امام ابو حنیفہ کا ایک عجیب خواب
امام ابو حنیفہ نے ایک عجیب خواب دیکھا جس میں انہوں نے دیکھا کہ ایک سور ایک درخت کو گرانے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اسی درخت سے ایک شاخ نکل کر سور کو مارتی ہے۔ پھر وہ سور ایک نیک انسان میں بدل جاتا ہے اور اللہ کی عبادت کرنے لگتا ہے۔جب امام ابو حنیفہ جاگے، تو وہ خواب کی تعبیر جاننے کے لیے اپنے استاد شیخ حماد بن سلمان کے پاس گئے۔ اس وقت ان کی عمر صرف بارہ سال تھی۔ لیکن جب وہ پہنچے تو دیکھا کہ شیخ بہت پریشان ہیں۔ امام ابو حنیفہ نے وجہ پوچھی تو شیخ نے بتایا کہ خلیفہ نے انہیں ایسے لوگوں سے مناظرے کے لیے بلایا ہے جو اللہ کے وجود کو نہیں مانتے۔ شیخ فکر مند تھے کہ وہ اللہ کی ذات پر بحث کیسے کریں۔امام ابو حنیفہ نے کہا کہ وہ شیخ کی جگہ جانے کو تیار ہیں۔ اگر وہ کامیاب ہوئے تو یہ ان کے استاد کے لیے باعثِ عزت ہوگا، اور اگر ناکام ہوئے تو وہ تو صرف ایک طالبعلم ہیں۔ شیخ نے اجازت دے دی اور امام ابو حنیفہ خلیفہ کے دربار پہنچ گئے۔مناظرہ شروع ہوا، اور مخالفین نے سوال کیا:1. کیا تم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟امام نے کہا: "میرا رب آنکھوں سے نظر نہیں آتا، لیکن وہ سب کو دیکھتا ہے۔"2. تمہارا رب کہاں ہے؟امام نے چراغ کی مثال دی کہ جیسے روشنی ہر طرف ہوتی ہے، ویسے ہی اللہ ہر جگہ موجود ہے۔3. جنات آگ سے بنے ہیں، تو انہیں آگ سے عذاب کیسے دیا جا سکتا ہے؟
امام نے مٹی کا ایک ڈھیلا اٹھایا اور ایک ملحد کو مارا۔ جب اس نے تکلیف کی شکایت کی، تو امام نے کہا: "یہ مٹی سے بنا ڈھیلا تھا، اور تم بھی مٹی سے بنے ہو، پھر بھی تمہیں تکلیف ہوئی۔ اسی طرح اللہ آگ سے جنات کو عذاب دے سکتا ہے۔"ان جوابات سے مخالفین لاجواب ہو گئے۔ ان کا سردار ایمان لے آیا اور امام کے استاد کے شاگرد بننے کی خواہش ظاہر کی۔یوں امام ابو حنیفہ کا خواب پورا ہوا۔ خواب میں سور ملحدوں کا سردار تھا، درخت علم تھا، اور شاخ امام ابو حنیفہ تھے، جنہوں نے اپنی حکمت سے لوگوں کو اللہ کا قرب دلایا۔
Comments
Post a Comment