ٹوٹے ہوئے مٹکے کا انمول سبق
ایک بوڑھی عورت کے پاس پانی کے دو مٹکے تھے۔ وہ روزانہ ان مٹکوں کو ایک لکڑی پر باندھ کر اپنے کندھے پر رکھتی اور نہر سے پانی بھر کر گھر لاتی۔ ان میں سے ایک مٹکا بالکل ٹھیک تھا، لیکن دوسرا مٹکا تھوڑا سا ٹوٹا ہوا تھا۔ جب بھی وہ عورت پانی بھر کر واپس آتی، تو ٹوٹے ہوئے مٹکے کا آدھا پانی راستے میں ہی بہہ جاتا، جبکہ دوسرا مٹکا مکمل پانی لے کر آتا۔
ٹھیک مٹکا تو اپنی کارکردگی پر خوش تھا، لیکن ٹوٹا ہوا مٹکا خود کو ناکام اور بےکار سمجھتا تھا۔ وہ کئی دنوں سے دکھی تھا کہ وہ اپنا کام پورا نہیں کر پاتا۔
ایک دن اس نے عورت سے کہا: "مجھے افسوس ہے کہ میرا آدھا پانی راستے میں گر جاتا ہے، تم اتنی محنت سے پانی بھرتی ہو، اور میں تمہیں پورا فائدہ نہیں دے پاتا۔"
عورت یہ سن کر مسکرائی اور بولی: "کیا تم نے غور نہیں کیا کہ جس طرف سے میں تمہیں لاتی ہوں، وہاں راستے کے کنارے خوبصورت پھول کھلے ہوتے ہیں؟ یہ پھول تمہارے گرتے ہوئے پانی کی وجہ سے اگے ہیں۔ میں نے وہاں بیج بوئے تھے تاکہ تمہارا گرنے والا پانی ان کو سیراب کرے۔ ان پھولوں سے میں نے گلدستے بنائے اور اپنا گھر سجایا۔ اگر تم نہ ہوتے تو یہ خوبصورتی نہ ہوتی۔"
اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خامی ہوتی ہے، لیکن وہ خامیاں بھی دوسروں کے لیے فائدہ مند بن سکتی ہیں۔ ہمیں دوسروں کو ان کی کمزوریوں کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔ ہر کوئی اپنی جگہ پر خاص ہے، چاہے وہ مکمل ہو یا تھوڑا سا "ٹوٹا ہوا"۔
ہمیں چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کی خوبیوں کو سراہیں اور خامیوں پر صبر کریں۔ معاف کرنا، برداشت کرنا، اور ایک دوسرے کے ساتھ نرمی سے پیش آنا انسانیت کی خوبصورتی ہے۔
اکڑنا شیطان کی عادت ہے، اور عاجزی آدم علیہ السلام کی سنت۔
Comments
Post a Comment