غوث الاعظمؒ: ولایت، علم اور معجزات کی روشن زندگی
غوث الاعظمؒ: ولایت، علم اور معجزات کی روشن زندگی
شیخ المشائخ اور شریعت کے امام، شیخ عبدالقادر محی الدین، محبوب سبحانی، غوث الاعظمؒ کا اصل نام ہے۔ آپ ایران کے علاقے جیلان کے ایک قصبے میں یکم رمضان 470ھ کو پیدا ہوئے۔ آپ کا نسب سید حسنی اور حسینی دونوں طرف سے ملتا ہے۔ آپ کی پیدائش کے وقت آپ کی والدہ ماجدہ کی عمر ساٹھ سال تھی، اور یہ پہلا کرشمہ تھا جو اللہ نے دنیا کو دکھایا کہ بڑھاپے میں بھی اولاد عطا ہو سکتی ہے۔
آپ کا قد درمیانہ تھا، رنگ گندمی، جسم نازک اور ہلکا، چہرہ روشن اور مسکراتا ہوا، داڑھی گھنی اور آواز میں خاص اثر تھا۔ آپ کے دل میں بہت خشوع، خضوع اور درد تھا۔ آپ پیدائشی ولی تھے۔ تمام کتبِ تذکرہ میں لکھا ہے کہ جب آپ شیرخوار تھے اور رمضان کا مہینہ آیا تو دن میں دودھ پینا چھوڑ دیا۔ آپ کی والدہ، جن کا نام "فاطمہ بنت شیخ عبداللہ صومعی" تھا اور کنیت "ام الخیر" تھی، خود ایک نیک اور اللہ والی خاتون تھیں۔ آپ کے والد، شیخ عبداللہ صومعی، بھی اپنے وقت کے بڑے اللہ والے تھے۔
گھر میں گزارے کے لیے کوئی خاص سامان نہیں تھا۔ والدہ سوت کات کر بیچتیں، اسی سے گزارہ ہوتا۔ کئی بار ایسا ہوتا کہ سوت بکتا نہیں تھا اور فاقہ ہو جاتا۔ ان دنوں والدہ کہتیں، "بابا نظام! آج ہم اللہ کے مہمان ہیں۔" یہ سن کر آپ خوش ہو جاتے اور بھوک کی شکایت نہ کرتے بلکہ دل چاہتا کہ پھر ایسا ہو تاکہ والدہ کی یہ پیاری بات سن سکیں۔ خود آپ فرماتے تھے کہ کئی دن لگاتار روٹی ملتی تو دل میں افسوس ہوتا کہ کاش فاقہ ہو اور میں اللہ کی مہمانی کا ذکر سنوں۔
جب آپ کی عمر اٹھارہ سال ہوئی تو علم حاصل کرنے کے لیے والدہ کی اجازت سے بغداد روانہ ہوئے اور 488ھ میں وہاں پہنچ کر تعلیم کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے قرآن پاک حفظ کیا، پھر فقہ، حدیث اور دوسرے دینی علوم میں مہارت حاصل کی۔ آپ بہت جلد اپنے ساتھیوں میں نمایاں ہو گئے۔
512ھ میں ایک خاص روحانی واقعہ پیش آیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے خواب میں آپ کو لعاب دہن عطا فرمایا، جس کے بعد آپ نے منبر رسولؐ پر وعظ و تبلیغ شروع کر دی۔
آپ ہر علم پر کمال گفتگو کرتے اور فرماتے:
> "اے زمین و آسمان کے لوگو! آؤ میری بات دھیان سے سنو، میں زمین پر نبی اکرمؐ کا وارث ہوں۔ میری مجلس وہ جگہ ہے جہاں اللہ کی خاص نعمتیں تقسیم ہوتی ہیں۔"
آپ کی مجلس میں ستر ہزار افراد شریک ہوتے، اور چار سو لوگ آپ کا کلام لکھتے۔ بعض اوقات مجلس کے اختتام پر شدتِ جذبات میں کچھ افراد بے ہوش ہو کر جان دے دیتے۔
شیخ ابوسعید قیلوی فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کی مجلس میں انبیاءؑ، جنات اور فرشتوں کو صفیں باندھے دیکھا۔
ایک واقعہ یہ ہے کہ جب آپ اپنی والدہ کے شکم میں تھے تو ایک دن وہ باغ میں گئیں۔ وہاں ایک سیب توڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، لیکن ہاتھ نہ پہنچا۔ جب چوکی منگوا کر چڑھنے لگیں تو دردِ جگر سے گر پڑیں۔ تب ایک کالا سانپ درخت سے گرا۔ بعد میں حضرت عبدالقادر جیلانیؒ نے فرمایا کہ ماں! جب آپ سیب توڑنے لگی تھیں تو میں نے آپ کے جگر میں ناخن مارا تھا، جس کی سزا آج میں نے پائی۔
ایک بار ایک پاکدامن عورت جنگل میں گئی۔ ایک بدکار شخص نے اس پر حملہ کرنا چاہا۔ اس عورت نے غوث الاعظمؒ کی طرف دل سے فریاد کی۔ اس وقت آپ وضو کر رہے تھے۔ آپ نے اپنے کھڑاؤں (چپلیں) کو اشارہ کیا، وہ اڑ کر اس عورت کی مدد کو پہنچیں، بدکار شخص کے سر پر پڑنے لگیں یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو گیا۔ وہ عورت آپ کی خدمت میں آپ کے کھڑاؤں لے کر آئی اور حفاظت پانے پر شکر گزار ہوئی۔
بغداد کے ایک خلیفہ نے آپ کو دس تھیلیاں اشرفیوں کی پیش کیں۔ آپ نے لینے سے انکار کیا۔ جب بہت اصرار ہوا تو آپ نے دو تھیلیاں پکڑ کر دبائیں تو ان سے خون ٹپکنے لگا۔ آپ نے فرمایا:
> "اے ابوالمظفر! تجھے شرم نہیں آتی کہ مخلوق کا خون چوستے ہو؟"
ایک اور مشہور واقعہ یہ ہے کہ جب آپ بغداد روانہ ہو رہے تھے تو والدہ ماجدہ نے چالیس اشرفیاں صدری میں سی کر دیں اور نصیحت کی کہ سچ بولنا۔ راستے میں ڈاکوؤں نے قافلہ لوٹ لیا۔ جب آپ سے پوچھا گیا کہ تمہارے پاس کچھ ہے؟ آپ نے صاف بتا دیا۔ ڈاکو حیران ہوا اور اپنے سردار کے پاس لے گیا۔ سردار نے پوچھا تو آپ نے پھر سچ بتایا۔ سردار رونے لگا اور کہا کہ یہ لڑکا اپنی ماں کا اتنا فرمانبردار ہے اور میں اللہ کا نافرمان ہوں۔ اس نے آپ کے ہاتھ پر توبہ کی اور سارا مال واپس کر دیا۔ باقی ڈاکو بھی توبہ کر کے نیک بن گئے۔ یہ آپ کے ہاتھ پر پہلی توبہ تھی۔
آپ فرمایا کرتے تھے کہ:
> "جس پیر میں یہ پانچ اوصاف نہ ہوں، وہ دجال ہے:
1. ظاہری شریعت کا علم،
2. باطنی حقیقت کی معرفت،
3. محبت سے ملنا جلنا،
4. غربا سے عاجزی کرنا،
5. دل کا صاف اور ریا و حسد سے پاک ہونا۔"
آپ مزید فرماتے تھے:
> "جو بادشاہوں کے ساتھ بیٹھتا ہے، دل سخت ہو جاتا ہے۔
جو لڑکوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے، ہنسی مذاق کا عادی ہو جاتا ہے۔
جو عورتوں میں زیادہ وقت گزارتا ہے، اس میں شہوت بڑھ جاتی ہے۔
جو فاسقوں میں بیٹھتا ہے، گناہوں پر دلیر ہو جاتا ہے۔
اور جو عالموں اور نیک لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے، وہ علم اور نیکی حاصل کرتا ہے۔"
Comments
Post a Comment