Hazrat Imam Hussan Busri || امام حسن بصریؒ

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

 شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے... 

..حضرت حسن بصری کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔۔ آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ صحابہ کرام کی صحبت میں گزرا۔اہل طریقت کے ہاں آپ بہت بڑے مقام و مرتبے کے مالک ہیں . میسان کی جنگ میں مسلمان سپاہیوں کو جو قیدی ہاتھ لگے، اُن میں موسیٰ راعی (بعض مؤرخین نے اُن کا نام یسار لکھا ہے) اور ایک خاتون، خیرہ بھی تھی۔ موسیٰ راعی،معروف صحابیؓ،حضرت زید بن ثابت انصاریؓ اور خیرہ ،اُمّ المومنین، حضرت اُمّ ِ سلمہؓ کے سُپرد ہوئیں۔ بعدازاں، اِن دونوں کو آزاد کردیا گیا اور پھر دونوں نے آپس میں شادی کرلی۔ اُن ہی کے بطن سے 21ھ، 642ء میں مدینہ منوّرہ میں حسن بصریؒ پیدا ہوئے۔ گویا اُن کے والدین آزاد کردہ غلام تھے۔یہ حضرت عُمر فاروقؓ کا دَورِ خلافت تھا۔نومولود کو اُن کی خدمت میں لایا گیا، تو اُنھوں نے اُس کے منہ میں کھجور چبا کر ڈالی اور دُعا فرمائی ’’ اے اللہ! اِسے دین کے علم کا ماہر اور لوگوں میں محبوب بنا۔‘‘اور پھر دنیا نے اِس دُعا کی قبولیت اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔ نیز، حضرت عُمر فاروقؓ نے یہ بھی فرمایا،’’ یہ تو بہت خُوب صُورت بچّہ ہے، اِس لیے اِس کا نام حسن رکھو۔‘

اِس خوش نصیب بچّے کو امہات المومنینؓ کے گھروں میں آنے جانے کا موقع ملتا رہتا تھا۔۔حضرت حسن بصریؒ فرمایا کرتے تھے،’’ بچپن میں ازواجِ مطہراتؓ کے گھروں میں میرے آنے جانے اور کھیل کود سے چہل پہل رہتی۔ بعض اوقات مَیں اُچھلتا کودتا گھروں کی چھتوں پر چڑھ جاتا۔‘‘ اِس طرح اُن کی تربیت امہات المومنینؓ کے گھروں کی پاکیزہ فضاؤں میں ہوئی۔ دس برس کی عُمر میں قرآنِ پاک حفظ کرلیا تھا۔14 برس کے ہوئے تو والدین کے ساتھ بصرہ منتقل ہوگئے۔

آپ کم عمری میں ہی صحابۂ کرامؓ کی مجالس میں شریک ہونے لگے تھے۔ خواجہ فرید الدّین عطارؒ نے’’ تذکرۃ الاولیاء‘‘ میں لکھا ہے کہ خواجہ حسن بصریؒ نے ایک سو بیس صحابۂ کرامؓ کی زیارت کی، جن میں ستّر بدری صحابہؓ تھے۔22 برس کے ہوئے، تو جہاد میں شامل ہوگئے اور دس برس تک مختلف محاذوں پر اسلامی لشکر میں شامل ہوکر دادِ شجاعت لیتے رہے۔مؤرخین نے کابل کی جنگ میں آپؒ کی بہادری کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔یہاں تک کہ کئی ایک نے تو انھیں عرب کے نام وَر بہادروں میں شمار کیا ہے۔ اِس دس سالہ جہاد میں اُنھیں بہت سے صحابۂ کرامؓ کی صحبت بھی میسّر آئی، جو اِن لشکروں میں شامل تھے اور اِسی دوران اُنھوں نے علوم و معارف کے اسباق حاصل کیے۔کچھ عرصے تک والیٔ خراسان کے منشی کے طور پر بھی کام کیا، بصرہ کے قاضی بھی مقرّر ہوئے، مگر جلد ہی اِن امور سے الگ ہوگئے

 آپؒ عالم باعمل، فقیہ، علمِ حدیث کے ماہر، صوفی، مجاہد، مدرّس اور فصیح اللسّان تھے، اِس لیے آپؒ کی مجلسِ وعظ نے بہت جلد شہرت حاصل کرلی، جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے، جن میں بڑے بڑے علماء اور حبیب عجمیؒ اور رابعہ بصریؒ جیسے اہل اللہ بھی شامل تھے۔

ایک دفعہ ایک شخص نے پوچھا،’’ یاشیخ! مسلمانی کیا ہے اور مسلمان کون ہیں؟‘‘آپؒ نے جواب دیا،’’ مسلمانی کتابوں میں ہے اور مسلمان زیرِ خاک ہیں۔‘‘ کسی نے کہا’’ ہمارے قلوب سوئے ہوئے ہیں کہ آپؒ کی باتوں کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا، ہم کیا کریں؟‘‘ فرمایا،’’کاش! تمہارے دل سوئے ہوتے، کیوں کہ سوئے ہوئے کو جھنجوڑ کر جگایا جا سکتا ہے۔ تمہارے قلوب تو مر گئے ہیں، جو جھنجوڑ نے پر بھی بیدار نہیں ہوتے‘‘ایک شخص آپؒ کی مجلس میں آیا اور خشک سالی کی شکایت کی۔ آپؒ نے اُسے استغفار کی تلقین کی۔ کچھ دیر بعد دوسرا شخص آیا۔اُس نے بے اولادی کی شکایت کی۔آپؒ نے اُسے بھی استغفار کی تلقین کی۔کچھ دیر بعد ایک اور شخص آیا، جس نے فقر و فاقے اور تنگ دستی کی شکایت کی۔آپؒ نے اُسے بھی استغفار کی تلقین کی۔ کسی نے اظہارِ تعجب کیا کہ سب کے الگ الگ مسائل، مگر جواب ایک ہی؟

تو امام حسن بصریؒ نے فرمایا’’کیا تم نے قرآنِ پاک کی یہ آیات نہیں پڑھیں، ترجمہ:’’ چناں چہ مَیں نے اُن سے کہا(یعنی حضرت نوحؑ نے اپنی قوم سے)کہ اپنے پروردگار سے مغفرت مانگو، یقین جانو، وہ بہت بخشنے والا ہے،وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقّی دے گا اور تمہاری خاطر نہریں مہیا کردے گا۔( سورۂ نوح)۔‘‘ 

ایک شخص نے آپؒ کی غیبت کی، تو معلوم ہونے پر تازہ کھجوروں سے بھرا ایک تھال تحفے کے طور پر اُس کے پاس اِس پیغام کے ساتھ بھجوایا،’’سُنا ہے تم نے اپنی نیکیاں میرے نامۂ اعمال میں منتقل کردی ہیں۔‘‘

آپؒ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو عاجزی و کثرتِ گریہ تھی۔ اپنے دَور کے بڑے عالم، فقیہہ اور عبادت گزار ہونے کے باوجود دِکھاوے سے کوسوں دُور تھے۔ ہمیشہ باوضو رہتے۔ کثرت سے روزے رکھتے۔ اللہ کی محبّت اور اُس کی ناراضی کے خوف سے اِتنا روتے کہ آنکھوں میں گڑھے پڑ جاتے۔ 

سلسلہ عالیہ نقش بندیہ کے علاوہ طریقت کے باقی تمام سلاسل کی آپؒ ہی کے ذریعے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے نسبت ہے۔ اہلِ علم میں اِس امر پر اختلاف ہے کہ آپؒ کی حضرت علی المرتضیٰؓ سے ملاقات ہوئی یا نہیں؟ کئی ایک کا کہنا ہے کہ آپؒ کبھی بھی اُن سے نہیں ملے، لیکن بہت سے علماء کے مطابق آپؒ نہ صرف یہ کہ حضرت علی المرتضیٰ ؓکی زیارت سے مشرّف ہوئے، بلکہ اُن سے فیض بھی حاصل کیا۔ آپؒ کی اصل کرامت تو یہی ہے کہ ہزار ہا افراد کو علم و تقویٰ کی راہ دِکھائی، مگر آپؒ سے کئی دیگر کرامات بھی منسوب ہیں۔ آپؒ حج کے لیے روانہ ہوئے، تو راہ میں ساتھیوں کو شدّت سے پیاس لگی۔ ایک کنویں پر نظر پڑی، لیکن وہاں کوئی رسّی تھی اور نہ ڈول۔جب آپؒ کو معلوم ہوا، تو فرمایا،’’ جب مَیں نماز میں مشغول ہو جاؤں، تو تم پانی پی لینا۔‘‘آپ ؒنماز کے لیے کھڑے ہوئے، تو کنویں سے پانی اُبل پڑا اور سب لوگوں نے پانی پیا، جب کہ ایک شخص نے کچھ پانی ایک برتن میں رکھ لیا، جس پر کنواں ایک دَم پرانی حالت میں آگیا۔آپ ؒنے فرمایا،’’ تم نے اللہ پر اعتماد نہیں کیا، یہ اُسی کا نتیجہ ہے؟‘‘معروف کتاب’’تذکرۃ الاولیاء‘‘ میں اِسی سفر کی یہ کرامت بھی درج ہے کہ آپ ؒنے لوگوں کو راستے میں سے کچھ کھجوریں اُٹھا کر دیں، جن کی گٹھلیاں سونے کی تھیں۔ لوگوں نے وہ گٹھلیاں بیچ کر کھانے پینے کا سامان خریدا اور صدقہ بھی کیا۔آپؒ کی ازدواجی زندگی اور اولاد سے متعلق زیادہ مواد دست یاب نہیں، تاہم کئی مقامات پر آپؒ کے لیے ابو محمّد، ابو سعید، ابو النصر اور ابو علی کی کنیت استعمال ہوئی ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ آپؒ کے کئی صاحب زادے تھے۔

آپؒ کا وصال یکم رجب 110 ہجری کو 89 برس کی عُمر میں بصرہ میں ہوا، وہیں آج بھی آپؒ کا مزار ہے۔آپ کے تاریخ وصال میں اختلاف پایا جاتا ہے۔۔۔بعض نے تاریخِ وفات 4 محرم الحرام، 111 ہجری،15 اکتوبر 728ء بھی تحریر کی ہے۔ تعبیرِ رویاء کے امام، حضرت محمّد بن سیرینؒ کو کسی نے کہا’’ مَیں نے خواب دیکھا کہ ایک پرندے نے مسجد سے سب سے بہترین کنکری لے لی‘‘ تو حضرت ابنِ سیرینؒ نے فرمایا،’’ اگر تمہارا خواب سچّا ہے، تو یہ حضرت حسن بصریؓ کی موت ہے، کیوں کہ وہی ہمارے درمیان مسجد میں سب سے بہتر ہیں۔‘‘ چند دن بعد ہی آپؒ کے انتقال کی خبر آگئی۔ نمازِ جمعہ کے بعد آپؒ کی نمازِ جنازہ پڑھائی گئی، تو پورا بصرہ اُمڈ آیا۔کہا جاتا ہے کہ بصرہ میں یہ پہلا موقع تھا، جب جامع مسجد میں عصر کی نماز نہیں پڑھی گئی، کیوں کہ تمام لوگ جنازے کے ساتھ چلے گئے تھے اور نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں کوئی شخص نہیں تھا 

Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam