علوی فرقہ

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

شام کے دارالحکومت دمشق میں باغی گروہ ’ہیئت تحریر الشام‘ اور دیگر باغیوں کے قبضے کے بعد بشار الاسد کے 24 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد شام میں موجود علوی فرقے کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

بشار الاسد اور ان کے والد حافظ الاسد، دونوں کا تعلق علوی فرقے سے تھا۔ یہ فرقہ شام میں ایک اقلیتی گروہ ہے، لیکن پچھلے 50 سالوں تک ایک سنی اکثریتی ملک پر ان کی حکومت رہی۔ علوی فرقے کے عقائد کے بارے میں عام طور پر بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔

شام میں علوی فرقے کے افراد کی آبادی کا اندازہ 10 سے 13 فیصد کے درمیان لگایا جاتا ہے۔ 1970 میں حافظ الاسد نے ایک فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار حاصل کیا اور علوی فرقے کے افراد کو اہم حکومتی عہدوں اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعینات کیا۔

علوی فرقے کا آغاز نویں اور دسویں صدی کے دوران شام میں ہوا۔ اس فرقے کو پہلے "نصیریہ" کہا جاتا تھا۔ تاریخ کے مطابق، علویوں نے صلیبی جنگوں اور مختلف مظالم کے بعد شام میں اپنی جگہ بنائی۔

علوی کے معنی ہیں "حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پیروکار۔" شیعہ مسلمانوں کی طرح علوی بھی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پہلا امام ہونا چاہیے تھا۔ تاہم، علویوں کے بارے میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اللہ کے بعد سب سے زیادہ قابل احترام سمجھتے ہیں، حتیٰ کہ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ حضرت علی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اہمیت دیتے ہیں۔

۔ اسی لیے کئی سنی مسلمان اس فرقے کو ناپسند کرتے ہیں، لیکن علوی علماء اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ ان کے عقائد اسلام سے مختلف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور قرآن کو اپنی مقدس کتاب مانتے ہیں۔

علویوں کے عقائد کے بارے میں کئی نظریات موجود ہیں۔ انہیں مشرقِ وسطیٰ میں ایک لبرل اور سیکولر فرقہ سمجھا جاتا ہے، لیکن ان کے عقائد پر دیگر فرقوں کی جانب سے تنقید بھی ہوتی ہے۔ علوی فرقے میں کچھ ایسے تہوار بھی منائے جاتے ہیں جو دوسرے فرقوں میں غیر معمولی سمجھے جاتے ہیں، جیسے کرسمس اور زرتشتی نئے سال کا جشن

۔ یہ فرقہ شام کے ساحلی علاقوں جیسے لاذقیہ اور طرطوس میں زیادہ تر آباد ہے۔ کچھ افراد ترکی اور لبنان کے مختلف علاقوں میں بھی موجود ہیں۔

2011 میں جب مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حکمرانوں کے خلاف بغاوت ہوئی، تو شام میں بھی بشار الاسد کے خلاف احتجاج ہوا، لیکن یہ ناکام رہا۔ اس بغاوت کو فرقہ وارانہ رنگ دیا گیا کیونکہ زیادہ تر مظاہرین سنی تھے۔ بشار الاسد کی حکومت میں زیادہ تر اہم عہدے علوی افراد کو دیے گئے تھے، جس کی وجہ سے شام میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ گئی۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بشار الاسد نے اپنے اقتدار کے دوران اہم حکومتی اور عسکری عہدوں پر علوی افراد کو تعینات کیا، جس کی وجہ سے علوی فرقہ حکومتی طاقت کا مرکز بن گیا۔ تاہم، علوی فرقے کے تمام افراد بشار الاسد کی حمایت نہیں کرتے۔ ان میں سے بہت سے افراد شام کی پہاڑی علاقوں میں رہتے ہیں اور انہیں اسد حکومت کے فوائد نہیں پہنچے.

Comments

Popular posts from this blog

اُلٹے کام سیدھے کیسے ہوں ؟

The Patience of Prophet ZulKifl (AS) and the Devil's Trick

Who is Jibreel? His Names, Duties, and Virtues in Islam