لگا کر دیکھا۔ واقعی پانی صاف اور ٹھنڈا تھا۔

سچ نے سوچا: "چلو، کبھی کبھی کسی پر بھروسا بھی کرنا چاہیے۔"

دونوں نے کپڑے اتارے اور کنویں میں نہانے لگے۔

سچ مزے سے نہا رہا تھا، مگر جھوٹ کی نیت خراب تھی۔

وہ چپکے سے باہر نکلا، سچ کے کپڑے پہنے، اور دنیا کی طرف نکل گیا۔

جب سچ نہا کر باہر آیا، تو اس کے کپڑے غائب تھے۔

وہ حیران، شرمندہ اور ننگا کھڑا رہ گیا۔

سچ نے ہمت کی اور ننگا ہی لوگوں کے سامنے گیا،

مگر لوگ غصے سے، نفرت سے اور شرم سے اسے دیکھنے لگے۔

کسی نے سچ کو نہیں پہچانا، سب نے صرف اس کی برہنگی دیکھی۔

سچ کو سمجھ آیا:

دنیا جھوٹ کو سچ کے کپڑوں میں آسانی سے مان لیتی ہے،

مگر ننگے سچ کو برداشت نہیں کر سکتی۔

مایوس ہو کر، سچ واپس کنویں کی طرف چلا گیا

اور چھپ گیا — ہمیشہ کے لیے۔

آج بھی دنیا جھوٹ کو گلے لگا لیتی ہے،

اور جب کبھی سچ سامنے آتا ہے،

تو اسے چھپا دیا جاتا ہے یا ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

لیکن یاد رکھو:

سچ چھپ سکتا ہے، مگر ختم نہیں ہو سکتا۔

ایک دن وہ ضرور واپس آئے گا —

صاف، سچا، نڈر اور ایسا کہ کوئی انکار نہ کر سکے۔

۔


Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam