تبلیغ اسلام کرنے والا بھیڑیا
تبلیغ اسلام کرنے والا بھیڑیا
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک چرواہا اپنی بکریاں چرا رہا تھا۔ اچانک ایک بھیڑیا آیا اور اس نے ایک بکری پکڑ لی۔ چرواہے نے دوڑ کر بھیڑئیے سے بکری چھین لی۔
بھیڑیا ایک ٹیلے پر جا کر بیٹھ گیا اور چرواہے سے بولا:
"اے چرواہے! اللہ تعالیٰ نے مجھے رزق دیا تھا مگر تم نے وہ مجھ سے چھین لیا۔"
چرواہا یہ سن کر حیران ہوا اور کہنے لگا:
"خدا کی قسم! میں نے آج تک ایسا عجیب واقعہ نہیں دیکھا کہ ایک بھیڑیا انسان کی طرح مجھ سے عربی زبان میں بات کرے۔"
بھیڑیا بولا:
"اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ تم یہاں بکریاں چرا رہے ہو اور اس عظیم نبی کی خدمت میں حاضر نہیں ہو رہے جو سب سے افضل نبی ہیں۔ اس وقت جنت کے دروازے کھلے ہیں اور جنت کے لوگ اس نبی کے ساتھیوں کے جہاد کو دیکھ رہے ہیں۔ تم اور وہ نبی صرف ایک وادی کے فاصلے پر ہو۔ کاش تم بھی وہاں جا کر اللہ کے لشکر کا سپاہی بن جاؤ۔"
چرواہے نے کہا:
"اگر میں چلا گیا تو میری بکریوں کی حفاظت کون کرے گا؟"
بھیڑیا بولا:
"جب تک تم واپس آؤ گے میں خود تمہاری بکریوں کی نگہبانی کروں گا۔"
چرواہے نے اپنی بکریاں بھیڑئیے کے سپرد کیں اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گیا۔
وہاں پہنچ کر اس نے دیکھا کہ واقعی صحابہ کرام جہاد میں مصروف ہیں۔ پھر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ سنایا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تم جاؤ، تم اپنی بکریاں صحیح سلامت پاؤ گے۔"
چرواہا واپس گیا تو دیکھا کہ بھیڑیا بکریوں کی حفاظت کر رہا ہے اور ایک بھی بکری کم نہیں ہوئی۔ خوش ہو کر اس نے ایک بکری ذبح کر کے بھیڑئیے کو دے دی، اور بھیڑیا وہ بکری کھا کر چلا گیا۔
(حوالہ: زرقانی جلد ۵، صفحہ ۱۳۵ تا ۱۳۶)
Comments
Post a Comment