آپریشن رائزنگ لائن_Israel Attacks Iran: A Dangerous Situation
13جون 2025 کی صبح اسرائیل نے ایران پر بڑا حملہ کیا۔ یہ حملہ صبح 3 بجے ہوا اور کئی گھنٹے جاری رہا۔ اسرائیل کی فوج نے اس کارروائی کو "آپریشن رائزنگ لائن" کا نام دیا۔ اس میں 200 سے زیادہ طیارے، ڈرون اور میزائل استعمال کیے گئے۔ ایران کے کئی شہروں جیسے نتنز، تہران، خرم آباد اور اصفہان میں نیوکلیئر پلانٹ، فوجی اڈے اور دوسرے حساس مقامات پر حملے کیے گئے۔
ایران نے فوراً اپنے دفاعی نظام کو متحرک کیا اور کچھ حد تک جواب دیا، لیکن نقصان ہو چکا تھا۔ کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں، اور نیوکلیئر پروگرام کے اہم سائنسدان اور فوجی افسر شہید ہو گئے۔ ان میں جنرل حسین سلامی، جنرل محمد باقری، سائنسدان فریدون عباسی داوانی اور محمد مهدی تهرانچی شامل ہیں۔ اس حملے سے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو وقتی نقصان پہنچا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار بنانے کے قریب ہے، جو اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح ایران کو بھی اپنی حفاظت کے لیے نیوکلیئر تحقیق کا حق نہیں ہے؟ دنیا کے کئی ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، جیسے امریکہ، روس، چین، بھارت، پاکستان اور خود اسرائیل۔ تو پھر ایران پر پابندیاں کیوں؟
ایران کا نیوکلیئر پروگرام خفیہ نہیں ہے بلکہ عالمی ایٹمی ادارہ (IAEA) کی نگرانی میں چل رہا ہے۔ اسرائیل جو خود دوسرے ملکوں پر کئی بار حملے کر چکا ہے، جیسے شام، لبنان، غزہ، یمن اور اب ایران — وہ دوسروں کو خطرہ کہنے کا حق کیسے رکھتا ہے؟
ایرانی قیادت نے اس حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کہا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔ ایرانی عوام بھی اس پر بہت غصے میں ہیں اور سوشل میڈیا پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ایران بھی اسرائیل کی نیوکلیئر تنصیبات پر حملہ کرے تو کیا وہ بھی اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا؟
امریکہ نے براہ راست حملے میں حصہ نہیں لیا لیکن اس حملے سے پہلے اپنے فوجی اور سفارت کار محفوظ مقامات پر منتقل کر دیے، جس سے لگتا ہے کہ امریکہ کو اس حملے کا پہلے سے علم تھا۔ دنیا بھر میں اس حملے پر شدید ردعمل آیا ہے۔ روس، چین اور ترکی نے اس کی مذمت کی ہے، جبکہ یورپی یونین نے دونوں ملکوں سے تحمل کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ نے ہنگامی اجلاس بھی بلایا ہے۔
اب خطرہ ہے کہ یہ معاملہ صرف اسی حملے تک محدود نہ رہے، بلکہ مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ ایران کی جوابی کارروائی، حزب اللہ اور دوسرے گروہوں کی شمولیت اس تنازع کو مزید خطرناک بنا سکتی ہے۔ دنیا کو چاہیے کہ انصاف پر مبنی فیصلے کرے اور طاقتور ملکوں کے
ظلم کو نظرانداز نہ کرے۔
Israel Attacks Iran: A Dangerous Situation
13 June 2025, Israel launched a major attack on Iran. The attack started at 3 AM and continued for several hours. Israel named this operation "Operation Rising Lion." More than 200 airplanes, drones, and missiles were used. Several Iranian cities, including Natanz, Tehran, Khorramabad, and Isfahan, were targeted. Nuclear plants, military bases, and other sensitive sites were hit.
Iran quickly activated its defense system and responded to some extent, but the damage was already done. Many buildings were destroyed, and important nuclear scientists and military officers were killed. Among them were General Hossein Salami, General Mohammad Bagheri, scientists Fereydoon Abbasi-Davani and Mohammad Mahdi Tehranchi. Iran's nuclear program was temporarily harmed by this attack.
Israel said that Iran was getting close to making nuclear weapons, which could be a threat to Israel. But this raises a question: doesn’t Iran have the same right as other countries to do nuclear research for its own defense? Many countries like the USA, Russia, China, India, Pakistan, and even Israel itself have nuclear weapons. So why is Iran being stopped?
Iran's nuclear program is not secret; it is supervised by the International Atomic Energy Agency (IAEA), which monitors it regularly. Israel has attacked other countries many times, such as Syria, Lebanon, Gaza, Yemen, and now Iran. How can Israel claim it feels threatened when it attacks others?
Iran’s leaders called this attack a violation of international law. Iran’s Supreme Leader, Ayatollah Khamenei, promised a strong response. Iranian people are also very angry. Many are asking on social media: if Iran attacks Israel’s nuclear sites, would that also be called self-defense?
The USA did not directly take part in the attack, but it moved its soldiers and diplomats to safe places one day before, showing it knew about the attack in advance. The world reacted strongly to the attack. Russia, China, and Turkey condemned Israel’s actions, while the European Union asked both sides to remain calm. The United Nations also called for an emergency meeting.
Now, there is a danger that this attack may lead to a bigger war in the Middle East. Iran’s response, Hezbollah’s involvement, and other groups joining could make the situation much worse. The world needs to act fairly and not ignore the actions of powerful countries.
Comments
Post a Comment