حضرت عمرؓ اور حضرت امام حسینؓ کا محبت بھرا واقعہ

 حضرت عمرؓ جمعہ پڑھا رہے تھے کہ اسی دوران حضرت امام حسینؓ مسجد میں آ گئے۔ حضرت عمرؓ بڑے جلال والے اور صاف گو انسان تھے۔ ایک بار حجرِ اسود کے سامنے کھڑے ہو کر کہنے لگے:

"میں کوئی لکیر کا فقیر نہیں کہ تیرے چکر لگاتا رہوں، میں نے تو کبھی تجھے پلٹ کر دیکھا بھی نہیں، میں تو تجھے صرف اس لیے چومتا ہوں کہ میرے نبی ﷺ نے تجھے چُوما تھا۔"

جب حضرت امام حسینؓ مسجد میں داخل ہوئے تو سیدھے ممبر کی طرف چل پڑے جہاں حضرت عمرؓ خطبہ دے رہے تھے۔ حضرت علیؓ نے امام حسینؓ کو پیچھے سے روک لیا اور کہا:

"کہاں جا رہے ہو؟"

تو حضرت عمرؓ نے کہا:

"علیؓ، اُسے آنے دو، یہ میرے اور حسینؓ کے درمیان معاملہ ہے۔"

حضرت امام حسینؓ حضرت عمرؓ کے سامنے آ کر کہنے لگے:

"نیچے اترو! یہ میرے نانا کا ممبر ہے۔"

حضرت علیؓ نے پھر سے امام حسینؓ کو روکا اور کہا:

"یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟"

تو حضرت عمرؓ نے فرمایا:

"علیؓ، وہ تم سے بات نہیں کر رہا، مجھ سے کر رہا ہے، اُسے بات کرنے دو۔"

یہ سن کر حضرت عمرؓ فوراً ممبر سے نیچے اتر آئے اور نیچے کھڑے ہو گئے۔

حضرت امام حسینؓ نے محبت بھرے لہجے میں کہا:

"جاؤ، جا کر اپنے نانا کے ممبر پر بیٹھو۔"

حضرت عمرؓ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ رو پڑے اور کہا:

"حسینؓ، میرے نانا کا کہاں ممبر؟ میں تو اونٹ چرانے والے کا بیٹا ہوں۔ میرے نانا کا کوئی ممبر نہیں۔"

حضرت امام حسینؓ بڑی معصومیت سے مسکرا کر بولے:

"اچھا، اگر آپ کے نانا کا کوئی ممبر نہیں، تو پھر میرے نانا کے ممبر پر آپ بیٹھ جائیں۔"

حضرت عمرؓ دوبارہ ممبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا:

"لوگو! سنو، میں اپنی مرضی سے اس ممبر پر نہیں آیا تھا، مجھے حضرت ابوبکرؓ نے بٹھایا تھا۔

پھر مجھے حسینؓ نے نیچے اُتارا، اور اب دوبارہ حسینؓ نے ہی مجھے اس پر بٹھایا ہے۔

اب اگر کسی میں جرات ہے تو مجھے اتار کر دکھائے۔"

حوالہ:

سیر اعلام النبلاء

الاصابہ فی تمییز الصحابہ

Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam