ابلیس کی نسل، بلندی اور زوال کی داستان The Origin, Rise, and Fall of Iblis

ابلیس کی نسل جس جن سے شروع ہوئی، اس کا نام "طارانوس" تھا۔ یہ ابلیس سے 1,44,000 سال پہلے دنیا میں موجود تھا۔ اس کی نسل بہت تیزی سے بڑھی کیونکہ انہیں نہ موت آتی تھی اور نہ بیمار ہوتے تھے۔ چونکہ یہ آگ سے بنے تھے، اس لیے ان میں سرکشی بہت زیادہ تھی۔ ان کی نسل کو پہلی موت فرشتوں کے ذریعے ان کی پیدائش کے 36,000 سال بعد آئی۔ یہ پہلا موقع تھا جب دنیا میں موت آئی۔ اس سے پہلے موت کا وجود نہ تھا۔ بعد میں "چلپانیس" نامی ایک نیک جن کو ان کی قوم کی ہدایت کے لیے مقرر کیا گیا اور انہیں شاہ جنات بنایا گیا۔ پھر یہ ذمہ داری "ہاموس" کو دی گئی۔ ہاموس کے زمانے میں "چلیپا" اور "تبلیث" پیدا ہوئے، جو بہت بہادر جنات تھے۔ ان کی قوم نے چلیپا کو "شاشین" کا لقب دیا کیونکہ اس کا سر شیر جیسا تھا۔ ان دونوں کی بہادری کی وجہ سے قوم کو یقین ہو گیا کہ جب تک یہ دونوں موجود ہیں، انہیں کوئی ہرا نہیں سکتا۔ یہ جنات آسمانوں تک چلے گئے اور تیسرے آسمان پر شرارت کرنے لگے۔ تب اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتوں نے ان پر حملہ کیا اور انہیں عبرتناک شکست دی۔ اسی دوران ابلیس نے جب حضرت عزرائیل علیہ السلام کو دیکھا تو سجدے میں گر گیا۔ ابلیس شروع سے ہی نڈر اور ذہین تھا۔ اس میں باپ کی بہادری اور ماں کی مکاری موجود تھی۔ اس نے توبہ کی اور فرشتوں سے علم حاصل کرنا شروع کیا۔ علم اور ریاضت میں وہ اتنا آگے بڑھا کہ: پہلے آسمان پر "عابد" دوسرے پر "زاہد" تیسرے پر "بلال" چوتھے پر "والی" پانچویں پر "تقی" چھٹے پر "کبازان" کہلایا۔ ساتویں آسمان پر وہ نور میں ڈوبا رہتا تھا۔ وہ سب فرشتوں کا استاد بن چکا تھا۔ اس نے تقریباً 14,000 سال عرش کا طواف کیا۔ "عزازیل" کے نام سے مشہور ہوا اور تقریباً 30,000 سال فرشتوں کا استاد رہا۔ اس نے 20,000 سال درس و تدریس کی۔ فرشتوں کے ساتھ اس کا قیام 80,000 سال رہا۔ پھر ابلیس کو جنت میں داروغہ "رضوان" کی مدد کے لیے بھیجا گیا۔ جنت میں اس نے علم سے رضوان کو فائدہ پہنچایا۔ ابلیس کے پاس جنت کی چابیاں تھیں۔ 40,000 سال تک وہ خزانچی رہا۔ اسی مقام پر ابلیس نے بادشاہت کے خواب دیکھنا شروع کیے۔ وہ خود کو رب سمجھنے لگا، اور کئی فرشتوں سے ربوبیت کی بات کی، مگر رد کیے جانے پر خاموش ہو گیا۔ جب آدم علیہ السلام کی تخلیق شروع ہوئی، تو ابلیس خاموش رہا۔ لیکن جب اس نے سنا کہ آدم علیہ السلام اللہ کے نائب ہیں، تو اس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا۔ کہا کہ میری عبادات کا کیا؟ مجھ جتنی عبادت کسی نے کی؟ اس نے سجدہ نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: نکل جا، تو مردود ہے۔ ابلیس نے عبادات کا بدلہ مانگا، تو اللہ نے قیامت تک مہلت دی۔ ابلیس نے کہا کہ میں آدم کی اولاد کو گمراہ کروں گا۔ اللہ نے فرمایا: جو متقی ہوں گے، ان پر تیرا زور نہیں چلے گا۔ ابلیس کے پانچ خاص ساتھی ہیں: 1. ثبر – یہ مصیبت کے وقت لوگوں کو صبر چھوڑ کر ہائے ہائے کرنے، کپڑے پھاڑنے، منہ پیٹنے پر اکساتا ہے۔ 2. اعور – یہ بدی کو خوبصورت بنا کر لوگوں کو برائی پر آمادہ کرتا ہے۔ 3. مسوّط – جھوٹ اور افواہیں پھیلانے کا ماہر ہے۔ انسانوں کی شکل میں آتا ہے اور فساد برپا کرتا ہے۔ 4. داسم – گھروں میں داخل ہو کر افرادِ خانہ کی برائیاں دکھاتا ہے اور آپس میں نفرت ڈالتا ہے۔ 5. زکنیور – بازاروں کا حاکم ہے، وہاں بددیانتی، فحاشی، اور گناہوں کو فروغ دیتا ہے۔ ابلیس کا سجدہ نہ کرنے کی وجہ حسد اور تکبر تھی۔ اس نے کہا: میں آگ سے ہوں، یہ مٹی سے، تو کیوں اعلیٰ نہ ہوں؟ اس نے دل سے خود کو رب مان لیا۔ یہی شرک تھا۔ اسی وجہ سے وہ لعنتی اور رسوا ٹھہرا اور آدم کی اولاد کو گمراہ کرنے کے لیے آزاد چھوڑا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ کو ہماری عبادتوں اور ریاضتوں سے غرض نہیں، اصل چیز دل کی اطاعت اور عاجزی ہے۔ اسی پر تقویٰ اور پرہیزگاری کے درجے ملتے ہیں۔



The origin of Iblis' lineage begins with a jinn named "Taranus," who existed 144,000 years before Iblis. His offspring multiplied rapidly because they neither died nor got sick. Being a fiery creature, they were extremely rebellious. The first death in their kind occurred 36,000 years after creation when angels were sent to punish them for their rebellion. Thus, death began on Earth—before this, there was no death.

Later, a pious jinn named "Chilpanis" was appointed to guide them and became the King of Jinns. After him, "Hamus" took the responsibility. During Hamus’s era, two brave jinns, "Chalipa" and "Tebleeth," were born. Chalipa’s head resembled a lion’s, earning him the title "Shasheen." Their bravery made the jinn nation believe they were invincible as long as Shasheen and Tebleeth were among them.

The jinns reached the heavens and began mischief on the third heaven. By Allah’s command, angels attacked and defeated them terribly. At that moment, Iblis saw Azrael (Angel of Death) and fell into prostration.

Iblis was bold and intelligent from the beginning. He inherited bravery from his father and cunningness from his mother. He repented and joined the angels to seek knowledge. His worship and learning were so profound that:

On the first heaven, he was called "Abid"

Second: "Zahid"

Third: "Bilal"

Fourth: "Wali"

Fifth: "Taqi"

Sixth: "Kabazan"

On the seventh heaven, he lived in divine light. He became the teacher of all angels. He performed Tawaf of the Throne for 14,000 years. He was known as "Azazil" and remained a teacher to elite angels for 30,000 years. His preaching lasted for 20,000 years, and he lived with angels for 80,000 years.

He was ordered to assist "Ridwan," the keeper of Paradise. He shared his knowledge in Jannah and held the keys to Paradise for 40,000 years. In this exalted position, Iblis started dreaming of kingship and divinity. He even suggested his divinity to some angels, but when they denied, he remained silent. Allah, however, was aware.

Then came the creation of Adam (AS). Iblis watched silently as Adam was formed from various types of soil. When he learned that Adam was Allah’s vicegerent, he objected, claiming his own long history of worship. He refused to prostrate.

Allah said: "Get out, you are accursed." Iblis requested a reward for his worship, and Allah granted him reprieve until a known time. Iblis vowed to mislead Adam’s children. Allah replied: "You will not mislead My pious servants."

Iblis has five close aides:

1. Thabr – Influences people to wail, tear clothes, and slap themselves in times of hardship.
2. A’war – Beautifies evil and tempts people toward sin.
3. Muswatt – Spreads lies and rumors, appearing in human form to stir corruption.
4. Dasim – Enters homes, exposes flaws, and incites anger among family members.
5. Zakinur – Dominates markets, spreads dishonesty and immorality.

Iblis refused to bow due to jealousy and pride. He felt superior for being made of fire while Adam was made of clay. It wasn't just one refusal—it was rebellion and hidden shirk. Iblis believed himself to be a god. For this, he was cursed forever and set free to mislead mankind.

Allah does not value worship alone—He looks for sincerity, obedience, and humility. It is on this basis that piety and righteousness are measured.


صحیح بخاری باب الفتن و اشراط، صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ، سنن ابی داؤد،کتاب شرح سیوطی، تفسیر کبیر امام رازی، مستدرک حاکم، کتاب حکم، نہج البلاغہ سید رضی، شرح نہج البلاغہ ابن حدید، کتاب غرر الحکم ابن ہشام، کتاب توحید شیخ صدوق۔۔


Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam