حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔۔

حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ امامِ سوم اور ابوالائمہ کہلاتے ہیں۔ آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور لقب شہید و سید ہے۔ آپ کی ولادت شعبان 4 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کی مدتِ حمل صرف چھ مہینے تھی، اور حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے علاوہ کوئی بچہ چھ ماہ کے حمل کے بعد زندہ نہیں رہا۔آپ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت کے صرف پچاس دن بعد حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک میں جلوہ گر ہوئے۔ آپ کی ولادت کی خوشخبری سن کر رسول اللہ ﷺ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے۔ نبی کریم ﷺ نے آپ کے کانوں میں اذان دی، اپنا مبارک لعاب دہن آپ کے منہ میں ڈالا، دعا دی اور آپ کا نام "حسین" رکھا۔حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا حسن و جمال ایسا تھا کہ اندھیرے میں بھی آپ کے چہرے کی روشنی ہر طرف پھیل جاتی۔ آپ کا جسم مبارک رسول اللہ ﷺ سے بہت مشابہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ جو حسین سے محبت کرے گا، میں بھی اس سے محبت کروں گا کیونکہ حسین میرے بیٹوں میں سے ایک ہے۔"

روایت ہے کہ ایک دن حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کشتی لڑنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے امام حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "اے حسن! حسین کو پکڑ لو۔" یہ سن کر حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے عرض کی: "یا رسول اللہ ﷺ، آپ بڑے کو کہہ رہے ہیں کہ چھوٹے کو پکڑ لے؟" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بیٹی! جبرائیل علیہ السلام بھی حسین سے کہہ رہے ہیں کہ حسن کو پکڑ لو۔"

ایک اور روایت میں حضرت اُم الحارث رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: "یا رسول اللہ ﷺ، میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس سے میں ڈر گئی ہوں۔" رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: "کیا خواب دیکھا؟" حضرت اُم الحارث رضی اللہ عنہا نے کہا: "میں نے دیکھا کہ آپ کے جسم مبارک کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں رکھ دیا گیا ہے۔" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ میری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو تمہاری گود میں پرورش پائے گا۔" اس کے بعد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی۔روایت ہے کہ حضرت سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ گھر سے باہر تشریف لے گئے اور کافی دیر کے بعد واپس آئے۔ میں نے دیکھا کہ آپ کے سر مبارک کے بال غبار آلود ہیں۔ میں نے عرض کی: "یا رسول اللہ ﷺ، آج آپ کو پریشان دیکھ رہی ہوں، کیا بات ہے؟"

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "آج مجھے فرشتے ایک ایسی جگہ لے گئے جو عراق میں ہے اور جسے کربلا کہا جاتا ہے۔ یہ حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی جگہ ہے۔ وہاں میں نے اپنی اولاد کو دیکھا اور ان کے خون کو زمین سے اُٹھا لیا، جو میرے ہاتھ میں ہے۔"پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنی مٹھی کھولی اور فرمایا: "اسے لے لو اور حفاظت سے رکھو۔" میں نے دیکھا کہ وہ سرخ مٹی تھی۔ میں نے اسے ایک بوتل میں رکھ لیا اور اس کا ڈھکن اچھی طرح بند کر دیا۔جب حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے عراق کا سفر شروع کیا تو حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا روز اس شیشی میں رکھی ہوئی مٹی دیکھتی رہیں۔ عاشورا کے دن انہوں نے دیکھا کہ مٹی خون میں بدل چکی تھی۔ انہیں اندازہ ہوگیا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہو چکے ہیں۔ وہ بہت روئیں۔ بعد میں جب امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر آئی تو وہی دن اور وقت تھا۔ آپ کی شہادت 10 محرم الحرام 61 ہجری، بروز جمعہ ہوئی، اور اس وقت آپ کی عمر 57 سال تھی۔ایک اور روایت میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ تھے کہ اچانک امام حسین رضی اللہ عنہ وہاں آگئے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے پوچھا: "یہ کون ہیں؟" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "یہ میرا بیٹا ہے۔" پھر آپ ﷺ نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی گود میں بٹھا لیا۔حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی: "انہیں جلد ہی شہید کر دیا جائے گا۔" رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: "انہیں کون شہید کرے گا؟" حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا: "آپ کی امت۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں وہ مقام دکھا سکتا ہوں جہاں انہیں شہید کیا جائے گا۔"پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کربلا کی طرف اشارہ کیا اور وہاں کی سرخ مٹی اٹھا کر رسول اللہ ﷺ کو دی اور کہا: "یہ مٹی امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت گاہ کی مٹی ہے۔"حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم کوفہ کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں جہاں بھی قیام کرتے، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کا ذکر کرتے۔ ایک دن آپ نے فرمایا: "دنیا کی ذلت اور پستی کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے ظالموں نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے سر مبارک کو ایک عورت کی وجہ سے بطور تحفہ پیش کیا۔"حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو وحی کے ذریعے بتایا گیا کہ ہم نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کے بدلے میں ستر ہزار افراد کو ہلاک کیا، اور آپ کے بیٹے (حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ) کے قتل کے بدلے میں اس سے دو گنا لوگ ہلاک ہوں گے۔ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں بچا جو عذابِ الٰہی سے محفوظ رہا ہو۔ وہ سب قتل کیے گئے یا ذلت و رسوائی کا شکار ہوئے۔ایک معتبر شخص سے روایت ہے کہ جب عبید اللہ بن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سر کوفہ کی مسجد میں رکھے گئے تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ اچانک لوگوں نے "آگیا، آگیا" کہنا شروع کیا۔ دیکھا کہ ایک سانپ آیا اور عبید اللہ بن زیاد کے سر کے قریب پہنچا۔ سانپ اس کی ناک میں گھس گیا اور کچھ دیر بعد باہر نکل کر چلا گیا۔ پھر وہی آوازیں آنے لگیں، اور وہی سانپ دوبارہ آیا اور پہلے کی طرح کیا۔ یہ منظر دیکھ کر لوگ خوفزدہ ہو گئے۔شمر ذی الجوش کو حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے سامان میں سے کچھ سونا ملا۔ اس نے اس سونے کا کچھ حصہ اپنی بیٹی کو دے دیا۔ اس بیٹی نے وہ سونا ایک سنار کو دیا تاکہ وہ اس سے زیور بنائے۔ لیکن جب سنار نے اس سونے کو آگ میں ڈالا تو وہ جل کر ختم ہوگیا۔ شمر نے باقی سونا بھی سنار کو دیا اور کہا کہ میرے سامنے آگ میں ڈال کر دکھاؤ۔ جب اس نے ایسا کیا تو وہ سونا بھی جل گیا۔

اسی طرح ایک واقعہ ہے کہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے چند بچ جانے والے اونٹوں کو ظالموں نے ذبح کیا اور ان کا گوشت کباب بنانے کے لیے استعمال کیا۔ لیکن ان کے گوشت کا ذائقہ اتنا خراب اور تلخ تھا کہ کوئی اسے کھا نہ سکا۔

ایک ثقہ شخص نے بتایا کہ ایک قبیلہ طے کے شخص سے پوچھا گیا کہ کیا تم نے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ پر جنات کو نوحہ کرتے سنا ہے؟ اس نے جواب دیا: ہاں، میں نے جنات کو یہ کہتے سنا:"رسول اللہ ﷺ نے اس پیشانی کو بوسہ دیا جس کے رخسار روشن ہیں اور جو اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔"

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ابن زیاد نے حکم دیا کہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے سرِ انور کو نیزے پر چڑھا کر کوفہ کی گلیوں میں گھمایا جائے، تو میں اپنے گھر کی کھڑکی میں کھڑا تھا۔ جب آپ کا سر میرے گھر کے قریب سے گزرا تو میں نے سر سے یہ آواز سنی:"کیا تمہیں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی کھوہ اور جنگل کے کنارے والے ہماری ایک عجیب نشانی تھے۔" (سورۃ الکہف: 9)

یہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور میں نے کہا: خدا کی قسم، یہ ابن رسول اللہ ﷺ کا سر ہے، اور اس سے ایسی آواز کا آنا بہت عجیب بات ہے۔

روایت ہے کہ امام زہری رحمہ اللہ ایک دن عبد الملک بن مروان کی مجلس میں موجود تھے۔ وہاں ولید نے پوچھا: "کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن بیت المقدس کے پتھروں کا کیا حال تھا؟" امام زہری نے جواب دیا: "مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اس دن جس پتھر کو بھی اٹھایا جاتا، اس کے نیچے تازہ خون موجود ہوتا۔"

ایک اور روایت میں ذکر ہے کہ جب حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو آسمان سے خون کی بارش ہوئی، اور ہماری ہر چیز خون آلود ہوگئی۔ اس کے علاوہ کئی دنوں تک آسمان بھی خون آلود نظر آتا رہا۔




Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam