کیا بڑا جنازہ حق پر ہونے کی دلیل ہے؟

کیا بڑا جنازہ حق پر ہونے کی دلیل ہے؟ آپ نے کئی بار سنا ہوگا کہ جب کوئی مشہور مذہبی شخصیت فوت ہو جاتی ہے، اور اس کے جنازے میں ہزاروں لوگ شریک ہوتے ہیں تو اس کے ماننے والے کہتے ہیں: "دیکھا! ہمارے جنازے ہی ہماری سچائی کی دلیل ہیں!" آج ہم اس بات کو آسان انداز میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں: 1. اس بات کی اصل کیا ہے؟ 2. بڑا جنازہ کس کو کہتے ہیں؟ 3. اس کا صحیح مطلب کیا ہے؟ جب امام احمد بن حنبلؒ کا زمانہ تھا، اُس وقت "خلقِ قرآن" (قرآن کو مخلوق ماننے) کا مسئلہ چل رہا تھا۔ امام احمدؒ اکیلے تھے جو اس بات کے خلاف تھے، جبکہ کئی بڑے علما، جو بادشاہ کے ساتھ تھے، اس غلط عقیدے کے حامی تھے۔ تب امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا: "بدعتي لوگوں سے کہو: ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ ہمارے جنازے کریں گے جب وہ گزر رہے ہوں گے۔" پھر جب امام احمد بن حنبلؒ کا انتقال ہوا، تو ان کے جنازے میں سات لاکھ سے زائد لوگ شریک ہوئے۔ اور جو علما دربار کے ساتھ تھے، اُن کے جنازے میں بہت کم لوگ تھے۔ - بڑا جنازہ کس کو کہتے ہیں؟ بڑے جنازے کا مطلب صرف عوام کی بڑی تعداد نہیں۔ اس سے مراد دیندار علما اور نیک لوگوں کی شرکت ہے۔ کیونکہ ایک اصول ہے: "جاہلوں کی کثرت کا اعتبار نہیں ہوتا۔" لہٰذا اگر جنازے میں صرف عام لوگ ہوں، دین سے دور ہوں، تو یہ کوئی دلیل نہیں کہ وہ مرنے والا حق پر تھا۔ --- آج کل کے جنازوں کا کیا حکم ہے؟ امام احمد بن حنبلؒ نے جو بات فرمائی، وہ ایک خاص وقت میں کہی گئی تھی۔ اس وقت نہ میڈیا تھا، نہ شہرت کے جدید ذرائع۔ امام احمدؒ تنہا تھے، اور سلطنت اُن کے خلاف تھی۔ پھر بھی لاکھوں لوگ ان کے جنازے میں شریک ہوئے۔ آج کے زمانے میں مشہور ہونا آسان ہے، چاہے کوئی دین پر عمل کرنے والا نہ ہو۔ سوشل میڈیا، ٹی وی اور ویڈیوز سے شہرت حاصل ہو جاتی ہے۔ آج جنازے میں بڑی تعداد ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ اکثر لوگ محض مشہوری یا رسم کے طور پر جنازے میں آ جاتے ہیں، چاہے وہ مرنے والے کی باتوں یا عقیدے سے واقف نہ ہوں۔ --- کیا چھوٹا جنازہ غلط ہونے کی دلیل ہے؟ ہرگز نہیں! تاریخ میں بہت سی بڑی اسلامی شخصیات ایسی گزری ہیں جن کے جنازے میں کم لوگ شریک ہوئے، کیونکہ حالات ایسے تھے۔ آج بھی کئی مجاہدین، جو دین کے لیے سب سے بڑی قربانیاں دیتے ہیں، ایسے وقت میں شہید ہوتے ہیں جب ان کے جنازے تک ممکن نہیں ہوتے۔ تو کیا وہ غلط تھے؟ نہیں! وہ اللہ کے نزدیک مقبول ہوتے ہیں۔ --- قول کا صحیح مطلب: اگر کوئی شخص: سچا مسلمان ہو، دین پر ہو، اس کی مخالفت زیادہ ہو، مشہوری کے ذرائع نہ ہوں، پھر بھی نیک لوگ اور علما اس کے جنازے میں آئیں، تو یہ اللہ کی طرف سے مقبولیت کی علامت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص بدعقیدہ ہو، اور اس کے جنازے میں لاکھوں جاہل اور دنیا دار لوگ ہوں، تو یہ اس کی سچائی کی دلیل نہیں ہو سکتی۔ ہمیں ہمیشہ کسی کی زندگی، عقیدہ اور عمل کو دیکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے، نہ کہ جنازے کے ہجوم سے۔ واللہ تعالیٰ اعلم جَـــزَاكَ اللّٰہُ خَــیْراً كَـــثِیْرَا وَ اَحْـــسَنَ الْـــجَزَاء فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةْ آمِــــــــــيْن يَــارَبَّ الْعَالَمِـــــــــيْنَ

Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam