خوشی نعمتوں کی قدر میں چھپی ہے
ایک گاؤں میں ایک تاجر رہتا تھا، جس کا نام رحیم تھا۔ اس کے پاس بہت ساری دولت تھی، بڑا سا گھر تھا، شہرت بھی تھی، لیکن پھر بھی وہ خوش نہیں تھا۔ ہر رات سونے سے پہلے وہ یہی سوچتا، "میں خوش کیوں نہیں ہوں؟"
ایک دن اسے پتا چلا کہ جنگل میں ایک بزرگ درویش رہتے ہیں، جو ہر سوال کا جواب دے سکتے ہیں۔ رحیم نے سوچا، شاید وہ میری مدد کر سکیں۔ وہ اپنے سوال کے ساتھ ان کے پاس چلا گیا۔
جب وہ درویش کے پاس پہنچا، تو درویش ایک بڑے درخت کے نیچے بیٹھے اللہ کا ذکر کر رہے تھے۔ رحیم نے ادب سے کہا، "حضور! میرے پاس سب کچھ ہے، پھر بھی میں خوش نہیں ہوں، کیوں؟"
درویش نے اس سے پوچھا، "تمہارے پاس سب سے قیمتی چیز کیا ہے؟"
رحیم نے فخر سے جواب دیا، "میرے پاس ایک نیلا ہیرا ہے، جو میری تین نسلوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔"
درویش نے پوچھا، "کہاں ہے وہ ہیرا؟"
رحیم نے اپنی ٹوپی اتاری، اس کا اندر پھاڑا اور ہیرا نکال کر دکھایا۔ ہیرا بہت خوبصورت اور چمکدار تھا۔
اچانک درویش نے ہیرا اٹھایا اور جنگل کی طرف دوڑ گئے!
رحیم حیران اور پریشان ہو گیا۔ وہ چلاتا ہوا ان کے پیچھے بھاگا، "میرا ہیرا واپس کرو!"
کانٹوں سے اس کے پاؤں زخمی ہو گئے، پسینہ بہہ رہا تھا، مگر وہ بھاگتا رہا۔
آخرکار درویش ایک درخت پر چڑھ گئے۔ رحیم نیچے کھڑا سانس سانس میں تھا۔ وہ کبھی رو رہا تھا، کبھی التجا کر رہا تھا۔
تب درویش نے کہا، "میں تمہارا ہیرا واپس کروں گا، اگر تم مان لو کہ یہ ہیرا ہی تمہاری سب کچھ ہے۔"
رحیم نے فوراً کہا، "ہاں، ہاں! یہ ہیرا ہی میرا سب کچھ ہے!"
درویش نے ہیرا نیچے پھینک دیا۔ رحیم نے اسے فوراً اٹھایا، چوما، اور خوشی سے جھوم اٹھا۔
درویش نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا:
"بیٹا، خوشی اس وقت آتی ہے جب ہم کھوئی ہوئی نعمت کو دوبارہ پا لیں۔"
پھر انہوں نے سمجھایا:
"زندگی کی چھوٹی چھوٹی نعمتیں جیسے صحت، سکون، پیار… یہ ہمارے پاس ہوتی ہیں، مگر ہم ان کی قدر نہیں کرتے۔ جب یہ چھن جاتی ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یہ کتنی قیمتی تھیں۔"
"خوشی اس میں نہیں کہ تمہارے پاس کیا ہے، بلکہ خوشی اس میں ہے کہ تم جو کچھ رکھتے ہو، اس کی قدر کرتے ہو۔"
رحیم اب بدل چکا تھا۔ وہ گاؤں واپس آیا، مگر اب اس کے دل میں سکون اور آنکھوں میں روشنی تھی۔ اسے سمجھ آ گیا تھا کہ خوشی دِل میں ہوتی ہے، نعمتوں کی قدر میں ہوتی ہے۔
Comments
Post a Comment