حضرت بہلول دانا ؒاور خلیفہ ہارون الرشید

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے..

بہلول ایک فلاسفر، ولی کامل اور تارک الدنیا درویش کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ ان کا کوئی گھر یا ٹھکانہ نہیں تھا، شہر میں ننگے پاؤں پھرتے اور جس جگہ تھک جاتے، وہیں ڈیرہ ڈال لیتے۔ بعض لوگوں نے انہیں مجذوب بھی لکھا ہے کیونکہ وہ عشق الٰہی میں گم اور اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوتے تھے۔۔

۔کوفہ میں پیدا ہونے والے بہلول کا اصل نام وہب بن عمرو اور تعلق عرب قبیلے بنو امان سے تھا۔۔

خلیفہ ہارون الرشید سے ان کی ملاقات 188 ہجری میں سفر حج کے دوران کوفہ میں ہوئی، جس کا ذکر امام ابن کثیر نے بھی کیا ہے۔ بہلول نے ہارون کو جو نصیحتیں کیں ان سے متاثر ہو کر وہ انہیں اپنے ساتھ بغداد لے آیا اور پھر بہلول کا ٹھکانہ بغداد کی گلیاں ہی رہیں۔ بہلول کا مزار بھی بغداد میں ہی ہے جس کے ایک گوشے کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں سکھ مذہب کے بانی گرو نانک نے چلہ کاٹا تھا۔

آج کی اس ویڈیو میں ہم بہلول دانا کی دانائی کے کچھ واقعات بیان کریں گے۔ویڈیو کی طرف جانے سے پہلے آپ سے گزارش ہے ویڈیو کو لائک اور چینل کو سبسکرائب کرنا مت بھولیے گا۔۔۔۔امید ہے آپ کو ہماری ویڈیو پسند آئے گی بہلول عموما شہر میں ننگے پاؤں پھرتے رہتے تھے ۔ وہ جب کسی جگہ بیٹھ جاتے تھے تو لوگ ان کے گرد گھیرا ڈال لیتے تھے… اس کے بعد بہلول دانا بولتے رہتے تھے اور لوگ ان کے اقوال لکھتے رہتے تھے ۔اگر کسی دن ان کا موڈ ذرا سا خوشگوار ہوتا تو وہ لوگوں کو سوال کرنے کی اجازت بھی دے دیتے تھے اور اس کے بعد لوگ ان سے مختلف قسم کے سوال پوچھتے رہتے تھے۔ ہارون الرشید بھی ان کا بہت بڑا مرید تھا۔ جب کبھی بہلول دانا کا موڈ ذرا سا بہتر ہوتا تھا تو وہ بھی ان کی محفل میں شریک ہو جاتا تھا ۔ایک دن بہلول دانا محل کے پاس آ گے۔ ہارون الرشید کو اطلاع ملی تو وہ ان کے پاس حاضر ہو گیا ۔ بہلول نے ہارون الرشید کی طرف دیکھا اور غصے سے پوچھا :ہاں !بتاؤ کیا مسئلہ ہے ؟ ہارون الرشید نے کہا :حضور !جب اﷲ تعالی کسی حکمران سے خوش ہوتا ہے تو وہ اس کو کیا تحفہ دیتا ہے ؟ بہلول دانا رح نے غور سے اس کی طرف دیکھا اور بولے : اﷲ اسے درست اور بروقت فیصلے کی قوت دیتا ہے ۔ ہارون الرشید نے پوچھا :اور اگر اﷲ کسی حکمران سے ناراض ہو جائے تو وہ اس سے کون سی چیز چھین لیتا ہے؟ بہلول دانا نے چند لمحے سوچا اور ہنس کر بولے :فیصلہ کرنے کی قوت ۔ہارون الرشید نے پھر پوچھا :حضور! بادشاہ کو کیسے پتہ چلے گا کہ اﷲ اس سے خوش ہے یا ناراض؟ اس سوال پر بہلول دانا چند لمحے خاموش رہے آسمان کی طرف نظریں اٹھائیں اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولے :ہارون الرشید! جب اﷲ تعالی کسی شخص سے خوش ہوتا ہے تو وہ اس کو عزت اور مرتبے سے نوازتا ہے لیکن جب اﷲ کسی سے ناراض ہوتا ہے تو وہ اس شخص کو نفرت کی علامت بنا دیتا ہے ۔خلق خدا اس سے پناہ مانگنے لگتی ہے اور اس کی زندگی عبرت کا نشان بن جاتی ہے۔ ہارون الرشید کے ماتھے کے شکنیں گہری ہو گئیں ۔اس نے ایک لمبی آہ بھری ۔اس کے بعد بہلول سے عرض کیا :اور حضور! جب اﷲ کسی بادشاہ سے ناراض ہو جائے تو اس کا انجام کیا ہوتا ہے ۔بہلول دانا نے غور سے ہارون الرشید کی طرف دیکھا، پھر مسکراے اور بولے :ہارون! جب کوئی شخص قدرت کے انجام کا شکار ہوتا ہے تو در در کی ٹھوکریں اس کا مقدر بن جاتی ہیں ۔وہ سونے میں ہاتھ ڈالتا ہے تو ریت اس کی مٹھی میں آتی ہے ۔وہ اپنے تئیں اچھا فیصلہ کرنا چاہتا ہے یکن قدرت اسے بے عزت کر دیتی ہے ۔اس کے اپنے بھی پرائے ہو جاتے ہیں اور وہ اپنی زندگی سے تنگ آ کر اپنا گلہ خود ہی گھونٹ دیتا ہے

بہلول دانا کا ایک اور مشہور واقعہ جو معروف بزرگ سری سقطی نے بیان کیا ہے۔۔۔معروف بزرگ سیدنا سری سقطی فرماتے ہیں، ایک بار مجھے قبرستان جانا ہوا۔ وہاں میں نے بہلول دانا کو دیکھا کہ ایک قبر کے قریب بیٹھے مٹی میں لوٹ پوٹ ہو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا، آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں۔ جواب ملا، میں ایسی قوم کے پاس ہوں جو مجھے اذیت نہیں دیتی اور اگر میں غائب ہو جاؤں تو میری غیبت بھی نہیں کرتی۔

ایک دن بہلول بازار میں بیٹھے تھے کہ کسی شخص نے پوچھا، بہلول کیا کر رہے ہو تو بہلول نے کہا کہ بندوں کی اللہ سے صلح کرا رہا ہوں۔ اس شخص نے کہا کہ پھر کیا بنا، بہلول نے کہا کہ اللہ تو مان رہا ہے لیکن بندے نہیں مان رہے۔ کچھ عرصہ بعد اسی شخص کا ایک قبرستان کے پاس سے گزر ہوا تو دیکھا، بہلول قبرستان میں بیٹھے ہیں۔قریب جا کر پوچھا، بہلول کیا کر رہے ہو۔ بہلول نے کہا بندوں کی اللہ سے صلح کرا رہا ہوں۔ اس شخص نے کہا کہ پھر کیا بنا، بہلول نے کہا کہ بندے تو مان رہے ہیں مگر آج اللہ نہیں مان رہا۔

بہلول سے ایسے درجنوں واقعات اور دانائی کی باتیں منسوب ہیں۔ کچھ لوگ اسے کتابی باتیں کہتے ہیں اور بعض اسے روحانیت کی معراج مانتے ہیں لیکن یہ طے ہے کہ جو بہلول دانا کہہ گئے وہ پتھر پر لکیر ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam