کیا زندگی ایک معجزہ ہے یا ایک معمول؟ فیصلہ آپ کا ہے

زندگی گزارنے کے دو طریقے ہیں، اور دونوں طریقے ہمارے سوچنے، محسوس کرنے اور دنیا کو دیکھنے کا انداز بدل دیتے ہیں۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ ہم مان لیں کہ دنیا میں کوئی معجزہ نہیں ہوتا۔ ہر چیز اپنے ایک اصول کے تحت چلتی ہے، سب کچھ ایک وجہ سے ہوتا ہے۔ ایسے لوگ طلوع آفتاب کو صرف ایک عام سا فلکیاتی عمل سمجھتے ہیں، کسی کی مسکراہٹ کو صرف چہرے کی حرکت مانتے ہیں، اور بچے کی پیدائش کو صرف ایک حیاتیاتی (بایولوجی) عمل کہتے ہیں۔ یعنی ان کے لیے دنیا ایک سادہ، خشک حقیقت ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہم ہر چیز کو ایک معجزہ سمجھیں۔ یہ سوچ انسان کے دل کو بڑا کر دیتی ہے، آنکھوں میں خوشی بھر دیتی ہے اور روح کو شکر گزار بنا دیتی ہے۔ ایسے لوگ بارش کو، پرندے کے گانے کو، ماں کی دعا کو، اور کسی اجنبی کی مسکراہٹ کو بھی ایک خاص نعمت سمجھتے ہیں۔ معجزہ صرف بڑا کوئی عجیب واقعہ نہیں ہوتا — بلکہ وہ چھوٹے چھوٹے کام بھی معجزہ ہیں جو روز ہمارے ساتھ ہوتے ہیں: دل کا دھڑکنا، سانس لینا، خواب دیکھنا، محبت کرنا۔ اکثر ہم ان نعمتوں کو معمولی سمجھ کر بھول جاتے ہیں، حالانکہ یہ بھی اللہ کی طرف سے چھوٹے چھوٹے کرشمے ہیں۔ لہٰذا، زندگی ہمیں دو راستے دیتی ہے: ایک ایسا راستہ جس میں سب کچھ بے رنگ اور سوکھا لگتا ہے، اور دوسرا ایسا راستہ جس میں ہر چیز خوبصورت اور قیمتی محسوس ہوتی ہے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے: کیا ہم زندگی کو صرف "اتفاق" سمجھ کر گزار دیں؟ یا ہر لمحے کو اللہ کا دیا ہوا ایک "معجزہ" سمجھ کر جئیں؟ کیونکہ اکثر زندگی بدلنے کے لیے صرف نظر کا زاویہ بدلنا کافی ہوتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam