حضرت دحیہ قلبیؓ کا توبہ کا دل دہلا دینے والا واقعہ

حضرت دحیہ قلبیؓ نہایت خوبصورت نوجوان تھے۔ عرب کی عورتیں ان کو دیکھنے کے لیے دروازوں کے پیچھے چھپ کر دیکھتی تھیں۔ اُس وقت وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ایک دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت دحیہ کو دیکھا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی: "یا اللہ! اسے ہدایت دے دے، اسے اسلام عطا فرما، اسے جہنم سے بچا لے۔" اگلے دن حضرت دحیہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام کے بارے میں پوچھا۔ آپؐ نے انہیں اللہ کی توحید اور اپنی رسالت کے بارے میں بتایا۔ حضرت دحیہؓ ایمان لانے لگے مگر وہ روتے ہوئے کہنے لگے: "یا رسول اللہ! مجھے ایک گناہ کی بہت فکر ہے۔ شاید اللہ مجھے معاف نہ کرے۔ میں اپنے قبیلے کا سردار تھا، اور وہاں بیٹیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا۔ میں نے ستر بیٹیوں کو زندہ دفن کیا ہے۔" اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا: "یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو ہو گیا وہ ہو گیا۔ اب وہ ایسا گناہ نہ کرے، ہم نے معاف کر دیا۔" حضرت دحیہؓ رونے لگے اور کہا: "یا رسول اللہ! ایک اور گناہ بھی ہے۔ ایک بار میں سفر پر گیا۔ بیوی سے کہا کہ اگر بیٹا پیدا ہو تو پال لینا، بیٹی ہو تو دفن کر دینا۔ جب میں واپس آیا تو ایک ننھی بچی نے دروازہ کھولا۔ میں نے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں اس گھر کے مالک کی بیٹی ہوں۔ میں نے کہا: میں ہی اس گھر کا مالک ہوں۔ بچی فوراً میرے گلے لگ گئی اور بولی: بابا آپ کہاں چلے گئے تھے؟ میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں۔" دحیہؓ فرماتے ہیں: "میری بیوی نے روتے ہوئے کہا: یہ تمہاری بیٹی ہے، اسے چھوڑ دو۔ مگر میں نے بیٹی کو لے لیا اور بیوی کو دھکا دے دیا۔ بیٹی راستے بھر سوال کرتی رہی: بابا! مجھے نانی کے گھر لے جا رہے ہو؟ کھلونے لینے جا رہے ہو؟ میں خاموش رہا۔ ایک جگہ قبر کھودی۔ بیٹی میرے پاس آ کر کہنے لگی: بابا! دھوپ میں کیوں محنت کر رہے ہو؟ چھاؤں میں آ جائیں۔ میں نے قبر کھود کر بیٹی کو دھکا دیا اور مٹی ڈالنے لگا۔ بیٹی روتے ہوئے کہتی رہی: بابا مجھے نہ مارو، میں نانی کے گھر نہیں جانا، مجھے زندہ رہنے دو۔ آخر میں اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا: اے اللہ! ایک نبی آئے گا جو بیٹیوں کو عزت دے گا۔ اسے جلدی بھیج۔" حضرت دحیہؓ واقعہ سناتے رہے اور روتے رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگے، یہاں تک کہ آپؐ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ آپؐ نے تین بار حضرت دحیہؓ سے واقعہ دوبارہ سنا اور صحابہ کرام بھی رونے لگے۔ اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام پھر حاضر ہوئے اور فرمایا: "اے اللہ کے رسولؐ! اللہ فرماتا ہے کہ جو کچھ اس نے کفر کے زمانے میں کیا، ہم نے سب معاف کر دیا۔" پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی، انہیں بڑا کیا، ان کے حقوق ادا کیے، قیامت کے دن وہ میرے ساتھ یوں ہوگا جیسے یہ دو انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں۔" بیٹیاں اللہ کی رحمت ہیں۔ ان کی پیدائش پر خوش ہوا کرو، اللہ ان سے والدین پر رحمت فرماتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam