حضرت ابراہیم بن ادہم رحمتہ اللہ علیہ



بسم اللہ الرحمن الرحیم 

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔حضرت شیخ ابو اسحاق ابراہیم بن ادہم بن منصور رحمتہ اللہ علیہ ہم عصروں کے پیشوا اور مروان طریقت کے شہنشاہ تھے۔۔۔۔۔آپ حضرت خضر علیہ السلام کے مرید تھے آپ نے کئی مشائخ کی زیارت کی اور ان کی صحبت سے فیض اٹھایا، زیادہ اٹھنا بیٹھنا حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے تھا۔۔انہی سے آپ نے علم حاصل کیا۔۔۔ آپ خراسان میں ایک بادشاہ کے بیٹے تھے اور شکار کے دلدادہ تھے ایک دفعہ شکار کیلئے نکلے اسی دوران ایک لومڑ کے پیچھے لگ گئے آور لشکر سے بچھڑ گئے۔۔۔ایک ندا دینے والے نے پکارا! اے ابراھیم تجھے اس کام کے لیے پیدا نہیں کیا اور نہ تجھے اس کا حکم دیا گیا ہے۔۔یہ بات آپ کی توبہ کا سبب بنی۔۔آپ سواری سے اتر پڑے اور راستے میں اپنے والد کے چرواہے سے ملے ۔چرواہے سے جبہ لیا،اسے زیب تن کیا اور اپنے کپڑے اسے دے دیے پھر آپ عراق آ گئے اور کئی روز وہاں کام کرتے رہے لیکن وہاں انہیں خالص حلال رزق نہ ملا تو آپ نے ایک شیخ سے حلال رزق کے متعلق دریافت کیا۔۔ تو اس نے آپ کو شام کی طرف آپ کی رہنمائی کی وہاں آپ نے کئی روز کام کیا وہاں آپ باغات کی دیکھ بھال اور فیصلیں کاٹتے تھے۔۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ آپ کو شام میں خوشگوار زندگی ملی۔۔آپ اپنے دین کو لے کر ایک چوٹی سے دوسری چوٹی کی طرف ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ کی طرف بھاگتے جو شخص بھی آپ کو دیکھتا وہ کہتا تھا اس کی عقل خراب ہے۔۔۔ پھر آپ مکہ آگئے اور حضرت سفیان ثوری اور حضرت فضیل بن عیاض کی صحبت اختیار کی اور پھر ملک شام تشریف لے گئے اور یہی فوت ہوگئے ۔۔۔آپ صرف اپنے ہاتھ کی کمائی مثلا کٹائی، مزدوری باغات کی حفاظت کر کے کھانا کھاتے تھے ۔۔طریقت و معرفت میں آپ کے اشارات ظاہر اور کرامتیں مشہور ہیں۔ تصوف کے حقائق میں آپ کے کمالات نہایت لطیف و نفیس ہیں۔۔حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کے بارے میں فرمایا:" حضرت ابراہیم ادہم طریقت و معرفت کے علوم کی کنجیاں ہیں ۔ حضرت ابراہیم بن ادہم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی صحبت اختیار کر کے لوگوں کو ایک طرف چھوڑ دو۔حضرت ابراہیم بن ادہم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب میں بیابان میں پہنچا تو ایک بوڑھے نے مجھ سے کہا اے ابراہیم ! تم جانتے ہو یہ کونسا مقام ہے جہاں بغیر تو شہ کے سفر کر رہے ہو؟ میں سمجھ گیا کہ یہ شیطان ہے ( جو غیر کی طرف مجھے پھیرنا چاہتا ہے ) میرے پاس اس وقت چار سکے تھے جو اس زنبیل کی قیمت کے تھے جسے میں نے کوفہ میں خود فروخت کر کے حاصل کیا تھا انہیں جیب سے نکال کر پھینک دیا اور عہد کیا کہ ہر میل پر چار سو رکعت نماز پڑھوں گا۔ میں چار سال بیابان میں رہا اللہ تعالیٰ نے ہر وقت بے مشقت مجھے روزی عطا فرمائی اسی اثنا میں حضرت خضر علیہ اسلام کی صحبت حاصل ہوئی اور مجھےاسم اعظم کی تعلیم دی اس وقت میرا دل یکدم غیر سے خالی ہو گیا۔  

 حضرت ابراہیم بن ادہم رحمتہ اللہ علیہ تقوی اور ورع کے اعلی مقام پر فائز تھے۔ آپ کا ارشاد ہے: "حلال کماؤ ! پھر چاہے رات بھر نوافل نہ بھی پڑھو اور دن کو نفلی روزہ نہ بھی رکھو تو کوئی حرج نہیں ۔شیخ علیہ الرحمۃ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے: "اے اللہ ! مجھے معصیت کی ذلت سے نکال کر اپنی تابعداری کی عزت کی طرف منتقل فرمادے۔“

ایک دفعہ حضرت ابراہیم بن ادہم رحمتہ اللہ علیہ سے عرض کیا گیا:گوشت کے دام مہنگے ہو گئے ہیں ۔“آپ نے فرمایا :اسے کم زر کردو ! یعنی نہ خریدو "پھر یہ شعر پڑھا:جس کا ترجمہ یہ ہے!""اور جب بھی کوئی چیز مہنگی ہو جاتی ہے تو میں اسے ترک کر دیتا ہوں ۔ پس وہ سستی ہو جاتی ہے مہنگی ہونےکے باوجود "شیخ سہل بن ابراہیم علیہ الرحمتہ کا ارشاد ہے کہ میں شیخ ابراہیم بن ادھم کے ساتھ رہتا تھا۔ ایک مرتبہ میں بیمار پڑ گیا۔ شیخ نے میری دوا اور غذا کے لیے خوب خرچ کیا۔ مجھے کسی چیز کے کھانے کی خواہش ہوئی تو اپنی سواری والا گدھابیچ کر اس کی قیمت مجھ پر خرچ کر ڈالی۔ جب بیماری کا زور ختم ہوا اور مجھے ہوش آیا تو میں نے عرض کیا:اے ابراہیم ! گدھا کہاں گیا ؟“کہنے لگے:ہم نے بیچ ڈالا ۔"میں نے عرض کیا:اب میں سفر کس پر کروں گا؟“شیخ فرمانے لگے:بھائی !میری گردن پر""اور تین منزلوں تک مجھے گردن پر اٹھا کر سفر طے کیا۔ ایک دفعہ حضرت ابراہیم بن ادھم نے کعبتہ اللہ کا طواف کرتے ہوئےایک صاحب حال سے فرمایا: جان لو جب تک تم یہ چھ مسافتیں عبور نہ کر لوگے تو صلحاء کے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکو گے ۔ پہلی : باب سہولت ( ناز و نعمت کے دروازہ) کو اپنے اوپر بند کر دو اور سختی کا دروازہ کھول لو ۔ دوسری: باب عزت ( ظاہری شان و شوکت کے دروازہ) کو بند کر کے باب ذلت اللہ کی بارگاہ میں انکساری کے دروازہ) کو کھول لو۔تیسری: آرام و سکون کا دروازہ بند کر کے محنت کا دروازہ کھول لو۔ چوتھی: راحت کا دروازہ بند کر کے رات بھر جاگنے کا دروازہ کھول لو۔ پانچویں : مالداری کا دروازہ بند کر کے فقر و فاقہ کا دروازہ کھول لو۔ چھٹی : آرزؤں کادروازہ بند کر کے موت کی تیاری کا دروازہ کھول لو۔“ایک دفعہ ایک عالم نے کہا کہ مجھے نصیحت کیجئے آپ نے کہا دم بننا سر نہ بننا کیونکہ دم بچ جاتی ہے اور سر کچلا جاتا ہے ۔۔

ایک دفعہ حضرت اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ آپ کو لکھا کہ اے ابراہیم! میں تمہاری صحبت میں رہنا چاہتا ہوں اس کے جواب میں آپ نے ان کو لکھ بھیجا کہ چڑیا دوسرے جنس کے پرندوں میں ملنا چاہتی ہے تو یہ پرندے اڑ جاتے ہیں اور اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔آپ کے سال وفات کے بارے میں اختلاف ہے بہرحال مختلف روایات کی روشنی میں آپ کی وفات (160ھ / 876ء اور 166ھ/894ء) کے عرصہ کے دوران قرار پاتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق26 جمادی الاولی 161ھ کو وصال فرمایا، واللہ اعلم

Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam