اللہ پر یقین – ہر مشکل کا حل

اللہ پر یقین – ہر مشکل کا حل

اللہ تعالیٰ نے حدیثِ قدسی میں فرمایا ہے

"میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں، جیسا وہ میرے بارے میں گمان کرے گا، ویسا ہی پائے گا۔"

ہم یہ حدیث پڑھتے تو ہیں، لیکن اس کو دل سے سمجھتے نہیں۔

کیا تم جانتے ہو کہ:

جب حضرت موسیٰؑ کے پیچھے فرعون کی فوج تھی، تب اللہ نے سمندر کو دو حصوں میں کیوں بانٹ دیا؟

جب حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں ڈالا گیا، تب آگ ٹھنڈی کیوں ہو گئی؟

جب حضرت یوسفؑ کو کنویں میں پھینکا گیا، اللہ نے ان کا خیال کیوں رکھا؟

حضرت ہاجرہؑ صحرا میں تھیں، اللہ نے زم زم کا چشمہ کیوں دیا؟

حضرت یونسؑ مچھلی کے پیٹ میں تھے، پھر بھی محفوظ کیوں رہے؟

حضرت زکریاؑ کو بڑھاپے میں اولاد کیوں ملی؟

ان سب میں ایک چیز مشترک تھی: یقین

انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔

انہوں نے یقین رکھا کہ اللہ راستہ نکالے گا۔

اور واقعی، اللہ نے ان کے لیے راستہ بنا دیا۔

اللہ پر یقین رکھنے والوں کو وہ کبھی مایوس نہیں کرتا۔

توکل یہ ہے کہ راستہ نظر نہ آئے، لیکن تم پھر بھی کہو کہ

"اللہ راستہ بنانے والا ہے"

اور جب تم اللہ سے اچھا گمان رکھو گے، تو وہ تمہیں ہمیشہ اچھا ہی دے گا۔اور پھر تم دیکھو گے کہ اللہ وہاں سے راستے نکالے گا، جہاں تم نے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔۔



Comments