حضرت عیسی علیہ السلام، آسمانی دسترخوان

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

ایک دفعہ حضرت عیسی علیہ السلام سے ان کے حواریوں نے یہ عرض کیا کہ اے عیسیٰ ابن مریم کیا آپ کا رب یہ کر سکتا ہے کہ وہ آسمان سے ہمارے پاس ایک دستر خوان اتار دے؟ تو حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا کہ اس طرح کی نشانی طلب کرنے سے اگر تم مومن ہو تو خدا سے ڈرو۔۔ یہ سن کر حواریوں نے کہا کہ ہم نشانیاں طلب کرنے کے لیے یہ سوال نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم پیٹ بھر کر خوب کھائیں ہم کو اچھی طرح آپ کی صداقت کا علم ہو جائے تاکہ ہمارے دلوں کو قرار اور سکون مل جائے۔۔ حواریوں کی اس درخواست پر حضرت عیسی علیہ السلام نے بارگاہ خداوندی میں اس طرح دعا کی۔۔ ترجمہ " اے رب ! ہم پر آسمان سے خواں اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے"۔۔۔۔ (المائدہ 114)حضرت عیسی علیہ السلام کی دعا پر اللہ تعالی نے فرمایا کہ دسترخوان تو اتار دوں گا لیکن اس کے بعد نبی اسرائیل میں سے جو کفر کرے گا اس ایسا عذاب دوں گا کہ تمام جہان والوں میں سےکسی کو ایسا عذاب نہیں دوں گا چنانچہ اللہ تعالی کے حکم سے چند فرشتے ایک دسترخوان لے کر آسمان سے اترے جس میں سات مچھلیاں اور سات روٹیاں تھیں۔۔۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ فرشتے دسترخوان میں روٹی اور گوشت لے کر آسمان سے زمین پر نازل ہوئے اور بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ تلی ہوئی ایک بڑی مچھلی تھی جس میں کانٹا نہیں تھا اس میں سے روغن ٹپک رہا تھا اور اس کے اردگرد قسم قسم کی سبزیاں تھیں اور پانچ روٹیاں تھیں ایک روٹی کے اوپر روغن زیتون دوسری کے اوپر شہد تیسری پر گھی، چوتھی پر پنیر ، پانچویں پر گوشت کی بوٹیاں تھیں۔۔دسترخوان کے ان سامانوں کو دیکھ کر حضرت عیسی علیہ السلام کے ایک حواری شمعون نے کہا جو تمام حواریوں کا سردار تھا کہ اے روح اللہ یہ دسترخان دنیا کے کھانوں میں سے ہے یا آخرت کے حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا نہ تو دنیا کے کھانوں میں سے ہے نہ آخرت کے بلکہ اللہ تعالی نے اپنی قدرت کاملہ سے تمہارے لئے اس کھانے کو ابھی ابھی ایجاد فرما کر بھیجا ہے۔۔حضرت عیسی علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ خوب شکم سے ہو کر کھاؤ وہ خبردار اس میں کسی قسم کی خیانت مت کرنا اور کل کے لیے ذخیرہ بنا کر نہ رکھنا مگر بنی اسرائیل نے اس میں خیانت کر ڈالی اور کل کے لئے ذخیرہ بنا کر رکھ لیا۔ اس نافرمانی کی وجہ سے اللہ تعالی کا ان لوگوں پر یہ عذاب آیا کہ یہ لوگ رات کو سوئے تو اچھے خاصے تھے مگر صبح کو اٹھے تو مسخ ہو کر کچھ خزیر کچھ بندر بن گئے ۔۔

حضرت عیسی علیہ السلام نے ان لوگوں کی موت کے لیے دعا مانگی تو تیسرے دن یہ لوگ مرکر دنیا سے نیست و نابود ہو گئے اور کسی کو یہ بھی نہیں معلوم ہوا کہ ان کی لاشوں کو زمین نکل گیا یا اللہ نے ان کو کیا کر دیا۔۔۔

  

Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam